TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان - اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان - میانہ روی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of میانہ روی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 23 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۸۹۰۵)۔ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَمُغِیْرَۃَ الضَّبِّیِّ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: زَوَّجَنِیْ اَبِیْ امْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیَّ جَعَلْتُ لَا اَنْحَاشُ لَھَا عَمَّا بِیْ مِنَ الْقُوَّۃِ عَلَی الْعِبَادَۃِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلاۃِ، فَجَائَ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ اِلٰی کَنَّتِہِ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْھَا، فَقَالَ لَھَا: کَیْفَ وَجَدْتِّ بَعْلَکِ؟ قَالَتْ: خَیْرُ الرِّجَالِ، اَوْ کَخَیْرِ الْبُعُوْلَۃِ، مِنْ رَجُلٍ، لَمْ یُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا، وَلَمْ یَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا، فَاَقْبَلَ عَلَیَّ، فَعَذَمَنِیْ، وَعَضَّنِیْ بِلِسَانِہٖ،فَقَالَ: اَنْکَحْتُکَامْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَھَا، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ! ثُمَّ انْطَلَقَ اِلَّی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَانِیْ، فَاَرْسَلَ اِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَیْتُہُ، فَقَالَ لِیْ: ((اَتَصُوْمُ النَّھَارَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ وَاَنَامُ، وَاَمَسُّ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔)) قَالَ: ((اقْرَاِ الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ عَشَرَۃِ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ اَحَدُھُمَا اِمَّا حُصِیْنٌ وَاِمَّا مُغِیْرَۃُ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ ثَلاثٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تُزِیْدَنَّ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: (( صُمْ فِیْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمْ یَزَلْیَرْفَعُنِیْ، حَتّٰی قَالَ: ((صُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا فَاِنَّہُ اَفْضَلُ الصِّیَامِ، وَھُوَ صِیَامُ اَخِیْ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالَ: حُصَیْنٌ فِیْ حَدِیْثِہِ ثُمَّ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( فَاِنَّ لِکُلِّ عَابِدٍ شِرَّۃً، وَلِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃٌ، فَاِمَّا اِلٰی سُنَّۃٍ، وَاِمَّا اِلٰی بِدْعَۃٍ، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدِ اھْتَدٰی، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَقَدْ ھَلَکَ۔)) قَالَ مُجَاھِدٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، حَیْثُ قَدْ ضَعُفَ وَکَبِرَ، یَصُوْمُ الْاَیَّامَ کَذٰلِکَ،یَصِلُ بَعْضَھَا اِلٰی بَعْضٍ، لِیَتَقَوّٰی بِذٰلِکَ، ثُمَّ یُفْطِرُ بَعْدَ تِلْکَ الْاَیَّامِ، قَالَ: وَکَانَ یَقْرُاُ فِیْ کِلِّ حِزْبٍ کَذٰلِکَ، یَزِیْدُ اَحْیَانًا، وَیَنْقُصُ اَحْیَانًا، غَیْرَ اَنَّہٗیُوفِی الْعَدَدَ، اِمَّا فِیْ سَبْعٍ، وَاِمَّا فِیْ ثَلاثٍ، قَالَ: ثُمَّ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ ذٰلِکَ: لَاَنْ اَکُوْنَ قَبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا عُدِلَ بِہٖ (اَوْعَدَلَ)،لٰکِنِّیْ فَارَقْتُہُ عَلٰی اَمْرٍ اَکْرَہُ اَنْ اُخَالِفَہُ اِلیٰ غَیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا )۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور میری خوب ملامت کی اور مجھے برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میںنے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔
Takhreej
(۸۹۰۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ نحوہ دون ذکر القراء ۃ والشرۃ، وقولہ واصوم و افطر البخاری: ۱۹۸۰، ومسلم: ۱۱۵۹ (انظر: ۶۴۷۷)
Explanation
فوائد:… تلاوت کی وہ مقدارجس کو ہر رات کو پڑھنے کا معمول بنایا جائے، اس کو حزب کہتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین سے کم دنوں میں قرآن مجید ختم نہیں کیا جا سکتا اور افضل روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا، باقی مسائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی امت کے ساتھ نرمی کی ہے، ان کو ان کی مصلحتوں کی طرف رہنمائی کی ہے، ان کو کم مقدار لیکن ہمیشگی والے عمل کی ترغیب دلائی ہے اور ان کو تکلف اور اکتاہٹ کا سبب بننے والی کثرت ِ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
