۔ (۱۰۲۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ رَزِیْنِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((ضَحِکَ رَبُّنَا قُنُوْطَ عِبَادِہِ وَقُرْبَ غِیَرِہِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اَوَ یَضْحَکُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔ قَالَ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ یَضْحَکُ خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۸۸)
۔ سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ اس بات پر ہنستا ہے کہ اس کا بندہ ناامید ہو رہا ہوتا ہے، جبکہ اس کے حالات کی تبدیلی قریب ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ربّ تعالیٰ بھی ہنستا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہم ہنسنے والے ربّ کے ہاں خیر کو مفقود نہیں پائیں گے۔
Takhreej
(۱۰۲۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال وکیع بن حدس، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۱ (انظر: ۱۶۱۸۷)
Explanation
فوائد:… جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے معمولی آزمائش کو کچھ وقت کے لیے رفع نہیں کرتا تو خیر سے مایوسی اس پر غلبہ پانے لگتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ اس بندے کے لیے خیر کا معاملہ قریب ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْاعَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَاتَقْنَطُوْامِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ} … کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ (سورۂ زمر: ۵۳)
مزید فرمایا: {وَلَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِنَّہٗلَایَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ۔} … اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک حقیقتیہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ (سورۂ یوسف: ۸۷)
10201
Zaeef