۔ (۹۹۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَایُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْاِیْمَانَ کُلَّہُ حَتّٰییَتْرُکَ الْکَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَۃِ، وَیَتْرُکُ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ صَادِقًا۔)) (مسند احمد: ۸۶۱۵)
۔ مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
Takhreej
(۹۹۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، مکحول لم یسمع من ابی ھریرۃ، ومنصورُ بن آذِین مجھول (انظر: ۸۶۳۰)
Explanation
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَا زَعِیْمُ بَیْتٍ فِی رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَإِنْ کَانَ مُحِقًّا وَبَیْتٍ فِی وَسَطِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَإِنْ کَانَ مَازِحاً وَبَیْتٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُہُ۔)) … میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں، جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دیا (اور اپنے حق سے دستبردار ہو گیا) اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میںایک گھر کا ضامن ہوں جس نے مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہیں بولا اور اس شخص کے لیے جنت کے بلند ترین حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہوا۔ (ابوداود: ۴۸۰۰)
9910
Zaeef