8905
Sahih
۔ (۸۹۰۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا، فَاِنَّہُ لَیْسَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ یُنَجِّیْہِ عَمَلُہُ۔)) قَالُوْا: وَلَا اِیَّاکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ((وَلا اِیَّایَ، اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۸۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک صورتحال یہ ہے کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ صحابہ نے کہا: اور نہ آپ کو اے اللہ کے رسول!؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور نہ مجھے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔
Takhreej
(۸۹۰۶) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۸۱۷ (انظر: ۱۴۶۲۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ عذاب سے نجات اور اجر و ثواب کے ساتھ کامیابی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل و کرم پر ہے، عامل کے عمل کا یہ مطلب نہیں کہ اب اس کا ثواب دینا اللہ تعالیٰ پر فرض ہو گیا ہے اور وہ بندے کا ایسا حق بن گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو ادا کرنا پڑے گا، جبکہ عمل کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور اس کے اسباب بھی اسی نے مہیا کیے تھے، دراصل نیکی کا اجرو ثواب محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْب’‘ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ} … اور تم خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارو، بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ (الاعراف: ۵۶) لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید نہ کیا جائے کہ عمل کی وقعت ختم ہو گئی ہے، دراصل بندوں کو اس بات پر مطلع کیا جا رہا ہے کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے مکمل ہو گا، تاکہ وہ اپنے اعمال پر ناز کرنا شروع نہ کر دیں، بلکہ عملِ کثیر کرنے کے باوجود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج سمجھیں اور اس کے منتظر رہیں۔ اس طرح اس حدیث کا اس آیت سے کوئی تعارض نہیں ہے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور تم کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا، ان اعمال کے سبب، جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۂ زخرف: ۷۲) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عمل کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلم ہے، لیکن عمل کرنے والوں کو اپنا صلہ پانے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت ہے۔
8906
Sahih
۔ (۸۹۰۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجَالٌ یَّنْتَصِبُوْنَ فِی الْعِبَادَۃِ مِنْ اَصْحَابِہٖنَصَبًاشَدِیْدًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ ضَرَاوَۃُ الْاِسْلَامِ وَشَرَّتُہُ، وَلِکُلِّ ضَرَاوَۃٍ شَرَّۃٌ ، وَلِکُلِّ شَرَّۃٍ فَتَرَۃٌ، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ فَلِأُمٍّ مَا ھُوَ، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی مَعَاصِی اللّٰہِ فَذٰلِکَ ھُوَ الْھَالِکُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے صحابہ میں سے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو بڑی سختی سے عبادت کرنے میں گڑ چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اسلام کا چسکہ، شدت اور حرص ہے اور ہر چسکے کی حرص اور اس میں افراط ہوتا ہے، لیکن ہر افراط کے بعد سستی اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ کتاب و سنت کی طرف ہوا اس نے سیدھے راستے کا قصد کیا اور جس کی سستی اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی طرف ہوئی تو وہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔
Takhreej
(۸۹۰۷) تخریج: اسنادہ حسن،أخرجہ الطبرانی فی الکبیر (انظر: ۶۵۴۰)
Explanation
فوائد:… اس موضوع سے متعلقہ مزید ایک روایتیہ ہے: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِلإِْسْلَامِ شِرَّۃً، وَإِنَّ لِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃً، فَإِنْ کَانَ صَاحِبُھُمَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوْہُ، وَإِنْ أُشِیْرَ إِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ فَـلَا تَرْجُوْہُ۔)) … اسلام کے لیےحرص، شدت اور رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت کے بعد سکون اور تھماؤ ہوتا ہے، (دیکھو) اگر نیک کام کی رغبت رکھنے والا راہِ صواب پر چلتا ہے اور میانہ روی اختیار کرتا ہے تو اس کے بارے میں امید رکھو (کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہو گا) اور اگر (وہ عبادت میں اس قدر غلو کرے کہ) اس کی طرف انگلیوں کے ساتھ اشارے کیے جائیں تو اس کے بارے میں امید نہ رکھو (کہ وہ نیک آدمی ہو گا)۔ (ترمذی: ۲۴۵۵،صحیحہ:۲۸۵۰) اگر کسی شخص کو دین اسلام کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اسے چاہیے کہ صاحب ِ دین محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے طرزِ حیات کو اسوۂ حسنہ قرار دے اور افراط و تفریط سے بچے۔ اور ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہوتی ہے کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میںمبالغہ کرنے والا بالآخر سست پڑ جاتا ہے، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں دو قسم کے لوگوں کا بیان ہے: ۱… نیک لوگ، جو اعتدال اور میانہ روی سے کام لیتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں، بالخصوص ماں باپ، اہل و عیال اور اعزہ واقارب کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، ان کے معاملات میں تسلسل اور استقامت ہوتی ہے، ان کی عبادات میں اس قدر کثرت نہیں پائی جاتی کہ وہ اس بنا پر مشہور ہو جائیں، عام طور پر ایسے لوگ پرخلوص ہوتے ہیں اور اپنی مراد پر فائز ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں اچھی امید رکھنی چاہیے۔ ۲… اس کے برعکس کچھ لوگ عبادت اور نیکی میں اس قدر افراط اور غلو کرتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف انگلیاں اٹھانے لگ جاتے ہیں، سب لوگوں میں ان کا بڑا شہرہ ہونے لگتا ہے کہ فلاں بڑا عابد و زاہد، درویش ِ کامل اور عالم و فاضل ہے۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ مکّار اور ریاکار نکلتے ہیں، ان کی غرض شہرت اور ناموری ہوتی ہے، افراط و تفریط میں اس قدر مبتلا ہو جاتے ہیں کہ بیوی بچوں اور ماں باپ کے حقوق پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہ طریقہ خلاف ِ سنت ہے۔ اس میں جاہل درویشوں کا ردّ ہے، جو رات دن مراقبے اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں، سخت سخت ریاضت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو شریعت کا پابند ٹھہرنا چاہیے نہ کہ اپنی عقل کا اور جہاں تک ہو سکے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق اپنے اعمال کو مخفی رکھنا چاہیے۔ ہر وقت یہ نقطہ ذہن میں رہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا خیال رکھا جائے، ہمارے ماحول میں بھی افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ لوگ حقوق اللہ کا بہانہ کر کے بندوں کے حقوق سے غفلت برت رہے ہیں اور کچھ حقوق العباد کابہانہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حقوق سے غافل ہیں۔ بعض نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے کہ کسی خطیب کے خطاب یا کسی نیکوکار کی مجلس سے متاثر ہو کر عملی طور پر اسلام کی طرف راغب ہوتے ہے اورہفتہ عشرہ تک ان کا عمل جاری رہتا ہے، پھر ان پر غفلت اور سستی کاحملہ ہوتا ہے اور مزاج یکسر بدل جاتا ہے، اس وقت ان کے لیے انتہائیضروری ہوتا ہے کہ وہ عبادت کی روٹین کو برقرار رکھ کر شیطان کا مقابلہ کریں،یہاں تک کہ دوبارہ پھر رغبت پیدا ہوئے، یہ رغبت ان شاء اللہ دائمی ہو گی، جو لوگ غفلت والے اس پیریڈ میں اپنی روٹین کو ترک کر دیتے ہیں، ان کی عبادات میں کبھی تسلسل اور دوام نہیں آ سکتا، بلکہ وہ اپنی انسانیت کو سمجھنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔
8907
Sahih
۔ (۸۹۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِکْلَفُوْا مِنَ الْعَمَلِ مَاتُطِیْقُوْنَ، فَاِنَّ خَیْرَ الْعَمَلِ اَدْوَمُہُ وَاِنْ قَلَّ۔)) (مسند احمد:۸۵۸۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنے عمل کی تکلیف اٹھاؤ، جس کی تم کو طاقت ہے، پس بیشک بہترین عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔
Takhreej
(۸۹۰۸) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۴۰ (انظر: ۸۶۰۰)
Explanation
فوائد:… تھوڑی مقدار والے قلیل عمل پر دوام اختیار کرنا، اس بڑی مقدار والے عمل سے بہتر اور افضل ہے، جس پر ہمیشگی نہ کی جائے۔
8908
Sahih
۔ (۸۹۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَۃُ وَاُمُّ سَلْمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : اَیُّ الْعَمَلِ کَانَ اَعْجَبَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتَا: مَادَامَ وَاِنْ قَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۴۴)
۔ ابو صالح کہتے ہیں؛ سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا، انھوں نے کہا: جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ وہ کم ہو۔
Takhreej
(۸۹۰۹) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۸۵۶(انظر: ۲۴۰۴۳)
8909
Sahih
۔ (۸۹۱۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْاَسْوَدِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : حَدِّثِیْنِیْ بِاَحَبِّ الْعَمَلِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اَحَبُّ الْعَمَلِ اِلَیْہِ الَّذِیْیَدُوْمُ عَلَیْہِ الرَّجُلُ، وَاِنْ کَانَ یَسِیْرًا۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۰)
