۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! قرآن مجید ایک قراء ت کے مطابق پڑھو۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل اور میکائیل میرے پاس آئے، جبریل نے مجھ سے کہا: قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھو، لیکن میکائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: زیادہ گنجائش کا سوال کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ گنجائش کی درخواست کی، تو جبریل نے کہا: دو قراء توں پر پڑھ لو، لیکن میکائیل نے پھر کہا: اور زیادہ مطالبہ کرو، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا،یہاں تک کہ سات قراء ات تک پہنچ گئے، اور پھر انھوں نے کہا: ہر قراء ت شافی اور کافی ہے، جبکہ تک تم عذاب والی آیت کو رحمت والی آیت کے ساتھ اور رحمت والی آیت کو عذاب والی آیت کے ساتھ ختم نہ کر، یہ قراء ت کا معاملہ ایسا ہی ہے، جیسےیہ الفاظ ہیں: تَعَالَ اور أَ قْبِل، ہَلُمَّ اور اِذْہَبْ اور أَ سْرِعْ اور اِعْجَلْ۔
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے، جس قراء ت کے مطابق بھی پڑھو گے، تو درست پڑھو گے، اس میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی آیت پڑھی، لیکن ان کی آیت میری آیت سے مختلف تھی، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے مجھے فلاں فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے مجھے یہ ایسے ایسے نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ میں (ابی) نے کہا: دونوں کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا اور کہا گیا کہ ایکیادو قراء توں پر؟ جو فرشتہ میرے ساتھ تھا، اس نے کہا: دو قراء توں پر، میں نے کہا: دو قراء توں پر۔ لیکن اس نے پھر کہا: دو قراء توں پر یا تین پر؟ جو فرشتہ میرے پاس تھا، اس نے کہا: تین قراء توں پر، میں نے کہا: تین قراء توں پر، حتیٰ کہ سات قراء توں تک پہنچ گئے، ہر ایک تسلی بخش اور کفایت کرنے والی ہے، اگر تم کہو غَفُورًا رَحِیمًا،یا کہو سَمِیعًا عَلِیمًا،یا کہو عَلِیمًا سَمِیعًا، پس اللہ تعالی تو ایسے ہی ہے نا۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا: اے اللہ ! ابی سے شک دور کر دے۔ ابی کہتے ہیں: میں پسینہ سے شرابور ہوگیا اور میرا پیٹ خوف سے بھر ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! دو فرشتے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ایک قراء ت پر قرآن پڑھو، دوسرے نے کہا: زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: زیادہ کردو، اس نے کہا چار قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: میرے لئے اور اضافہ کرو، اس نے کہا: پانچ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کر دو۔ میں نے بھی کہا: اور زیادہ کردو۔ چھ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور اضافہ کردو، اسنے کہا: سات قراء توں پر پڑھ لو۔
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں احجار المراء جگہ پر حضرت جبریل علیہ السلام سے ملا اور میں نے کہا: اے جبریل! میں اُمّی امت کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیاہوں، جس میں مرد، عورتیں، غلام، لونڈیاں اور انتہائی بوڑھے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی، انہوں نے کہا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جبریل علیہ السلام کی احجاز المراء کے پاس ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اُمّی امت کی طرف بھیجا گیا ہے، اس میں بہت بوڑھے خواتین و حضرات اور غلام بھی ہیں، انہوں نے کہا: چلو، آپ ان کو حکم دیں کہ وہ قرآن مجید کو سات قراء توں پر تلاوت کرلیں۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں کے مطابق نازل کیا گیاہے۔
۔ سیدنا ام ایوب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، تم ان میں سے جو بھی پڑھو گی، وہ تجھے کفایت کرے گی۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ قراء توں کا یہاختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے باریمیں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر اتارا گیا ہے، جیسے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھنا۔