۔ ابو زبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم گناہوں کو شرک سمجھتے تھے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! اگر تم گناہ کرتے رہو، یہاں تک کہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے زمین و آسمان کا درمیانی خلا بھر جائے، پھر جب تم اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو گے تو وہ تم کو بخش دے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر دے گا، جو گناہ کریں اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں گے اور وہ ان کو معاف کرے گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے گناہ نہ کیے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کریں گے، تاکہ وہ ان کو بخشے۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے کہا: میں تم سے ایک حدیث چھپاتا تھا، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے گا، جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایک آدمی نے گناہ کیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کیا ہے ، تو اس کو بخش دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور یہ بھی جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو گناہ کو بخش بھی سکتا ہے اور اس کی وجہ سے گرفت بھی کر سکتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے۔ پھر اس بندے نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، پس تو اس کو بخش دے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے۔ پھر اس نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کر دیا ہے، پس تو اس کومعاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے، وہ جو چاہے عمل کرتا رہے۔
۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک قیدی کو لایا گیا، اس نے کہا: اے اللہ! میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں، میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف توبہ نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قیدی نے حق کو اس کے اہل کے لیے پہچان لیا ہے۔