TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان - تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 19 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 19 of 30 · 15 Hadith
۔ (۹۹۷۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ قَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْعَاقُّ، وَالدَّیُّوْثُ الَّذِیْیُقِرُّ فِیْ اَھْلِہِ الْخَبَثَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کو حرام قرار دیا ہے، شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، والدین کا نافرمان اور وہ دیوث جو اپنے گھر کے اندر برائی کو برقرار رکھتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۷۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۵۳۷۲)
Explanation
فوائد:… اپنے گھر والے افراد کے بارے میں غیرت نہ رکھنے والے کو دیوث کہتے ہیں، دوسرے الفاظ میں دیوث کا معنی بے غیرت ہے۔
9975
Sahih
۔ (۹۹۷۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، الْعَاقُّ وَالِدَیْہِ، وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَرْاَۃُ الْمُتَرَجِّلَۃُ الْمُتََشَبِّھَۃُ بِالرِّجَـالِ، وَالدَّیُّوْثُ، وَثَلَاثٌ لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، الْعَاقُّ بِوَالِدَیْہِ، وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ بِمَا اَعْطیٰ۔)) (مسند احمد: ۶۱۸۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد نہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والے،مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی خاتون اور دیوث اور اللہ تعالیٰ بروز قیامت تین افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا۔
Takhreej
(۹۹۷۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی: ۵/ ۸۰ (انظر: ۶۱۸۰)
9976
Sahih
۔ (۹۹۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ اِذَا کُنَّ فِیْ الرِجَّالِ، فَھُوَ الْمُنَافِقُ الْخَالِصُ، اِنْ حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِنْ وَعَدَ اَخْلَفَ، وَاِنِ ائْتُمِنَ خَانَ، وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنْھُنَّ لَمْ یَزَلْیَعْنِیْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰییَدَعَھَا۔)) (مسند احمد: ۶۸۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جب وہ کسی آدمی میں پائی جائیں گی تو وہ خالص منافق ہو گا، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی مخالفت کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے، اور جس فرد میں ان میں ایک خصلت ہو گی تو اس میں وہ دراصل نفاق کی خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دے۔
Takhreej
(۹۹۷۷) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۶۸۷۹)
Explanation
فوائد:… ان تین برائیوں کا تعلق منافقوں کے اعمال سے ہے۔
9977
Sahih
۔ (۹۹۷۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ یَعْنِیْ ابْنَ اِسْحٰقَ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ مِنْ عَمْلِ اَھْلِ الْجَاھِلیَّۃِ لَا یَتْرُکُھُنَّ اَھْلُ الْاِسْلَامِ، النِّیَاحَۃُ، وَالِْاسْتِسْقَائُ بِالْاَنْوَائِ۔)) وَکَذَا، قُلْتُ لِسَعِیْدٍ: وَمَاھُوَ؟ قَالَ: دَعْوَی الْجَاھِلیَّۃِیَا آلَ فُلَانٍ،یَا آلَ فُلَانٍ، یَا آلَ فُلَانٍ۔ (مسند احمد: ۷۵۵۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے تین امور ہیں، اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے، نوحہ کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح جاہلیت کی پکار پکارنا کہ اے آلِ فلاں، اے آلِ فلاں۔
Takhreej
(۹۹۷۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن حبان: ۳۱۴۱(انظر: ۷۵۶۰)
9978
Sahih
۔ (۹۹۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((ثَلَاثُ دَعْوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَکَّ فِیْھِنِّ، دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ، وَدَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَۃُ الْوَالِدِ عَلٰی وَلِدِہِ ۔)) (مسند احمد: ۸۵۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والدین کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔
Takhreej
(۹۹۷۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۱۵۳۶، والترمذی: ۱۹۰۵، ۳۴۴۸ (انظر: ۸۵۸۱)
9979
Sahih
