مسنداحمد

Musnad Ahmad

توبہ کی کتاب

توحید پرست بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بیان کے ابواب

۔ (۱۰۱۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ کَتَبَ کِتَابًا بِیَدِہِ لِنَفْسِہِ قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فَوَضَعَہُ تَحْتَ عَرْشِہِ، فِیْہِ رَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۸)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل اپنے ہاتھ سے اپنے نفس کے لیے ایک کتاب لکھی اور اس کو اپنے عرش کے نیچے رکھا، اس میں ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔

۔ (۱۰۱۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا فَرَغَ اللّٰہُ مِنَ الْخَلْقِ کَتَبَ عَلٰی عَرْشِہِ رَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۰۱۵)

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مخلوق سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے عرش پر لکھا: میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی۔

۔ (۱۰۱۸۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا قَضَی اللّٰہُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِیْ کِتَابِہٖفَھُوَعِنْدَہُفَوْقَالْعَرْشِ،اِنَّرَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ(وَفِیْ لَفْظٍ) غَلَبَتْ غَضَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۴۹۱)

۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کامعاملہ مکمل کیا، تو اپنی کتاب میں لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی، وہ کتاب عرش پر اس کے پاس ہے۔

۔ (۱۰۱۹۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ کَتَبَ بِیَدِہِ عَلٰی نَفْسِہِ اِنَّ رَحْمَتِیْ غَلَبَتْ غَضَبِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹۵)

۔ (چوتھی سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے نفس پر لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