مسنداحمد

Musnad Ahmad

تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب

سورۂ فاتحہ کی تفسیر اور اس کی فضیلت کا بیان

۔ (۸۴۷۳)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَہُوَ یُصَلِّی فَقَالَ: ((یَا أُبَیُّ!)) فَالْتَفَتَ فَلَمْ یُجِبْہُ، ثُمَّ صَلّٰی أُبَیٌّ فَخَفَّفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَیْکَ، أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَعَلَیْکَ۔)) قَالَ: ((مَا مَنَعَکَ أَ یْ أُبَیُّ إِذْ دَعَوْتُکَ أَ نْ تُجِیبَنِی؟۔)) قَالَ: أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! کُنْتُ فِی الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((أَ فَلَسْتَ تَجِدُ فِیمَا أَ وْحَی اللّٰہُ إِلَیَّ أَ نْ {اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} قَالَ: قَالَ: بَلٰی أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! لَا أَ عُودُ، قَالَ: ((أَ تُحِبُّ أَ نْ أُعَلِّمَکَ سُورَۃً، لَمْ تَنْزِلْ فِی التَّوْرَاۃِ، وَلَا فِی الزَّبُورِ، وَلَا فِی الْإِنْجِیلِ، وَلَا فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی لَأَ رْجُو أَ نْ لَا تَخْرُجَ مِنْ ہٰذَا الْبَابِ حَتّٰی تَعْلَمَہَا۔)) قَالَ: فَأَ خَذَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِییُحَدِّثُنِی وَأَ نَا أَتَبَطَّأُ مَخَافَۃَ أَ نْ یَبْلُغَ قَبْلَ أَ نْ یَقْضِیَ الْحَدِیثَ، فَلَمَّا أَ نْ دَنَوْنَا مِنْ الْبَابِ قُلْتُ: أَیْ رَسُولَ اللّٰہِ! مَا السُّورَۃُ الَّتِی وَعَدْتَنِی؟ قَالَ: ((فَکَیْفَ تَقْرَأُ فِی الصَّلَاۃِ؟)) قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَیْہِ أُمَّ الْقُرْآنِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فِی التَّوْرَاۃِ، وَلَا فِی الْاِنْجِیْلِ، وَلَا فِی الزُّبُوْرِ، وَلَا فِی الْفُرْقَانِ مِثْلَہَا، وَاِنَّہَا لَلسَّبْعُ مِنَ الْمَثَانِیْ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ بِلَفْظٍ: ((اِنَّہَا السَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ الَّذِیْ اُعْطِیْتُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۳۴)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر بلایا: اے ابی ! انہوں نے توجہ تو کی، لیکن جواب نہ دے سکے، پھر انھوں نے تخفیف کے ساتھ نماز مکمل کی اور بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! السلام علیک، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر سلامتی ہو، اے ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہاتھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ وحی نہیں سنی {اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} … اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں تمہیں وہ سورت سکھائوں کہ اس جیسی سورت نہ تو تورات میں نازل ہوئی ہے، نہ زبور میں، نہ انجیل اور نہ قرآن مجید میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرورسکھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں تم اس دروازہ سے باہر نہ جائو گے کہ تم کو وہ سکھلا دوں گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے باتیں کرنا شروع کر دیں، میں اس خوف سے آہستہ آستہ چل رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ باتیں ختم ہونے سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے پر پہنچ جائیں، پھر جب ہم دروازے کے قریب ہوئے تومیں نے کہہ دیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کونسی سورت ہے، جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ میں نے جواباً سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالی نے اس جیسی سورت نہ تورات میں نازل میں کی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن مجید میں۔یہی وہ سات دہرائی جانے والی آیات ہیں اور یہی قرآن عظیم ہے۔

۔ (۸۴۷۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ اُمِّ الْقُرْآنِ: ((ھِیَ اُمُّ الْقُرْآنِ، وَھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیْ، وَھِیَ الْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے بارے میں فرمایا: یہی وہ سات آیات ہیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور اسی سورت کو قرآن عظیم کہتے ہیں۔

۔ (۸۴۷۴م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اُمُّ الْقُرْآنِ، وَاُمُّ الْکِتَابِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِی۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۹)

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ ام القرآن ہے، ام الکتاب ہے اور بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ہیں۔

۔ (۸۴۷۵)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدِ بْنِ الْمُعَلَّی قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّی فَمَرَّ بِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَانِی فَلَمْ آتِہِ حَتّٰی صَلَّیْتُ ثُمَّ أَ تَیْتُہُ، فَقَالَ: ((مَا مَنَعَکَ أَ نْ تَأْتِیَنِی؟۔)) فَقَالَ: إِنِّی کُنْتُ أُصَلِّی، قَالَ: ((أَ لَمْیَقُلِ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} ثُمَّ قَالَ: أَ لَا أُعَلِّمُکُمْ أَ عْظَمَ سُورَۃٍ فِی الْقُرْآنِ قَبْلَ أَ نْ أَ خْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ؟)) قَالَ: فَذَہَبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیَخْرُجَ فَذَکَّرْتُہُ، فَقَالَ: (({الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ}، ہِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنُ الْعَظِیمُ الَّذِی أُوتِیتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۲۱)

۔ سیدنا ابو سعید بن معلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے اور مجھے بلایا، لیکن میں تو نہ آ سکا، حتیٰ کہ میں نے نماز مکمل کی اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ میں نے کہا: جی میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: کیا اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} … اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھائوں؟ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یاد کرایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سورۂ فاتحہ ہے،یہی وہ سات آیتیں ہیں اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں۔

۔ (۸۴۷۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَا اُخْبِرُکَ یَا عَبْدَاللّٰہِ بْنَ جَابِرٍ! بِخَیْرِ سُوْرَۃٍ فِی الْقُرْاٰنِ؟)) قُلْتُ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِقْرَاْ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}۔ حَتّٰی تَخْتِمَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۰)

۔ سیدنا عبداللہ بن جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن جابر! کیا میں تمہیں قرآن مجید کی بہترین سورت نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑھو {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ…}، یہاں تک کہ اس کو پورا کر لو۔

۔ (۸۴۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فِی التَّوْرَاۃِ وَلَا فِی الْاِنْجِیِْلِ مِثْلَ اُمِّ الْقُرْآنِ، وَھِی السَّبْعُ الْمَثَانِیْ، وَھِیَ مَقْسُوْمَۃٌ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ، وَلِعَبْدِیْ مَا سَاَلَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۱۰)

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سورۂ فاتحہ جیسی سورت نہ تورات میںنازل کی اور نہ انجیل میں،یہی بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ہیں اور یہ سورت میں (اللہ) اور میرے بندے کے درمیان تقسیم کی گئی ہے اور میرے بندے کے لیے وہی کچھ ہے، جو اس نے سوال کیا۔