۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ کے بعد آپ کی امت اختلاف کا شکار ہو گی، میں نے کہا: اے جبریل! اس اختلاف سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کی شان توڑتا ہے، جو اس کو تھامے گا، وہ نجات پائے گا، جو اسے چھوڑ دے گا، وہ ہلاک ہوگا، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا،یہ فیصلہ کن کلام ہے اور یہ مذاق نہیں (حقیقت پہ مبنی سچا کلام ہے) زبانیں اس جیسا کلام پیش نہیں کر سکتیں، اس کے عجائبات اور اسرار ختم نہیں ہوتے، اس میں تم سے پہلوں کی خبریں ہیں،تمہارے مابین ہونے والے فیصلے ہیں اور تمہارے بعد ہونے والی اخبار کا بیان ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں الوداع کہہ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد نبی اُمّی ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، مجھے کلمات کی ابتدائی، انتہائی اور جامع صورتیں عطا کی گئی ہیں، مجھے یہ بھی علم ہے کہ دوزخ کے نگران کتنے فرشتے ہیں اور اللہ تعالی کے عرش کو اٹھانے والے کتنے فرشتے ہیں، میری امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت ساری تکالیف سے درگزر کیا گیاہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت دی گئی ہے،جب تک میں تم میں موجود ہوں، میری بات سنو اور اطاعت کرو اور جب میں دنیا سے رخصت ہو جائوں توکتاب اللہ پرعمل لازم پکڑنا، اس کی حلال کردہ اشیا کو حلال سمجھنا اور اس کے حرام کردہ امور کو حرام سمجھنا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو اتنے معجزات اور نشانیاں عطا کی گئی ہیں کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ وحی ہے، اللہ تعالی نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاـ روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے سے روکے رکھا، پس تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اُدھر قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کو نہ سونے دیا، پس تو اس کے حق میری سفارش قبول فرما۔ سو ان کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر قرآن پاک کو چمڑے میں رکھ دیا جائے پھر آگ میں ڈال دیا جائے تو جلے گا نہیں۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض قوموں کو رفعتیں عطا کرتے ہیں اور بعض کو ذلیل کر دیتے ہیں۔
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے بستر پر آتا ہے اور کتاب اللہ میں سے ایک سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالی ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے، جو اس کی تکلیف دہ چیزوں سے حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، جب بھی ہو۔