TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب

Chapter 1 of قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 3 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۸۳۲۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّ اُمَّتَکَ مُخْتَلِفَۃٌ بَعْدَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَاَیْنَ الْمَخْرَجُ یَا جِبْرِیْلُ؟ قَالَ: فَقَالَ: کِتَابُ اللّٰہِ تَعَالٰی، بِہٖیَقْصِمُ اللّٰہُ کُلَّ جَبَّارٍ، مَنِ اعْتَصَمَ بِہٖنَجَا،وَمَنْتَرَکَہٗھَلَکَ،مَرَّتَیْنِ، قَوْلٌ فَصْلٌ وَلَیْسَ بِالْھَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُہُ الْاَلْسُنُ، وَ لَا تَفْنٰی اَعَاجِیْبُہُ، فِیْہٖ نَبَاُمَا کَانَ قَبْلَکُمْ، وَفَصْلُ مَا بَیْنَکَمُ،وَخَبْرُ مَا ہُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ کے بعد آپ کی امت اختلاف کا شکار ہو گی، میں نے کہا: اے جبریل! اس اختلاف سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کی شان توڑتا ہے، جو اس کو تھامے گا، وہ نجات پائے گا، جو اسے چھوڑ دے گا، وہ ہلاک ہوگا، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا،یہ فیصلہ کن کلام ہے اور یہ مذاق نہیں (حقیقت پہ مبنی سچا کلام ہے) زبانیں اس جیسا کلام پیش نہیں کر سکتیں، اس کے عجائبات اور اسرار ختم نہیں ہوتے، اس میں تم سے پہلوں کی خبریں ہیں،تمہارے مابین ہونے والے فیصلے ہیں اور تمہارے بعد ہونے والی اخبار کا بیان ہے۔
Takhreej
(۸۳۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث بن عبد اللہ الاعور، ثم ھو منقطع، محمد بن اسحاق، لاتعرف لہ روایۃ عن محمد بن کعب القرظی ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۰۶(انظر: ۷۰۴)
8321
Zaeef
۔ (۸۳۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ: ((أَ نَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْأُمِّیُّ، قَالَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلَا نَبِیَّ بَعْدِی، أُوتِیتُ فَوَاتِحَ الْکَلِمِ، وَخَوَاتِمَہُ، وَجَوَامِعَہُ، وَعَلِمْتُ کَمْ خَزَنَۃُ النَّارِ وَحَمَلَۃُ الْعَرْشِ، وَتُجُوِّزَ بِی وَعُوفِیتُ وَعُوفِیَتْ أُمَّتِی، فَاسْمَعُوْا وَأَ طِیعُوا مَا دُمْتُ فِیکُمْ، فَإِذَا ذُہِبَ بِی فَعَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ، أَ حِلُّوا حَلَالَہُ وَحَرِّمُوا حَرَامَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۰۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں الوداع کہہ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد نبی اُمّی ہوں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، مجھے کلمات کی ابتدائی، انتہائی اور جامع صورتیں عطا کی گئی ہیں، مجھے یہ بھی علم ہے کہ دوزخ کے نگران کتنے فرشتے ہیں اور اللہ تعالی کے عرش کو اٹھانے والے کتنے فرشتے ہیں، میری امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت ساری تکالیف سے درگزر کیا گیاہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت دی گئی ہے،جب تک میں تم میں موجود ہوں، میری بات سنو اور اطاعت کرو اور جب میں دنیا سے رخصت ہو جائوں توکتاب اللہ پرعمل لازم پکڑنا، اس کی حلال کردہ اشیا کو حلال سمجھنا اور اس کے حرام کردہ امور کو حرام سمجھنا۔
Takhreej
(۸۳۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ، وعبد الرحمن بن مریح مجھول، ھکذا قال ابن حجر فی اللسان ، لکنہ قال فی التعجیل : ھو رجل مشہور، لہ ادراک (انظر: ۶۶۰۶)
Explanation
فوائد: … آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے، سمندر کو کوزے میں بند کر دینا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کلام کا وصف تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گفتگو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہوتی تھی۔ جَوَامِعُ الکَلِم: ان سے مرادیہ ہے کہ بظاہر تو کلام مختصر اور کم حروف والے الفاظ پر مشتمل ہو، لیکن وہ اپنے اندر کئی معانی اور احکام کو سموئے ہوئے ہو۔
8322
Zaeef
۔ (۸۳۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنَ الْاَنْبِیَائِ نَبِیٌّ اِلَّا وَقَدْ اُعْطِیَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہٗآمَنَعَلَیْہِ الْبَشَرُ، وَاِنَّمَا کَانَ الَّذِیْ اُوْتِیْتُ وَحْیًا اَوْحَاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیَّ، وَاَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ اَکْثَرَھُمْ تَبَعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو اتنے معجزات اور نشانیاں عطا کی گئی ہیں کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ وحی ہے، اللہ تعالی نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔
Takhreej
(۸۳۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۸۱، ۷۲۷۴، ومسلم: ۱۵۲، ۲۳۹ (انظر: ۷۴۹۱)
Explanation
فوائد: … ہر نبی کو اس کے زمانے کے مطابق معجزات اور خارق عادت امور عطا کیے گئے، جن سے ان کی تصدیق ہوتی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی مختلف معجزات عطا کیے گئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد والے افراد کو بھی حیران و ششدر کیے رکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لانے والوں کی اکثریت قرآن مجید سے متأثر ہوئی، اب پندرہویں صدی جاری ہے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہونے والے کلام اور خود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کلام کا اعجاز قائم ہے اور قائم رہے گا۔
