مسنداحمد

Musnad Ahmad

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

قرآن مجید کے نسخ کا بیان

۔ (۸۴۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ یَعْرِضُ (یَعْنِیْ: جِبْرِیْلُ) عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ عَرَضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۱۷۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریںیا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیںیا اس کی مثل لے آتے ہیں۔

۔ (۸۴۵۱)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: عَلِیٌّ أَ قْضَانَا، وَأُبَیٌّ أَ قْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ کَثِیرًا مِنْ لَحْنِ أُبَیٍّ، وَأُبَیٌّیَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَلَا أَ دَعُہُ لِشَیْئٍ، وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَییَقُولُ: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا}۔ (مسند احمد: ۲۱۴۰۰)

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔

۔ (۸۴۵۲)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ وَتَرَکَ آیَۃً، فَجَائَ أُبَیٌّ وَقَدْ فَاتَہُ بَعْضُ الصَّلَاۃِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نُسِخَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ أَ وْ أُنْسِیتَہَا؟ قَالَ: ((لَا بَلْ أُنْسِیتُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۵۸)

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور قراء ت کرتے کرتے ایک آیت چھوڑ دی، جب میں آیا تو نماز کا کچھ مجھ سے چھوٹ گیا تھا، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں بھول گیاہوں۔