مسنداحمد

Musnad Ahmad

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان

۔

۔ سیدنا ابو تمیمہ ہجیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتا ہے: میں مدینہ کے ایک راستہ پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا، آپ پر کاٹن کا تہبند تھا، جس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا، میں نے کہا: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (آپ پر سلام ہو، اے اللہ کے رسول!) لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ کہا کرو، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ یہ الفاظ بھی دو تین بار دوہرائے۔

۔

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا اور فرمایا: دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا، وہ بھی بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بیس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور وہ بھی بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تیس نیکیاں حاصل کی ہیں۔

۔

۔ بنو نمیر کا ایک آدمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ابا جان آپ کو سلام کہتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ وَعَلٰی اَبِیْکَ السَّلَامُ (تم پر اور تیرے باپ پر بھی سلام ہو)۔