۔ (دوسری سند) اسود کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: مجھے ایسا عمل بیان کرو، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہو، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے پسندیدہ وہ عمل تھا، جس پر آدمی ہمیشگی کرے، اگرچہ اس کی مقدار کم ہو۔
Takhreej
(۸۹۱۰) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
8910
Sahih
۔ (۸۹۱۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْھَا وَعِنْدَھَا فُـلَانَۃُ لِاِمْرَاَۃٍ فَذَکَرَتْ مِنْ صَلَاتِھَا فَقَالَ: ((مَہْ عَلَیْکُمْ بِمَا تُطِیْقُوْنَ، فَوَاللّٰہِ لَایَمَلُّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی تَمَلُّوْا، اِنَّ اَحَبَّ الدِّیْنِ اِلٰی اللّٰہِ مَادَاوَمَ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری پاس تشریف لائے تو اس وقت میرے پاس فلاں خاتون بیٹھی ہوئی تھی، میں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تم اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہے، اللہ کی قسم ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت نہیں اکتاتا، جب تک تم نہ اکتا جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے پسند یدہ دین وہ ہے، جس پر آدمی ہمیشگی اختیار کرے۔
Takhreej
(۸۹۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری۴۳، ومسلم: ۷۸۵ (انظر: ۲۴۲۴۵)
Explanation
فوائد:… یہ خاتون سیدہ حولاء بنت تُویت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں۔ اکتانے اور نہ اکتانے سے مراد یہ ہے کہ جب تک تم مستعدی کے ساتھ عمل جاری رکھو گے، وہ اجرو ثواب اور نزولِ رحمت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور جب تم عمل ترک کر دو گے تو وہ اجرو ثواب کا سلسلہ منقطع کر دے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نَسُوْا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ} … انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلادیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ (سورۂ توبہ:۶۷)
8911
Sahih
۔ (۸۹۱۲)۔ عَنْھَا اَیْضًا قَالَتْ: مَرَّتْ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحَوْلَائُ بِنْتُ تُوَیْتٍ، فَقِیْلَ لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہَا تُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ صَلاۃً کَثِیْرَۃً، فَاِذَا غَلَبَھَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ فَتَعَلَّقَتْ بِہٖ،فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلْتُصَلِّ مَا قَوِیَتْ عَلَی الصَّلَاۃِ، فَاِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۴۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدہ حولاء بنت تُویت، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزریں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ خاتون رات کو بہت زیادہ نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند غالب آنے لگتی ہے تو یہ اپنے آپ کو ایک رسیکے ساتھ باندھ کر لٹکتی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو طاقت ہو، یہ نماز پڑھے، لیکن جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔
Takhreej
(۸۹۱۲) تخریج: انظر الحدیث السابق
8912
Sahih
۔ (۸۹۱۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُوْدٌ بَیْنَ سَارِیَتَیْنِ فَقَالَ:(( مَاھٰذَا؟)) فَقَالُوْا: لِزَیْنَبَ فَاِذَا کَسِلَتْ اَوْ فَتَرَتْ اَمْسَکَتْ بِہٖ،فَقَالَ: ((حُلُّوْہُ۔)) ثُمَّقَالَ: ((لِیُصَلِّ اَحَدُکُمْ نَشَاطَہُ، فَاِذَا کَسِلَ اَوْ فَتَرَ فَلْیَقْعُدْ (وَفِیْ لَفْظٍ) لَتُصَلِّ مَاعَقَلَتْ، فَاِذا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۰۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ وہاں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ہے، جب وہ سست پڑتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کھول دو، چاہیےیہ کہ آدمی پھرتی اور مستعدی کی حالت میں نماز پڑھے، جب وہ سست پڑ جائے تو قیام ترک کر دے۔ ایک روایت میںہے: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو سمجھ آ رہی ہو، نماز پڑھے اور جب وہ (نیند کی وجہ) مغلوب ہو جائے تو سو جائے۔
Takhreej
(۸۹۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۵۰، ومسلم: ۷۸۴ (انظر: ۱۱۹۸۶)
Explanation
فوائد:… انسان پر جسم کا بھی حق ہے، اس کو بھی سکون ملنا چاہیے، لیکن اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے رات کے قیام کا اہتمام نہ کیا جائے۔
8913
Sahih