8323
Sahih
۔ (۸۳۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الصِّیَامُ وَالْقُرْآنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یَقُولُ الصِّیَامُ: أَ یْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّہَوَاتِ بِالنَّہَارِ فَشَفِّعْنِی فِیہِ، وَیَقُولُالْقُرْآنُ: مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِی فِیہِ۔)) قَالَ: ((فَیُشَفَّعَانِ)) (مسند احمد: ۶۶۲۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاـ روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے سے روکے رکھا، پس تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اُدھر قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کو نہ سونے دیا، پس تو اس کے حق میری سفارش قبول فرما۔ سو ان کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔
Takhreej
(۸۳۲۴) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی المشکاۃ ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۵۴، والبیھقی فی الشعب : ۱۹۹۴ (انظر: ۶۶۲۶)
Explanation
فوائد: … قرآن کریم اور روزہ، دونوں کی سفارش کے الفاظ پر غور کریں تاکہ ہم میں قرآن پر عمل کرنے، رات کو قیام کرنے اور روزے کے تقاضے پورے کرنے کی رغبت پوری ہو۔
8324
Sahih
۔ (۸۳۲۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِیْ اِھَابٍ، ثُمَّ اُلْقِیَ فِی النَّارِ مَا احْتَرَقَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۹۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اگر قرآن پاک کو چمڑے میں رکھ دیا جائے پھر آگ میں ڈال دیا جائے تو جلے گا نہیں۔
Takhreej
(۸۳۲۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی صحیحتہ ۔ أخرجہ الدارمي في سننہ : ۲/۴۳۰، والطحاوي في مشکل الآثار : ۱/۳۹۰، وأبوالقاسم بن عبدالحکم في فتوح مصر : ۲۸۸، وأبویعلي في مسندہ : ۳/۲۸۴/۱۷۴۵، والطبراني في المعجم الکبیر : ۱۷/۳۰۸، وابن عدي في الکامل : ۶/۴۶۹، والبیہقي في الشعب : ۲/۵۵۴/۲۶۹۹ وفي الأسماء والصفات : ۲۶۴(انظر: ۱۷۳۶۵)
Explanation
فوائد: …شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: مناوی نے فیض القدیر میں اس حدیث کا مفہوم واضح کرنے کے لیے لمبی اور بے فائدہ بحث کی۔ ظاہری معنی وہی ہے جو امام بیہقی جیسے محدثین نے مراد لیا۔ وہ شعب الایمان میں ابو عبد اللہ بوشنجی کے حوالے سے کہتے ہیں: یَعْنِی اَنَّ مَنْ حَمَلَ الْقُرْآنَ وَقَرَأَ ہُ لَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔ جس نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر اس کو پڑھتا رہا تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ امام احمد نے کہا، جیسا کہ الأسمائ میںنقل کیا گیا ہے: وَاِنَّ مِمَّا لاَ شَکَّ فِیْہِ: اَنَّ الْمُرَادَ حَامِلُ الْقُرْآنِ وَحَافِظُہُ وتَالِیُہُ لِوَجْہِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی، لاَ یَبْتَغِی عَلَیْہِ جَزَائً وَلاَ شُکُوْرًا اِلاَّ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِلَّا کَانَ کَمَا قَالَ اَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔وَھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ الْمُقْرِیئُ۔ کَمَا فِی مُسْنَدِ اَبِییَعْلٰی : ((تَفْسِیْرُہُ: اَنَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ فَھُوَ شَرٌّ مِنْ خِنْزِیْر۔ …بلاشک و شبہ اس حدیث کا مرادی معنییہ ہے کہ قرآن مجید کا حافظ ہو، اسے اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے پڑھتا ہو اور صرف اللہ تعالی سے اس کے اجر اور قدردانی کا امید وار ہو تو اسے جہنم کی آگ نہیں لگے گی۔ وگرنہ وہ ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن یزید مقری کے قول کا مصداق بنے گا، جو مسند ابو یعلی میں ہے کہ جس نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر جہنم میں داخل ہوا وہ تو خنزیر سے بھی بدتر ہے۔(صحیحہ: ۳۵۶۲)
8325
Sahih
۔ (۸۳۲۶)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖآخَرِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۲)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض قوموں کو رفعتیں عطا کرتے ہیں اور بعض کو ذلیل کر دیتے ہیں۔
Takhreej
(۸۳۲۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۱۷(انظر:۲۳۲)
Explanation
فوائد: …مسلمانوں کی رفعت کا دارومدار قرآن مجید پر ہے، مسلمانوں کے عروج کا سبب قرآن مجید کے نظام کا پاس و لحاظ تھا، جب سے امت ِ مسلمہ نے اس کتابِ عظیم سے غفلت برتی اس وقت سے ذلت کا سامنا ہے۔ بقول علامہ اقبال وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
8326
Sahih
۔ (۸۳۲۶)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖآخَرِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۲)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے بستر پر آتا ہے اور کتاب اللہ میں سے ایک سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالی ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے، جو اس کی تکلیف دہ چیزوں سے حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، جب بھی ہو۔
Takhreej
(۸۳۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن شداد بن اوس، وابو مسعود سعید بن ایاس اختلط، وروایۃ ھارون عنہ بعد اختلاطہ ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۴۰۷، والنسائی: ۳/ ۵۴ (انظر: ۱۷۱۳۲)
Explanation
فوائد: …حدیث نمبر (۵۵۲۸) اور اس کے بعد والی احادیث میں سوتے وقت کے اذکار کا بیان ہے۔
8327
Zaeef