TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب - قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب - نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 9 · 11 Hadith
۔ (۸۴۳۸م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَقِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیلُ علیہ السلام وَہُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَکَ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْہُمْ عَلٰی حَرْفٍ فَلْیَقْرَأْ کَمَا عَلِمَ وَلَا یَرْجِعْ عَنْہُ، قَالَ أَ بِی: وَقَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِکَ الضَّعِیفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلٰی حَرْفٍ فَلَا یَتَحَوَّلْ مِنْہُ إِلٰی غَیْرِہِ رَغْبَۃً عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔
Takhreej
(۸۴۳۸م) اسنادہ ضعیف، ابراہیم بن مہاجر لیس بذاک القوی، ولم یتابع علیہ بھذا اللفظ (انظر:۲۳۲۷۳)
8348
Sahih
۔ (۸۴۳۵)۔ عَن أَ بِی بَکْرَۃَ أَ نَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ وَمِیْکَائِیْلُ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: اِقْرَاِ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ) قَالَ مِیکَائِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام: اسْتَزِدْہُ فَاسْتَزَادَہُ، قَالَ: اقْرَأْہُ عَلَی حَرْفَیْنِ، قَالَ مِیکَائِیلُ: اسْتَزِدْہُ فَاسْتَزَادَہُ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَ حْرُفٍ، قَالَ: کُلٌّ شَافٍ کَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَ وْ آیَۃَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ نَحْوَ قَوْلِکَ تَعَالَ وَأَ قْبِلْ وَہَلُمَّ وَاذْہَبْ وَأَ سْرِعْ وَاعْجَلْ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۸۸)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! قرآن مجید ایک قراء ت کے مطابق پڑھو۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل اور میکائیل میرے پاس آئے، جبریل نے مجھ سے کہا: قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھو، لیکن میکائیل نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: زیادہ گنجائش کا سوال کریں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیادہ گنجائش کی درخواست کی، تو جبریل نے کہا: دو قراء توں پر پڑھ لو، لیکن میکائیل نے پھر کہا: اور زیادہ مطالبہ کرو، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا،یہاں تک کہ سات قراء ات تک پہنچ گئے، اور پھر انھوں نے کہا: ہر قراء ت شافی اور کافی ہے، جبکہ تک تم عذاب والی آیت کو رحمت والی آیت کے ساتھ اور رحمت والی آیت کو عذاب والی آیت کے ساتھ ختم نہ کر، یہ قراء ت کا معاملہ ایسا ہی ہے، جیسےیہ الفاظ ہیں: تَعَالَ اور أَ قْبِل، ہَلُمَّ اور اِذْہَبْ اور أَ سْرِعْ اور اِعْجَلْ۔
Takhreej
(۸۴۳۵) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ فی آخرہ نحو قولک: تعال، واقبل، وھلم …الخ ، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۲۰۵۱۴)
8435
Sahih
۔ (۸۴۳۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، عَلٰی اَیِّ حَرْفٍ قَرَاْتُمْ فَقْدَ اَصَبْتُمْ، فَلَا تَمَارَوْا فِیْہِ فَاِنَّ الْمِرَائَ فِیْہٖ کُفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۷۲)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے، جس قراء ت کے مطابق بھی پڑھو گے، تو درست پڑھو گے، اس میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
Takhreej
(۸۴۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۷۸۱۹)
8436
Sahih
۔ (۸۴۳۷)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَرَأْتُ آیَۃً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَہَا (جَائَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَرَأَ رَجَلٌ خِلَافَہَا) فَأَ تَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَ لَمْ تُقْرِئْنِی آیَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: ((بَلٰی۔))، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا کَذَا وَکَذَا؟ فَقَالَ: ((بَلٰی، کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ، فَضَرَبَ صَدْرِی فَقَالَ: ((یَا أُبَیُّ بْنَ کَعْبٍ! إِنِّی أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقِیلَ لِی: عَلٰی حَرْفٍ أَوْ عَلٰی حَرْفَیْنِ، قَالَ: فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِی: عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقُلْتُ: عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقَالَ: عَلٰی حَرْفَیْنِ أَ وْ ثَلَاثَۃٍ، فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِی: عَلٰی ثَلَاثَۃٍ، فَقُلْتُ: عَلٰی ثَلَاثَۃٍ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَ حْرُفٍ، لَیْسَ مِنْہَا إِلَّا شَافٍ کَافٍ إِنْ قُلْتَ: غَفُورًا رَحِیمًا أَ وْ قُلْتَ: سَمِیعًا عَلِیمًا أَ وْ عَلِیمًا سَمِیعًا فَاللّٰہُ کَذٰلِکَ، مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَوْ آیَۃَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ بَعْدَ قَوْلِہٖ: فَضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ): ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَ ذْہِبْ عَنْ أُبَیٍّ الشَّکَّ۔))، فَفِضْتُ عَرَقًا وَامْتَلَأَ جَوْفِی فَرَقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أُبَیُّ إِنَّ مَلَکَیْنِ أَتَیَانِی، فَقَالَ أَ حَدُہُمَا: اقْرَأْ عَلٰی حَرْفٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی حَرْفَیْنِ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، فَقَالَ: اقْرَأْ عَلٰی ثَـلَاثَۃٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، فَقُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی أَ رْبَعَۃِ أَحْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی خَمْسَۃِ أَ حْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قُلْتُ: زِدْنِی، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی سِتَّۃٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْہُ، قَالَ: اقْرَأْ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۶۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی آیت پڑھی، لیکن ان کی آیت میری آیت سے مختلف تھی، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے مجھے فلاں فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ نے مجھے یہ ایسے ایسے نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ میں (ابی) نے کہا: دونوں کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا اور کہا گیا کہ ایکیادو قراء توں پر؟ جو فرشتہ میرے ساتھ تھا، اس نے کہا: دو قراء توں پر، میں نے کہا: دو قراء توں پر۔ لیکن اس نے پھر کہا: دو قراء توں پر یا تین پر؟ جو فرشتہ میرے پاس تھا، اس نے کہا: تین قراء توں پر، میں نے کہا: تین قراء توں پر، حتیٰ کہ سات قراء توں تک پہنچ گئے، ہر ایک تسلی بخش اور کفایت کرنے والی ہے، اگر تم کہو غَفُورًا رَحِیمًا،یا کہو سَمِیعًا عَلِیمًا،یا کہو عَلِیمًا سَمِیعًا، پس اللہ تعالی تو ایسے ہی ہے نا۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا: اے اللہ ! ابی سے شک دور کر دے۔ ابی کہتے ہیں: میں پسینہ سے شرابور ہوگیا اور میرا پیٹ خوف سے بھر ہوگیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابی! دو فرشتے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ایک قراء ت پر قرآن پڑھو، دوسرے نے کہا: زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: زیادہ کردو، اس نے کہا چار قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: میرے لئے اور اضافہ کرو، اس نے کہا: پانچ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کر دو۔ میں نے بھی کہا: اور زیادہ کردو۔ چھ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور اضافہ کردو، اسنے کہا: سات قراء توں پر پڑھ لو۔
Takhreej
(۸۴۳۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۷۷(انظر: ۲۱۱۴۹)
Explanation
فوائد:… یہ دو فرشتے جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔
8437
Sahih
۔ (۸۴۳۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقِیتُ جِبْرِیلَ علیہ السلام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقُلْتُ: یَا جِبْرِیلُ! إِنِّی أُرْسِلْتُ إِلَی أُمَّۃٍ أُمِّیَّۃٍ، الرَّجُلُ وَالْمَرْأَ ۃُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِیَۃُ وَالشَّیْخُ الْفَانِی الَّذِی لَا یَقْرَأُ کِتَابًا قَطُّ، قَالَ: اِنَّ الْقُرْاٰنَ نَزَلَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۹۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں احجار المراء جگہ پر حضرت جبریل علیہ السلام سے ملا اور میں نے کہا: اے جبریل! میں اُمّی امت کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیاہوں، جس میں مرد، عورتیں، غلام، لونڈیاں اور انتہائی بوڑھے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی، انہوں نے کہا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۸۴۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البزار: ۲۹۰۸(انظر: ۲۳۳۸۹)