۔ (۸۹۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَبْلاً مَمْدُوْدًا بَیْنَ سَارِیَتَیْنِ فَقَالَ: ((لِمَنْ ھٰذَا؟ )) قَالُوْا: لِحَمْنَۃَ بِنَتِ جَحْشٍ فَاِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِہٖ،فَقَالَ:((لَتُصَلِّمَااَطَاقَتْ،فَاِذَاعَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۴۶)
۔ سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی رسی دیکھی اور پوچھا: یہ کس کی ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ حمنہ بنت جحش کی ہے، جب وہ (نماز پڑھتے پڑھتے) عاجز آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق نماز پڑھے، پس جب وہ عاجز آ جائے تو (نماز ترک کر کے) بیٹھ جائے۔
Takhreej
(۸۹۱۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۳۸۳۱ (انظر: ۱۲۹۱۶)
8914
Sahih
۔ (۸۹۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خُذُوْا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِیْقُوْنَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَایَمَلُّ حَتّٰی تَمَلُّوْا۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَکَانَ اَحَبُّ الصَّلَاۃِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَلّٰی صَلٰاۃً دَاوَمَ عَلَیْھَا۔ قَالَ اَبْوُسَلْمَۃَ: قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَائِمُوْنَ۔} [المعارج: ۲۳] (مسند احمد: ۲۵۰۴۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنے عمل کا اہتمام کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا، حتیٰ کہ تم نہیں اکتا جائو گے۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ وہ نماز پسند تھی کہ جس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ لوگ جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرتے ہیں۔
Takhreej
(۸۹۱۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۶۱، ومسلم: ۷۸۲ (انظر: ۲۴۵۴۰)
Explanation
فوائد:… ہمیشگی والا عمل، یہی وہ خصلت ہے، جس کی وجہ سے خالق ومخلوق کے مابین تعلق میں مضبوطی آتی ہے اور عبادت میں شیرینی اور لذت محسوس ہوتی ہے، اس وقت مسلمان کلی طور پر ایسے اعمال سے غافل ہیں، الا ما شاء اللہ، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات ہماری روٹین کی محتاج ہیں، اگر وقت ملا تو نماز کا اہتمام ہو گا، اگر رات کو سونے میں دیر ہو گئی تو فجر کی نماز کو داؤ پر لگا دیا جائے گا، یہ نہیں ہو سکتا کہ نمازِ فجر کی خاطر رات کو جلدی سو جائیں، مغرب کی ایک، دو یا تین رکعتیں رہ جائیں، ہم پہلے پرتکلف افطاری کرتے ہوئے خوب کھائیں گے، اگر بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے بعد کچھ بچا تو غریب کو دیا جائے گا، اگر اپنے گھر کی الجھنوں سے نکلے تو تب ہمسائے کا حق ادا کیا جائے گا، اگر سکول کی تعلیم سے وقت بچا تو تب بچے کو قرآن مجید پڑھایا جائے گا، ہماری زندگی کا ہر شعبہ ان مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ کاش ہم اسلام کو اصل سرمایہ سمجھ لیتے،دین پر چلنا بھی آسان ہو جاتا اور دنیا بھی ہماری تابع ہو جاتی۔
8915
Sahih
۔ (۸۹۱۶)۔ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ حَزْنٍ الْکَافِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَااَیُّھَاالنَّاسُ، اِنَّکُمْ لَنْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تُطِیْقُوْا کُلَّ مَا اُمِرْتُمْ بِہٖ،وَلٰکِنْسَدِّدُوْاوَاَبْشِرُوْا)) (مسنداحمد: ۱۸۰۱۱)
۔ سیدنا حکم بن حزن کافی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بیشک تم کو جن جن امور کا حکم دیا گیا ہے، تم سب کی ہر گز طاقت نہیں رکھ سکتے، البتہ راہِ صواب پر چلتے رہو اور خوشخبری حاصل کرو۔
Takhreej
(۸۹۱۶) تخریج:اسنادہ قوی، أخرجہ ابویعلی: ۶۸۲۶، وابن خزیمۃ: ۱۴۵۲، والبیھقی: ۳/ ۲۰۶ (انظر: ۱۷۸۵۶)
8916
Sahih
۔ (۸۹۱۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اَمَرَھُمْ اَمَرَھُمْ بِمَا یُطِیْقُوْنَ مِنَ الْعَمَلِ یَقُوْلُوْنَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا لَسْنَا کَہَیْئَتِکَ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذِنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ، قَالَتْ: فَیَغْضَبُ حَتّٰییُعْرَفَ الْغَضَبُ فِیْ وَجِھِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۹۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کو عمل کا حکم دیتے تو اتنا حکم فرماتے، جس کی وہ طاقت رکھتے، لیکن جب وہ کہتے کہ اے اللہ کے رسول! بیشک ہم توآپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے ہو جاتے،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرۂ مبارک میں غصے کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔
Takhreej
