سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Chapter 242 of تفسیر و اسباب نزول کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جب {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں میری موت کی اطلاع ہے، میں اس سال فوت ہونے والا ہوں۔
Takhreej
(۸۸۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، عطاء بن السائب قد اختلط، ومحمد بن فضیل روی عنہ بعد الاختلاط ۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۱۹۰۷(انظر: ۱۸۷۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بدر والوں کو اپنی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے رکھی تھی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت دی تھی، بعض لوگوں نے اعتراض کیا اورکہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دیتے ہیں،حالانکہ اس جیسے ہمارے بیٹے بھی ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن ان لوگوں کو بھی بلایا اور مجھے بھی اور ان سے سورۂ نصر کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکہ فتح ہو جائے، تو توبہ و استغفار کریں۔ مجھ سے کہا: اے ابن عباس! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا:میں اس طرح کا نظریہ نہیں رکھتا، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے ذریعے اپنے نبی کو خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت آ چکا ہے، {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} یعنی فتح مکہ، {وَرَأَ یْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَ فْوَاجًا} یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی علامت ہے، {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا}، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ہاں جی، تم یہ (ابن عباس علمی لیاقت) دیکھ کر مجھے کیسے ملامت کرتے ہو۔
فوائد:…یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فقاہت تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سورۂ نصر میں تحمید، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر بھی ہے، کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا مقصد پورا ہوتا ہوا بیان کیا گیا ہے۔