Explanation
فوائد:… اُمّی ایسے شخص کو کہتے ہیں، جو روایتی پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو۔
8438
Sahih
۔ (۸۴۳۹)۔ عَنْ أُبَیٍّ قَالَ: لَقِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیلُ علیہ السلام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِجِبْرِیلَ علیہ السلام : ((إِنِّی بُعِثْتُ إِلَی أُمَّۃٍ أُمِّیِّینَ فِیہِمُ الشَّیْخُ الْعَاسِی وَالْعَجُوزَۃُ الْکَبِیرَۃُ وَالْغُلَامُ، قَالَ: فَمُرْہُمْ فَلْیَقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۳)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جبریل علیہ السلام کی احجاز المراء کے پاس ملاقات ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اُمّی امت کی طرف بھیجا گیا ہے، اس میں بہت بوڑھے خواتین و حضرات اور غلام بھی ہیں، انہوں نے کہا: چلو، آپ ان کو حکم دیں کہ وہ قرآن مجید کو سات قراء توں پر تلاوت کرلیں۔
Takhreej
(۸۴۳۹) تخریج: صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۴۴(انظر: ۲۱۲۰۴)
8439
Sahih
۔ (۸۴۴۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۴۱)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں کے مطابق نازل کیا گیاہے۔
Takhreej
(۸۴۴۰) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۰۱۷۹)
8440
Sahih
۔ (۸۴۴۱)۔ عَنْ اُمِّ اَیُّوْبَ قَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ اَیُّہَا قَرَاْتِ اَجْزَأَکِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۷۵)
۔ سیدنا ام ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، تم ان میں سے جو بھی پڑھو گی، وہ تجھے کفایت کرے گی۔
Takhreej
(۸۴۴۱) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الحمیدی: ۳۴۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۵۱۵ (انظر: ۲۷۶۲۳)
8441
Sahih
۔ (۸۴۴۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ اَنَّ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۰۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۸۴۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابن حبان: ۷۴۲، والطبرانی فی الاوسط : ۵۲۴۶(انظر: ۲۱۰۹۱)
8442
Sahih
۔ (۸۴۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَ قْرَأَ نِی جِبْرِیلُ علیہ السلام عَلَی حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُہُ فَلَمْ أَ زَلْ أَ سْتَزِیدُہُ وَیَزِیدُنِی حَتَّی انْتَہَی إِلَی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ۔)) قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَاِنَّمَا ھٰذِہِ الْاَحْرُفِ فِی الْاَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَیْسَیَخْتَلِفُ فِیْ حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: یہ قراء توں کا یہاختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے باریمیں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Takhreej
(۸۴۴۳)ٖتخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۱۹، ۴۹۹۱، ومسلم: ۸۱۹ (انظر: ۲۳۷۵)
8443
Sahih
۔ (۸۴۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ عَلِیْمًا حَکِیْمًا غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔))، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ عَفُوْرٌ رَحِیْمٌ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر اتارا گیا ہے، جیسے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھنا۔
Takhreej
(۸۴۴۴) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۳۱۰۱ (انظر: ۸۳۹۰)
8444
Sahih

Chapters

9
01
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
1 Hadith
02
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
3 Hadith
03
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
11 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
3 Hadith
05
قرآن مجید کے نسخ کا بیان
3 Hadith
06
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
11 Hadith
07
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
08
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
2 Hadith
09
قرات سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.