(۸۹۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰ (انظر: ۲۴۲۸۹)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث میں ایک مثال بیان ہو چکی ہے۔ قارئین ِ کرام!دین کے معاملے میں انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے، یہ بات اس دین کے شایانِ شان نہیں ہے کہ خیال آ گیا تو اجر و ثواب کے بڑے بڑے کام کر دیئے اور خیال نہ آیاتو بے رخی اختیار کر لی، سنجیدگی کے ساتھ ساتھ بڑی مصلحت اور حکمت کی بھی ضرورت ہے، اس ضمن میں مساجد کے ائمہ و خطباء پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے منصب کو سمجھیں اور اپنے ارد گرد رہنے والے ہر فرد پر نظر رکھیں اور اس کی صلاحیت کے مطابق اس کی رہنمائی کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں، بسا اوقات ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی اطاعت کا بڑا عمل سر انجام دینا چاہتا ہو، لیکن حالات و واقعات کو دیکھ اہل علم حکمت و بصیرت سے کام لیں اور غور کریں کہ اس آدمی کو اس عمل سے روکنا بہتر ہے یا نہیں، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بعض صحابہ کو بعض اعمال صالحہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
8917
Sahih
۔ (۸۹۱۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ ھٰذَا الدِّیْنَ مَتِیْنٌ، فَاَوْغِلُوْا فِیْہِ بِرِفْقٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۸۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ دین مضبوط ہے، تم اس میں نرمی کے ساتھ داخل ہو جائو۔
Takhreej
(۸۹۱۸) تخریج:حسن بشواہدہ (انظر: ۱۳۰۵۲)
Explanation
فوائد:… اگر ایک آدمی میں کسی تقریریا ذاتی مطالعہ کی وجہ سے تلاوت کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اس کو چاہیے کہ ایک ایک پاؤ یا نصف نصف پارے کی تلاوت سے اپنے عمل کا آغاز کرے، پھر مقدار کو آہستہ آہستہ بڑھاتا جائے، اگر کسی آدمی میں ہمسائیوں کے حقوق کے پورا کرنے کی رغبت پیدا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ایک گھر والوں کے حقوق ادا کر کے اپنی رغبت کو برقرار رکھے، پھر آہستہ آہستہ اپنی صلاحیت اور وقت کے مطابق اس سلسلے کو آگے بڑھائے۔ ہر عبادت کے بارے میں یہی قانون ہے، ما سوائے فرض عبادات کے۔ ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ جب لوگوں میں کسی نہ کسی طرح رغبت پیدا ہو جاتی ہے تو اتنی بڑی مقدار میں عمل شروع کرتے ہیں کہ چوتھے پانچویں موقعہ پر بوریت اور اکتاہٹ میںمبتلا ہو کر مکمل عمل کو ترک کر دیتے ہیں۔ قارئین کرام! آپ غور کریں گے کہ ماہِ رمضان کے شروع ہوتے ہی لوگوں میں اعمال صالحہ کی بڑی رغبت پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر پانچ نمازوں اور نمازِ تراویح کی، لیکن رمضان کی پانچ چھ تاریخ تک اکثر لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں میں وہ رغبت ختم ہو چکی ہوتی ہے، اس کی کیاوجہ ہے؟ یہی کہ نرمی کے ساتھ رسوخ حاصل نہیں کیا جاتا، لوگ اچانک اعمالِ صالحہ کی بڑی مقدار پر حملہ تو کر دیتے ہیں، لیکن ان کی طبیعت اور فطرت اس قدر اہل نہیں ہوتی کہ وہ ان کا ساتھ دے، سو چار پانچ دنوں کے بعد وہی گندی فطرت غالب آجاتی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ جیسے لوگوں پر مایوسی چھا گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شامل حال نہیں ہے۔
8918
Sahih
۔ (۸۹۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَعْرَابِیٍّ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ اَیْسَرُہُ، اِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ اَیْسَرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۳۲)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک بدو سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی والا ہو، بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سہولت پر مشتمل ہو۔
Takhreej
(۸۹۱۹) تخریج:اسنادہ حسن (انظر: ۱۵۹۳۶)
8919
Sahih
۔ (۸۹۲۰)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ کَانَ آخِذًا بِیَدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْمَسْجِدِ قَالَ: ثُمَّ اَتٰی حُجْرَۃَ امْرَاَۃٍ مِّنْ نِسَائِہِ فَنَفَضَ یَدَہُ مِنْ یَدِیْ، قَالَ:((اِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ اَیْسَرُہُ، اِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ اَیْسَرُہُ، اِنَّ خَیْرَ دِیْنِکُمْ اَیْسِرُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۷)
۔ سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مسجد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے حجرے کی طرف تشریف لے گئے اور میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی والا ہو، بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سہولت پر مشتمل ہو، بیشک تمہارا خیر والا دین وہ ہے، جس میں زیادہ آسانی ہو۔
Takhreej
(۸۹۲۰) تخریج:حسن لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۹۵، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۷۰۴ (انظر: ۲۰۳۴۹)
