TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چغلخوری سے ترہیب کا بیان - چغلخوری سے ترہیب کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 30 · 6 Hadith
۔ (۹۸۸۲)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ قَتَّاتٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۳۶)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چغلخور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۹۸۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۵ (انظر: ۲۳۲۴۷)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چغلی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ((نَقْلُ الْحَدِیْثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إلٰی بَعْضٍ، لِیُفْسِدُوْا بَیْنَھُمْ۔)) … لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے بعض کی باتیںبعض کو بیان کرنا۔ (بیہقی: ۱۰/۲۴۶) ایک روایت میں ہے: ((اَلنَّمِیْمَۃُ الَّتِیْ تُفْسِدُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) … وہ چغلی جو لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دے۔ عصرِ حاضر میں ہر کوئی اپنے آپ کو بریٔ الذمہ اور معصوم قرار دے کر دوسرے پر شکوہ کناں نظر آتا ہے، شرعی تقاضا یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی شخص کو موضوعِ گفتگو بنانے لگیں تو سوچ لینا چاہئے کہ آخر اس کلام کا مقصد کیا ہے۔ کیا کسی بھائی پر جارحانہ کلام کرنے سے اس کے بارے میں سامعین کے دلوں میں نفرت و کدورت تو پیدا نہیں ہو گی اور اس سے بڑا معاشرتی فساد اور بگاڑ کوئی نہیں ہے کہ ایک آدمی کے بارے میں سوئے ظن پیدا کر دیا جائے۔ چغلی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
9882
Sahih
۔ (۹۸۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ مَاالْعَضْہُ؟ قَالَ: ھِیَ النَّمِیْمَۃُ الْقَالَۃُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) وَاِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ یَصْدُقُ، حَتّٰییُکْتَبَ صِدِّیْقًا، وَیَکْذِبُ حَتّٰییُکْتَبَ کَذَّابًا۔)) (مسند احمد: ۴۱۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو یہ بتلا نہ دو کہ عَضْہ کیا ہے؟ یہ لوگوں کی آپس میں چغلخوری والی باتیں ہیں۔ نیز محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو سچا لکھ لیا جاتا ہے اور اس طرح بھی ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۸۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرج مسلم حدیث العضہ: ۲۶۰۶ (انظر: ۴۱۶۰)
9883
Sahih
۔ (۹۸۸۴)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّۃِ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخِیَارِکُمْ؟)) قَالُوْا: بلٰییارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((الّذِیْنَ اِذَا رُؤْوْا ذُکِرَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلََا اُخْبِرُکُمْ بِشِرَارِکُمْ؟ الْمَشَّاؤُوْنَ بِالنَّمِیْمَۃِ، الْمُفْسِدُوْنَ بَیْنَ الْاَحِبَّۃِ، الْبَاغُوْنَ الْبُرَآئَ الْعَنَتَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۵۱)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے پسندیدہ لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کو دیکھنے سے اللہ یاد آ جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے شریر لوگوں کے بارے میں بتلا دوں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو چغلخور ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے درمیان فساد برپا کرتے ہیں اور (عیوب سے) بری لوگوں کے لیے غلطیاں تلاش کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۸۸۴) تخریج: حسن بشواھدہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۱۹ (انظر: ۲۷۵۹۹)
9884
Sahih
۔ (۹۸۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبَرَیْنِ، فَقَالَ: ((اِنَّھُمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ، اَمَّا اَحَدُھُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ: مِنْ بَوْلِہِ، ((وَاَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۰)
۔ لوگ ہیں جو چغلخور ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے درمیان فساد برپا کرتے ہیں اور (عیوب سے) بری لوگوں کے لیے غلطیاں تلاش کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۸۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۸، ومسلم: ۲۹۲ (انظر: ۱۹۸۰)
9885
Sahih
۔ (۹۸۸۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَصْحَابِہٖ: ((لَا یُبَلِّغُنِیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ مِنْ اَصْحَابِیْ شَیْئًا، فَاِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَخْرُجَ الِیْکُمْ، وَاَنَا سَلِیْمُ الصَّدْرِ۔))، قَالَ: وَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالٌ، فَقَسَمَہُ، قَالَ: فَمَرَرْتُ بِرَجُلَیْنِ، وَاَحَدُھُمَا یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: وَاللّٰہِ! مَااَرَادَمُحَمَّدٌبِقِسْمَتِہِوَجْہَاللّٰہِ،وَلَاالدَّارَالْآخِرَۃِ، فَتَثَبَّتُّ، حَتّٰی سَمِعْتُ مَا قَالَا، ثُمَّ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ قُلْتَ لَنَا: ((لَا یُبَلِّغُنِیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ مِنْ اَصْحَابِیْ شَیْئًا۔)) وَاِنِّیْ مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ، وَھُمَا یَقُوْلَانِ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَاحْمَرَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَشَقَّ عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((دَعْنَا مِنْکَ فَقَدْ اُوْذِیَ مُوْسٰی اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ، ثُمَّ صَبَرَ۔)) (مسند احمد: ۳۷۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ مال لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو تقسیم کیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا، ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! اس تقسیم سے محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا ارادہ نہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور نہ آخرت کا گھر، پھر میں نے مزید توجہ کی اور ان کی باتیں سن لیں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے توہمیں یہ فرمایا تھا کہ کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے۔ لیکن اب بات یہ ہے کہ میں فلاں فلاں کے پاس سے گزرا اور وہ اس طرح کی باتیں کر رہے تھے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزری اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھوڑ دو ہم کو، پس موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔
Takhreej
(۹۸۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، ولبعضہ شواھد، أخرجہ الترمذی: ۳۸۹۶، وأخرجہ الی قولہ سلیم الصدر ابوداود: ۴۸۶۰ (انظر: ۳۷۵۹)
9886
Zaeef
۔ (۹۸۸۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: تَکَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ کَلِمَۃً فِیْھَا مَوْجِدَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ تُقِرَّنِیْ نَفْسِیْ اَنْ اَخْبَرْتُ بِھَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَوَدِدْتُ اَنِّیْ اِفْتَدَیْتُ مِنْھَا بِکُلِّ اَھْلٍ وَمَالٍ، فَقَالَ: ((قَدْ آذَوْا مُوْسٰی عَلَیْہِ الصلاۃ والسلام اَکَثْرَ مِنْ ذٰلِکَ فَصَبَرَ، ثُمَّ اَخْبَرَ اَنَّ نَبِیًّا کَذَّبَہُ قَوْمُہُ، وَشَجُّوْہُ حِیْنَ جَائَ ھُمْ بِاَمْرِ اللّٰہِ، فَقَالَ: وَھُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْھِہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۳۳۱)
۔ (دوسری سند) ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کی کہ جس سے پتہ چل رہا تھا کہ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی بات محسوس کی ہوئی ہے، (بات اتنی سخت تھی کہ) میرا نفس مجھ پر قابو نہ پا سکا اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کر دیا، میں نے تو چاہا کہ اس بات کے فدیے میں اپنا سارا اہل و مال قربان کر دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں نے موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ ایذا دی، لیکن انھوں نے صبر کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتایا کہ ایک نبی کو اس کی قوم نے جھٹلایا اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو زخمی کر دیا، اب وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں۔
Takhreej
(۹۸۸۷) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۴۳۳۱)
9887
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.