چار چار امور کا بیان - چار چار امور کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 20 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو بڑے کی عزت نہ کرے، چھوٹے پر شفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی ، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدہ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔
Takhreej
(۹۹۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۲/۲۷، والبیھقی: ۶/ ۸۲، وأخرجہ ابوداود: ۳۵۹۷ دون قولہ: ومن مات وعلیہ دین… (انظر: ۵۳۸۵)
Explanation
فوائد:… مسلمان سے بتقاضۂ بشریت غلطی ہو جانا ممکن ہے اور یہ چیز زیادہ قابل جرح بھی نہیں ہے، کیونکہ نیکیوں کے ذریعےیا توبہ کرنے سے اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑنے کے درپے ہو جانا بغاوت ہے اور بغاوت کو کوئی بھی برداشت نہیں کرتا۔ اگر کسی مجرم کا معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہو اور اس پر حدّ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہو تو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کی حدّ کے سامنے روڑے اٹکائے۔ یہی معاملہ اس جھگڑے کا ہے، جس کی بابت جھگڑنے والے کو پتہ ہو کہ وہ باطل پر ہے، لیکن پھر بھی اپنی انانیت کے دفاع کا بھوت سوار کر کے یا کسی اور مقصد کے پیشِ نظر لڑائی جاری رکھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے کہ مرد ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کرے، نہ یہ حلال ہے کہ آدمی اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے، یہاں تک کہ وہ ساتھی اس سودے کو چھوڑ دے، کسی ویرانے میں موجود تین افراد کے لیے حلال نہیں ہے، الا یہ کہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی کو امیر بنا دیں، اسی طرح جب کسی بیاباں میں تین افراد ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، احسان جتلانے والا اور زنا کی اولاد، یہ سارے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
Takhreej
(۹۹۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ ولا ولد زنیۃ وھذا اسناد ضعیف، علتہ جابان، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۴۹۱۶،والطیالسی: ۲۲۹۵(انظر: ۶۸۹۲)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے علی! پورا پورا وضو کر، اگرچہ وہ تجھ پر گراں گزرے، صدقہ نہ کھا، گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوا اور نجومی لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھ۔
Takhreej
(۹۹۹۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۴۸۴ (انظر: ۵۸۲)