۔ (۹۹۸۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ لَایَکُلِّمُھُمُ اللّٰہُ، وَلَا یَنْظُرُ الَِیْھِمْ، وَلَا یُزَکِّیْھِمْ، وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ، رَجُلٌ عَلٰی فَضْلِ مَائٍ بِالْفَلَاۃِ،یَمْنَعُہُ مِنِ ابْنِ السَّبِیْلِ، وَرَجُلٌ بَایَعَ الْاِمَامَ وَلَا یُبَایِعُہُ اِلَّا لِدُنْیَا، فَاِنْ اَعْطَاہُ مِنْھَا وَفٰی لَہُ، وَاِنْ لَمْ یُعْطِہِ لَمْ یَفِ لَہُ، قَالَ: َورَجُلٌ بَایَعَ رَجُلًا سِلْعَۃً بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَہُ بِاللّٰہِ لَاَخَذَھَا، بِکَذَا، وَکَذَا، فَصَدَّقَـہُ، وَھُوَ عَلیٰ غَیْرِ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ تین افراد سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا، ایک وہ آدمی جو کسی بیابان میں زائد پانی پر قبضہ کر لے اور مسافر کو اس سے روک دے، دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیا کے لیے حکمران کی بیعت کرے، اگر وہ اس کو دنیوی مال دے تو وہ بیعت کے تقاضے پورا کرتا ہے اور اگر کچھ نہ دے تو وہ پورا نہیں کرتا، تیسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد اپنا سامان فروخت کرے اور اس بات پر قسم اٹھائے کہ اس نے یہ سامان اتنی قیمت کا لیا ہے، پس اس سے خریدنےوالے اس قسم کی وجہ سے اس کی تصدیق کرے، جبکہ حقیقت میں اس کا معاملہ جھوٹ پر ہو۔
Takhreej
(۹۹۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۵۸، ومسلم: ۱۰۸ (انظر: ۷۴۴۲)
9980
Sahih
۔ (۹۹۸۱)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ کَرِہَ لَکُمْ ثَلَاثًا، قِیْلَ وَقَالَ، وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ، وَاِضَاعَۃَ الْمَالِ، وَحَرَّمَ عَلَیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ، وَمَنْعَ وَھَاتِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۲۸)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوںکو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔
Takhreej
(۹۹۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۰۸، ومسلم: ۵۹۳(انظر: ۱۸۱۴۷)
Explanation
فوائد:… قیل و قال: اس سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے باتیں کی جائیں اور بغیر تحقیق کے لوگوں کی باتیں بیان کی جائیں۔ کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔ آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔
9981
Sahih
۔ (۹۹۸۲)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: سَاَلْنَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَلَاثٍ، فَلَمْ یُرَخِّصْ لَنَا فِیْ شَیْئٍ مِنْھّنَّ، سَاَلْنَاہُ اَنْ یَرُدَّ اِلَیْنَا اَبَابَکْرَۃَ وَکَانَ مَمْلُوْکًا وَاَسْلَمَ قَبْلَنَا، فَقَالَ: ((لَا، ھُوَ طلِیْقُ اللہ، ثُمَّ طلِیْق رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) ثُمَّ سَاَلْنَاہُ اَنْ یُُرَخِّصَ لَنَا فِیْ الشِّتَائِ وَکَانَتْ اَرْضُنَا اَرْضًا بَارِدَۃًیَعْنِیْ فِیْ الطُّھُوْرِ فَلَمْ یُرَخِّصْ لَنَا، وَسَاَلْنَاہُ اَنْ یُرَخِّصَ لَنَا فِیْ الدُّبَّائِ، فَلَمْ یُرَخِّصْ لَنَا فِیْہِ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۷۱)
۔ بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تین چیزوں کا سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کسی ایک میں بھی رخصت نہیں دی، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں لوٹا دیں، وہ غلام تھا اور ہم سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اس کے رسول کا آزاد شدہ ہے۔ پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں بڑی سردی پڑتی ہے، اس لیے ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت دی جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں رخصت نہ دی، پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ اجازت چاہی کہ ہمیں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کی بھی رخصت نہ دی۔
Takhreej
(۹۹۸۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرج منہ قصۃ ابی بکرۃ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۴۲۷۳، وفی شرح معانی الآثار : ۳/ ۲۷۸ (انظر: ۱۷۵۳۰)
Explanation
فوائد:… جب کافروں کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بعد میں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، عذر کے وقت غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنا درست ہے، لیکن ان لوگوں کا عذر اس لائق نہیں تھا کہ ان کو یہ رخصت دی جائے۔
9982
Sahih
۔ (۹۹۸۳)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ نَّھْرِ الْغُوْطَۃِ۔)) قِیْلَ: وَمَا نَھْرُ الْغُوْطَۃِ؟ قَالَ: ((نَھْرٌ یَجْـرِیْ مِنْ فُرُوْجِ الْمُوْمِسَاتِ یُؤْذِیْ اَھْلَ النَّارِ رِیْحُ فُرُوْجِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد جنت میں داخل نہیں ہوں گے، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔ اور جو آدمی شراب پر ہمیشگی والی حالت پر مرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔ کسی نے کہا: غوطہ کی نہر سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ زانی عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلنے والی نہر ہو گی، ان کی شرمگاہوں کی بدبو جہنمیوں کو تکلیف دے گی۔