Explanation
فوائد:… اگر دینِ اسلام کے تمام احکام پر نگاہ ڈالی جائے تو یہی نظر آئے گا کہ کسی معاملے میں کوئی مشقت نہیں ہے، یہ دین صرف آسانی والا نہیں ہے، بلکہ اس پر عمل کرنے سے جسم اور روح کو تسکین ملتی ہے، پہلے ادیان میں پائی جانے والی سختیاں اس دین میں نہیں ہیں۔ قارئین کرام! لیکنیہ آسانی وہ شخص تسلیم کرے گا، جو سلیم الفطرت ہو گا اور دین پر عمل کرنے کا متمنی ہو گا، آخر اسی دین میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے، اس لیےیہ کوئی حلوے کا لقمہ تو نہیں ہو گا کہ ہر کھانے والا جس کو آسانی اور لذت کے ساتھ کھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ ایک مثال کے ذریعے سمجھیں کہ اس دنیائے فانی میں جس آدمی نے آمدنی کا جو ذریعہ اختیار کر رکھا ہے، وہ اس کو آسان سمجھتا ہے، کاروبار کے لیے روزانہ دس بارہ بارہ گھنٹے مصروف رہنا، ساتھ ساتھ کھاتے بنانے، کسی کو سنانا، کسی کی سننا، پڑھانے والے لوگوں کا تین تین چار چار یا پانچ چھ چھ پیریڈ پڑھانا، زمینداروں کا سخت محنت کرنا، کارخانوں اور صنعتوں میںکام کرنے والے لوگ، رات کی ڈیوٹیاں، پورا دن رات گاڑیوں کے ساتھ مصروف رہنے والے ڈرائیور اور کنڈیکٹر …، غرضیکہ ہر کوئی بڑے شوق کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہے، اسی طرح نماز پڑھنے والوں کے لیے نماز آسان ہے، حج کرنے والوں کے لیے حج آسان ہے، روزہ رکھنے والوں کے روزے آسان ہیں، صدقہ و زکوۃ کے خواہشمندوں کے لیےیہ عمل آسان ہے، جہاد کرنے والوں کے لیے جہاد آسان ہے، خو ش مزاج لوگوں کے لیے خوش رہنا آسان ہے… علی ہذا القیاس۔ جو آدمی کسی شرعی رکن کو مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے، دراصل اس کے مزاج میں نحوست اور فساد آ چکا ہے اور شیطان اس پر اس قدر غالب آ چکا ہے کہ دین اسلام کے ارکان کی ادائیگی اس کے لیے مشکل ہو گئی ہے۔
8920
Sahih
۔ (۸۹۲۱)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجْتُیَوْمًا لِحَاجَۃٍ فَاِذَا اَنَا بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِیْ بَیْنَیَدَیَّ، فَاَخَذَ بِیَدِیْ، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِیْ جَمِیْعًا فَاِذَا نَحْنُ بَیْنَ اَیْدِیْنَا بِرَجُلٍ یُصَلِّییُکْثِرُ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُرَاہُ یُرَائِیْ؟ )) فَقُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، فَتَرَکَ یَدِیْ مِنْ یَدِِہِ، ثُمَّ جَمَعَ بَیْنَیَدَیْہِ فَجَعَلَ یُصَوِّبُھُمَا وَیَرْفَعُھُمَا وَیَقُوْلُ: ((عَلَیْکُمْ ھَدْیًا قَاصِدًا ، عَلَیْکُمْ ھَدْیًا قَاصِدًا، عَلَیْکُمْ ھَدْیًا قَاصِدًا، فَاِنَّہُ مَنْ یُشَادَّ ھٰذَا الدِّیْنَیَغْلِبْہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَاَرَسَلَ یَدِیْ ثُمَّ طَبَقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ فَجَمَعَھُمَا وَجَعَلَ یَرْفَعُھُمَا بِحَیَالِ مَنْکَبَیْہِیَضْعُھُمَا وَیَقُوْلُ: ((عَلَیْکُمْ ھَدْیًا قَاصِدًا ثَلاثَ مَرَّاتٍ فَاِنَّہُ مَنْیُّشَادَّ الدِّیْنَیَغْلِبْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۵۱)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن کسی ضرورت کے لیے نکلا، اچانک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری ملاقات ہو گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے سامنے چل رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ہم دونوں اکٹھے چلنے لگے، اچانک ہم نے اپنے سامنے ایسا آدمی دیکھا جو بہت زیادہ رکوع و سجود کر رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بارے میں تیرایہ خیال ہے کہ وہ ریاکاری کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنے دونوں ہاتھ جمع کر کے اوپر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ میانہ روی والا طریقہ لازم پکڑو، اعتدال والے انداز کا اہتمام کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جو دین میں تکلف کرنے کی کوشش کرتا ہے، دین اس پر غالب آ جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں میں تطبیق دے کر ان کو اکٹھا کیا اور پھر ان کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے اور پھر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگا: میانہ روی والے طریقے کو لازمی پکڑو، تین دفعہ فرمایا، کیونکہ جو آدمی زور آمائی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔
Takhreej
(۸۹۲۱) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۳۱۲، وابن خزیمۃ: ۱۱۷۹، والحاکم: ۱/۳۱۲ (انظر: ۲۲۹۶۳)
Explanation
