مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

سمندروں اور دریاؤں کا بیان

۔ (۱۰۲۲۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیْحَانُ وَجَیْحَانُ وَالنِّیْلُ وَالْفُرَاتُ وَکُلٌ مِنْ اَنْھَارِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۷۳)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیحان، جیحان، فرات اور نیل ساری جنت کی نہروں میں سے ہیں۔

۔ (۱۰۲۲۸)۔ عَنْ صَبَّاحِ بْنِ اَشْرَسَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ فَقَالَ: اِنَّ مَلَکًا مُوَکَّلٌ بِقَامُوْسِ الْبَحْرِ فَاِذَا وَضَعَ رِجْلَہُ فَاضَتْ، وَاِذَا رَفَعَھَا غَاضَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۲۶)

۔ صباح بن اشرس سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مد و جزر کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: ایک فرشتے کو سمندر کے درمیانے اور بڑے حصے پر مقرر کیا گیا ہے ، جب وہ اپنی ٹانگ اس میں رکھتا ہے تو پانی زیادہ ہو جاتا ہے اور جب وہ اس کو اٹھا لیتا ہے تو پانی کم ہو جاتا ہے۔

۔ (۱۰۲۲۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ لَیْلَۃٍ اِلَّا وَالْبَحْرُ یُشْرِفُ فِیْھَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَی الْاَرْضِ، یَسْتَاْذِنُ اللّٰہَ فِیْ اَنْ یَنْفَضِحَ عَلَیْھِمْ فَیَکُفُّہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۳۰۳)

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر رات کو سمندر تین بار زمین پر جھانکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زمین والوں پر بہہ پڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو روک لیتا ہے۔

۔ (۱۰۲۳۰)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ یَعْلٰی، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْبَحْرُھُوَ جَھَنَّمُ۔)) قَالُوْا لِیَعْلٰی: فَقَالَ: اَلا تَرَوْنَ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {نَارًا اَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَا} قَالَ: لَا، وَالَّذِیْ نَفْسُ یَعْلٰی بِیَدِہِ لَا اَدْخُلُھَا اَبَدًا حَتّٰی اُعْرَضَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یُصِیْبُنِیْ مِنْھَا قَطَرَۃٌ حَتّٰی اَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۲۴)

۔ سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سمندر جہنم ہی ہے۔ لوگوں نے سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ظالموں کے لیے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی۔ (سورۂ کہف: ۲۹) انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںیعلی کی جان ہے! میں اس میں کبھی بھی داخل نہیں ہوں گا، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے اور اس کا ایک قطرہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔

۔ (۱۰۲۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَائِ فَاِنْ تَوَضَّأْنَا بِہٖعَطِشْنَا،اَفَنَتَوَضَّاُمِنْمَائِالْبَحْرِ؟فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاؤُہُ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۸۷۲۰)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی اٹھاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