Takhreej
ٍ(۹۹۸۳) تخریج: قولہ منہ: ثلاثۃلایدخلون الجنۃ: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر۔ حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابی حریز، أخرجہ ابن حبان: ۵۳۴۶، وابویعلی: ۷۲۴۸، والحاکم: ۴/ ۱۴۶(انظر: ۱۹۵۶۹)
9983
Zaeef
۔ (۹۹۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! مَنْ ھُمْ خَسِرُوْا وَخَابُوْا قَالَ: فَاَعَادَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ((الْمُسْبِلُ، وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہُ بِالْحَلْفِ الْکَاذِبِ اَوِ الْفَاجِرِ، وَالْمَنَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۴۴)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے نہ کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟یہ تو خسارہ پانے والے اور ناکام ہونے والے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار وہی بات دوہرائی اور پھر فرمایا: کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتلانے والا۔
Takhreej
(۹۹۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم:۱۰۶ (انظر: ) ۲۱۳۱۸
9984
Sahih
۔ (۹۹۸۵)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ فَارَقَ الرُّوْحُ الْجَسَدَ وَھُوَ بَرِیْیئٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، الْکِبْرَ، وَالدَّیْنَ، وَالْغُلُوْلَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۲۷)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی روح اس حال میں اس کے جسم سے جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو، تو وہ جنت میں داخٰل ہو گا، ایک تکبر، دوسری قرض اور تیسری خیانت۔
Takhreej
(۹۹۸۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۱۵۷۲(انظر: ۲۲۳۶۹)
9985
Sahih
۔ (۹۹۸۶)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا تَسْاَلْ عَنْھُمْ، رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ، وَعَصٰی اِمَامَہُ، وَمَاتَ عَاصِیًا، وَاَمَۃٌ اَوْعَبْدٌ اَبَقَ فَمَاتَ، وَامْرَاَۃٌ غَابَ عَنْھَا زَوْجُھَا، قَدْ کَفَاھَا مُؤُنَۃَ الدُّنْیَا، فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَہُ، فَـلَا تَسْاَلْ عَنْھُمْ، وَثَلَاثَۃٌ لَا تَسْاَلْ عَنْھُمْ، رَجُلٌ نَازَعَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ رِدَائَ ہُ، فَاِنَّ رِدَائَ ہُ الْکِبْرِیَائُ، وَاِزَارَہُ الْعِـزِّۃُ، وَرَجُلٌ شَکَّ فِیْ اَمْرِ اللّٰہِ، وَالْقُنُوْطُ مِنْ رَحْمَـۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۱)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’تین افراد کے (جرم کی سنگینی) بارے میں سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا، اپنے امام کی نافرمانی کی اور اس نافرمانی کے دوران ہی فوت ہو گیا، (۲) وہ لونڈییا غلام جو آقا سے بھاگ گیااور اسی حالت میں مر گیا، اور (۳) وہ عورت کہ جس کا خاوند اس سے غائب تھا، جبکہ اس نے اس کے دنیا کے اخراجات پورے کیے ہوئے تھے، لیکن اس خاتون نے اپنے خاوند کے بعد (غیروں کے لیے) بناؤ سنگھار کیا، پس تو ان نافرمانوں کے بارے میں سوال نہ کر۔ تین افراد اور بھی ہیں، ان کے (جرم کی سنگینی) کے بارے میں بھی سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی چادر چھیننا چاہییعنی تکبر کرنا چاہا، پس بیشک اس کی چادر تکبر ہیں اور اس کا ازار اس کی بڑائی ہے، (۲) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں شک کیا اور (۳) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔
Takhreej
(۹۹۸۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۳۷۴۹، وابن حبان: ۴۵۵۹، والحاکم: ۱/ ۱۱۹، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۷۹۰ (انظر: ۲۳۹۴۳)
9986
Sahih
۔ (۹۹۸۷)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، لِاِبْنِ السَّائِبِ قَاصِّ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ: ثَلَاثَۃٌ لَتُتَابِعَنِّیْ عَلَیْھِنِّ اَوْ لَاُنَاجِزَنَّکَ، فَقَالَ: مَاھُنَّ؟ بَلْ اَنَا اُتَابِعُکِ یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَالَتِ: اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَائِ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابَہُ کَانُوْا لَا یَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ، وَقَالَ اِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: فَقَالَت: اِنِّیْ عَھِدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابَہُ وَھُمْ لَا یَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ، وَقُصَّ عَلَی النَّاسِ فِیْ کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، فَاِنْ اَبَیْتَ فَثِنْتَیِنْ، فَاِنْ اَبَیْتَ فَثَلَاثًا، فَـلَا تُمِلَّ النَّاسَ ھٰذَا الْکِتَابَ، وَلَا اُلْفِیَنَّکَ تَاْتِیْ الْقَوْمَ وَھُمْ فِیْ حَدِیْثٍ مِنْ حَدِیْثِھِمْ فَتَقْطَعُ عَلَیْھِمْ حَدِیْثَھُمْ، وَلٰکِنِ اتْرُکْھُمْ، فَاِذَا جَرَّئُ وْکَ عَلَیْہِ وَاَمَرُوْکَ بِہٖفَحَدِّثْھُمْ۔ (مسنداحمد: ۲۶۳۴۰)
