۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔ انھوں نے کہا: خوشخبری تو آپ نے ہمیں دے دی ہے، اب ہمیں (کچھ مال و متاع) دیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بنو تمیم خوشخبری قبول نہیں کرنا چاہتے تو اے اہل یمن! تم قبول کر لو۔ ہم نے کہا: جی ہم نے قبول کی، پس آپ ہمیں اس عالم کی ابتدا کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھا، اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا، اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا ذکر لکھا۔ اتنے میں ایک آنے والے نے کہا: اے عمران! تیری اونٹنی رسی کھلا گئی ہے، پس میں اس کو پکڑنے کے لیے نکل پڑا، (وہ اتنی دور جا چکی تھی کہ) اس کے اور میرے درمیان ایک سراب نظر آ رہا تھا، پس میں اس کے پیچھے چلا گیا اور یہ نہ جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد کیا ارشاد فرمایا۔
۔ سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل ہمارا ربّ کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ باریک بادل میں تھا، اس کے نیچے بھی ہوا تھی اور اوپر بھی ہوا تھی، پھر اس نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا نفس خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھ ٹھنڈی ہو جاتی ہے، پس آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حکم کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کر اور پھر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس سے کہا: لکھ، پس وہ اسی گھڑی میں چلی اور قیامت تک ہونے والے امور لکھ دیئے۔
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بادل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مُزْن بھی کہتے ہیں؟ ہم نے کہا:: جی مُزْن بھی کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو عَنَان بھی کہتے ہیں؟ ہم جواباً خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، جبکہ ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو برس ہے اور ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی اتنی ہی ہے، جتنا زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے، اس کے اوپر پہاڑی بکرے کی شکل کے آٹھ فرشتے ہیں، ان کے کھر سے گھٹنے تک کی لمبائی اتنی ہے، جتنی زمین سے آسمان تک کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر عرش ہے، عرش کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس پر بنو آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل مخفی نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ جنت کا اعلی و افضل حصہ اور مقام ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ شعر کہا تھا: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