۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے پوچھا: تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں (زِرّ بن حبیش) نے کہا: کوئی چھہتر ستتر آیات، انھوں نے کہا: میں نے اس سورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پڑھا تھا، یہ سورۂ بقرہ جتنی تھییا اس سے بھی لمبی تھی اور اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔
۔ (دوسری سند) زر کہتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم سورۂ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیتیں،انھوں نے کہا: بس، میں نے اس سورت کو دیکھا تھا کہ یہ سورۂ بقرہ کے برابر تھی، ہم نے اس میں یہ آیت بھی پڑھی تھی: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ … جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی شادی شدہ مرد اور عورت) زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والا ہے۔)
۔ کثیر بن صلت کہتے ہیں: سیدنا ابن عاص رضی اللہ عنہ اورسیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مصحف لکھتے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیت بھی پڑھتے تھے: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکنیوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بوڑھا آدمی شادی شدہ نہ ہو تو اس کو زنا کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ہیں اور جب کوئی شادی شدہ نوجوان زنا کر لے تو اس کو رجم کیا جاتا ہے۔
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رجم کی آیت اور بڑے آدمی کے لئے دس دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت کرنے والی آیت،یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ میں پڑی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمارہوئے اور ہم آپ کے ساتھ مشغول ہوگئے تو ہمارا ایک جانور اندر داخل ہوا اور وہ ورقہ کھا گیا۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پرسورۂ بینہ کی تلاوت کی: {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَـہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} شعبہ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مزید آیات پڑھیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} پھر سورت کے باقی حصے کے ذریعے اس کی تکمیل کی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حکم نازل ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو بیان کرتے، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے فرمایا ہے: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ …بیشک ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے مال اتاراہے، اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی ہو، اگر اس کے لئے دو وادیاں ہوں، تو وہ پسند کرتا ہے کہ تیسری بھی ہو جائے، دراصل آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے۔
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں یہ آیات پڑھا کرتے تھے: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} اگرآدم کے بیٹے کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ ؓکبھی تو اس کے سر کی جانب دیکھتے اور کبھی اس کے پائوں کی طرف دیکھتے کہ اس پر تنگدستی کی کوئی علامت بھی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چالیس اونٹ ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغٰی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} … اگر آدم کے بیٹے کی سونے کی دو وادیاں ہوں، تو یہ تیسری تلاش کرتا ہے، آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہییہ آیات پڑھائیں تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر کیا میں ان کو برقرار رکھوں، پس پھر انھوں نے ان کو برقرار رکھا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