فوائد:… جو دین میں تکلف کرنے کی کوشش کرتا ہے، دین اس پر غالب آ جاتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی اپنی طاقت سے بڑھ کر اور تکلف کر کے نیک عمل کرے گا، وہ بالآخر عمل کی کمی کرے گا اور فرائض تک کو چھوڑ بیٹھے گا۔ اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ چلنے کا طریقہیہ ہے کہ لوگوں کا تحقیق اور حکمت و بصیرت والے اہل علم سے رابطہ ہو، وہ اپنی اہلیت اور مصروفیت کو دیکھ کر ان سے شریعت کی روشنی حاصل کریں اور اپنے لیے اعمالِ صالحہ کا معتدل سا منہج اختیار کریں، نیز ان کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ جب رغبت زیادہ ہو تو کون سا عمل کرنا چاہیے۔
8921
Sahih
۔ (۸۹۲۲)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ اَنَا وَیَحْيٰبْنُ جَعْدَۃَ عَلٰی َرجُلٍ مِّنِ الْاَنْصَارِ مِنْ اَصْحَابِ الرَّسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ذَکَرُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَوْلَاۃً لِبَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالُوْا: اِنَّھَا تَقُوْمُ اللَّیْلَ وَتَصُوْمُ النَّھَارَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لٰکَنِّیْ اَنَا اَنَامُ وَاُصَلِّیْ، وَاَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، فَمَنِ اقْتَدٰی بِیْ فَہُوَ مِنِّیْ، وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ، اِنَّ لِکُلِّ عَمَلٍ شِرَّۃً ثُمَّ فَتْرَۃً، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی بِدْعَۃٍ فَقَدْ ضَلَّ، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدِ اھْتَدٰی۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۷۰)
۔ مجاہد کہتے ہیں: میں اور یحییٰ بن جعدہ ایک انصاری صحابی کے پاس گئے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ یوں ہوا کہ صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بنی عبد المطلب کی ایک لونڈی کا اس طرح ذکر کیا کہ وہ رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اورچھوڑ بھی دیتا ہوں، پس جس نے میری پیروی کی، وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری سنت سے منہ پھیر لیا، وہ مجھ سے نہیں ہے، ہر عمل کی حرص، شدت اور افراط تو ہوتی ہے، لیکن پھر سکون اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ بدعت کی طرف لے جائے گا، وہ گمراہ ہو جائے گا اور جس کا ٹھہرائو سنت کی طرف لے جائے گا، وہ ہدایت پا جائے گا۔
Takhreej
(۸۹۲۲) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۲۳۹، والطبرانی فی الکبیر : ۲۱۸۶ (انظر: ۲۳۴۷۴)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصہ کی وضاحت حدیث نمبر (۸۹۰۷) میں ہو چکی ہے۔
8922
Sahih
۔ (۸۹۲۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، أَنَّ اُنَاسًا کَانُوْا یَتَعَبَّدُوْنَ عِبَادَۃً شَدِیْدَۃً، فَنَہَاھُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَعْلَمُکُمْ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاَخْشَاکُمْ لَہُ۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ: ((عَلَیْکُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِیْقُوْنَ، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَمَلُّ حَتّٰی تَمَلُّوْا۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۲۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: کچھ لوگ بڑی سخت عبادت کیا کرتے تھے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک تم میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم اتنے عمل کا اہتمام کرو، جتنے کی طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا، حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔
Takhreej
(۸۹۲۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۸۶۱، ومسلم: ۷۸۲ (انظر: ۲۴۹۱۲)
8923
Sahih
۔ (۸۹۲۴)۔ عَنْھَا اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اِنَّہَا کَانَتْ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَیَسِّرُوْا فَاِنَّہُ لَنْ یُّدْخِلَ الْجَنَّۃَ اَحَدًا عَمَلُہُ۔)) قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ: (( وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ رَحْمَۃً، وَاعْلَمُوْا اَنَّ اَحْبَ الْعَمَلِ اِلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَدْوَمُہُ وَاِنْ قَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۵۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو اور آسانی پیدا کرو، پس کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا عمل بھی نہیں کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور میں بھی ایسے ہی ہوں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ وہ کم ہو۔
Takhreej
(۸۹۲۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۴۶۴، ومسلم: ۲۸۱۸ (انظر: ۲۴۹۴۱)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۸۹۰۶)
8924
Sahih