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن سائب سے کہا: یا تو تو تین چیزوں پر میری موافقت کرے گا، یا میں تجھ سے مقابلہ کروں گی، انھوں نے کہا: وہ کون سی چیزیں ہیں؟ اے ام المؤمنین! میں آپ کی موافقت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱)دعا میں سجع کلام سے بچ، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ ایسے نہیں کرتے تھے، (۲)لوگوں کو ایک ہفتے میں ایک دفعہ وعظ کر، اگر تو انکار کرے تو دو بار کر لے، اگر یہ بھی تسلیم نہ کرے تو تین دفعہ کر لیا کر، لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس حالت میں نہ پاؤں کہ تو لوگوں کے پاس آئے، جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں اور تو آ کر ان کی بات کو کاٹ دے، تو نے ان کو چھوڑے رکھنا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ خود تجھے جرأت دلائیں اور بات کرنے کا حکم دیں تو پھر تو ان سے باتیں کر۔
Takhreej
(۹۹۸۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۱۹۹، وابن حبان: ۹۷۸ (انظر: ۲۵۸۲۰)
Explanation
فوائد:… کیا کمال نصیحتیں کی ہیں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے، یہ اسلام کے سنہری قوانین ہیں۔
9987
Sahih
۔ (۹۹۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ا، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدَّوَاوِیْنُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ثَلَاثَۃٌ، دِیْوَانٌ لَا یَعْبَاُ اللّٰہُ بِہٖشَیْئًا، وَدِیْوَانٌ لَا یَتْرُکُ اللّٰہُ مِنْہُ شَیْئًا، وَدِیْوَانٌ لَا یَغْفِرُہُ اللّٰہُ، فَاَمَّا الدِّیْوَانُ الَّذِیْ لَا یَغْفِرُہُ اللّٰہُ فَالشِّرْکُ بِاللّٰہِ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ} وَاَمَّا الدِّیْوَانُ الَّذِیْ لَا یَعْبَاُ اللّٰہُ بِہٖشَیْئًا ، فَظُلْمُ العَبْدِ نَفْسَہُ، فِیْمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَبِّہِ، مِنْ صَوْمِ یَوْمٍ تَرَکَہُ، اَوْ صَلَاۃٍ تَرَکَھَا، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَغْفِرُ ذٰلِکَ وَیَتَجَاوَزُ اِنْ شَائَ، وَاَمَّا الدِّیْوَانُ الَّذِیْ لَا یَتْرُکُ اللّٰہُ مِنْہُ شَیْئًا، فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِھِمْ بَعْضًا، الْقِصَاصَ لَا مَحَالَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۵۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں تین قسم کے دیوان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایک دیوان کی تو کوئی پروا نہیں کرتا، ایک دیوان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان کو معاف نہیں کرے گا۔ پس وہ دیوان جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دے گا۔جس دیوان میں سے اللہ تعالیٰ کسی چیز کی پروا نہیں کرے گا، وہ بندے کا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے، اس چیز کا تعلق اس کے اور اس کے ربّ کے مابین ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک دن کا روزہ ترک کر دیا اور ایک نماز چھوڑ دی، پس بیشک اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کو بخش دے گا اور اس سے تجاوز کر جائے گا، اور جس دیوان میںاللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا، وہ ہے بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا، ان میں لامحالہ طور پر قصاص لیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۹۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف صدقۃ بن موسی، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۷۵ (انظر: ۲۶۰۳۱)
9988
Zaeef
۔ (۹۹۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ فَھُوَ مُنَافِقٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلیٰ وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ، اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا ائْتُمِنَ خَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۳۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جس آدمی میں وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا، اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور یہ گمان کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزیکرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔
Takhreej
(۹۹۸۹) تخریج: اسنادہ الأول صحیح علی شرط مسلم، وھو حدیث لہ اسنادان، أخرجہ ابوعوانۃ: ۱/ ۲۱، وابن حبان: ۲۵۷ (انظر: ۱۰۹۲۵)
9989
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.