۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میںداخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضائ، زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو چھوڑ دے۔
۔ سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام سے متعلقہ ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں کہ میں اس کو تھام لوں اور اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کہہ کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ ڈر کس چیز پر ہے، ایک روایت میں ہے: پس میں کس چیز سے بچ کر رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا! اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: یہ ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدّو کو نیکی کی مختلف انواع کے بارے میں بتلایا، ان میں یہ چیزیں بھی تھیں: اور تو نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر، پس اگر تجھ کو ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو بند کر لے، ما سوائے خیر والی باتوں کے۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں تجھے بتلاؤ کہ دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی کیا ہے ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین کی اصل اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی نماز ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے اس چیز کے بارے میں بھی بتلا دوں جو ان سب کو کنٹرول کرنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: اس کو اپنے اوپر روک کر رکھنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہماری باتوں کی وجہ سے بھی ہمارا مؤاخذہ کیاجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے، لوگوں کو آگ میں ان کے نتھنوں کے بل گرانے والی ان کی زبانوں کی کٹی ہوئی باتیں ہی ہوں گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا، جب تک اس کا دل اور زبان سلامتی والے نہیں بن جاتے۔‘
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھے دو جبڑوں کے درمیان والی اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیزوں کی ضمانت دے گا، میں اس کو جنت کی ضمانت دوں گا۔
۔ سیدنا محمد بن عبد الرحمن طفاوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو غادیہ، سیدنا حبیب بن حارث، سیدہ ام ابی العالیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور اسلام قبول کر لیا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز سے بچ، جو کانوں کو بری لگتی ہے ۔
۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
۔ سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے متعلقہ ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھییہ گمان نہیں ہوتا کہ وہ کس بڑے مرتبے تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور بیشک ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ علقمہ نے کہا: کتنی ہی باتیں ہیں کہ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی اس حدیث نے مجھے ان سے روک دیا ہے۔