مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

فرشتوں کی تخلیق کا بیان

۔ (۱۰۲۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُوْرٍ، وَخُلِقَتِ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۰۹)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے۔

۔ (۱۰۲۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ، وَاَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ، اَطَّتِ السَّمَائُ وَحَقَّ لَھَا اَنْ تَئِطَّ، مَا فِیْھَا مَوْضِعُ اَرْبَعِ اَصَابِعَ، اِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ سَاجِدٌ، لَوْ عَلِمْتُمْ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا، وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَائِ عَلَی الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ عَلَی، اَوْ اِلَی الصُّعُدَاتِ تَجْاَرُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔)) قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: وَاللّٰہِ لَوَدِدْتُ اَنِّیْ شَجَرَۃٌ تُعْضَدُ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۸)

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔ (سنو!) آسمان چرچراتا ہے اور اسے چرچرانا ہی زیب دیتا ہے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ خالی نہیں ہے، ہر جگہ فرشتے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمھیں اس کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا کم کر دو، رونا زیادہ کر دو، بچھونوں پر اپنی بیویوں سے لذتیں اٹھانا ترک کر دو اور (اللہ کی طرف) گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاؤ۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا۔

۔ (۱۰۲۵۹)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ الْاَنْبِیَائُ، فَاِذَا مُوْسٰی علیہ السلام رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، کَاَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، فَرَاَیْتُ عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشَبَھًاعُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَرَاَیْتُ اِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشُبْھًاصَاحِبُکُمْیَعْنِیْ نَفْسَہُ، وَرَاَیْتُ جِبْرِیْلَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشَبْھًادِحْیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۳)

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے زیادہ مشابہ لگتے تھے۔

۔ (۱۰۲۶۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیْلَ وَلَہُ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ، کُلٌّ مِنْھَا قَدْ سَدَّ الْاُفُقَ، یَسْقُطُ مِنْ جَنَاحِہِ مِنَ التَّھَاوِیْلِ وَالدُّرِّ وَالْیَاقُوْتِ مَااللّٰہُ اَعْلَمُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۳۷۴۸)

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی حالت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے، ان میں سے ہر پر نے افق کو پُر کر رکھا تھا، ان کے پروں سے مختلف رنگوں کی چیزیں، موتی اوریاقوت گر رہے تھے، جن کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔

۔ (۱۰۲۶۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: اِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَرَ جِبْرِیْلَ فِیْ صُوْرَتِہِ اِلَّا مَرَّتَیْنِ، (اَمَّا مَرَّۃً) فَاِنَّہُ سَاَلَہُ اَنْ یُرِیَہُ نَفْسَہُ فِیْ صُوْرَتِہِ فَاَرَاہُ صُوْرَتَہُ فَسَدَّ الْاُفُقَ،(وَ اَمَّا الْاُخْرٰی) فَاِنَّہُ صَعِدَ مَعَہُ حِیْنَ صَعِدَ بِہٖوَقَوْلُہُ: {وَھُوَبِالْاُفُقِالْاَعْلٰی ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہِ مَا اَوْحٰی} قَالَ: فَلَمَّا اَحَسَّ جِبْرِیْلُ رَبَّہُ عَادَ فِیْ صُوْرَتِہِ وَسَجَدَ، فَقَوْلُہُ: {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی لَقَدْ رَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} قَالَ: خَلْقَ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ (مسند احمد: ۳۸۶۴)

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا، ایک بار اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو اپنی اصلی صورت دکھائے، پس انھوں نے اپنی اصلی شکل دکھائی اور افق کو بھر دیا، دوسری مرتبہ اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ساتھ چڑھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا، پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا، پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اس سے بھی کم، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی۔ پس جب حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے ربّ کو محسوس کیا تو اپنی اصلی شکل میں آ کر سجدہ کیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا، سدرۃ المنتہی کے پاس، اسی کے پاس جنۃ الماوی ہے، جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی، وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی، نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی،یقینا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں۔اس نے کہا: یہ جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہے۔

۔ (۱۰۲۶۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ تْ یَھُوْدُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا لَہُ مَلَکٌ یَاْتِیْہِ بِالْخَیْرِ، فَاَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُکَ؟ قَالَ: ((جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالُوْا: جِبْرِیْلُ ذَاکَ الَّذِیْیَنْزِلُ بِالْحَرْبِ، وَالْقِتَالِ، وَالْعَذَابِ، عَدُوُّنَا، لَوْ قُلْتَ مِیْکَائِیْلُ الَّذِیْیَنْزِلُ بِالرَّحْمَۃِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَکَانَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیْلَ} اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہر نبی کا ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کے پاس خیر لاتا ہے، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے پاس آنے والا فرشتہ کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام ہے۔ انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو لڑائی، قتال اور عذاب کے ساتھ نازل ہونے والا ہمارا دشمن فرشتہ ہے، اگر آپ نے میکائیل کا نام لیا ہوتا تو تب بات بنتی، وہ رحمت، انگوری اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ } … آپ کہہ دیجئے کہ جو جبریل کا دشمن ہے تو یقینا اس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)

۔ (۱۰۲۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَاحِبَ الصُّوْرِ فَقَالَ: ((عَنْ یَمِیْنِہِ جِبْرِیْلُ، وَ عَنْ یَسَارِہِ مِیْکَائِیْلُm ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۸۵)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی دائیں جانب جبریل علیہ السلام ہے اور بائیں جانب میکائیل علیہ السلام ۔

۔ (۱۰۲۶۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ لِجِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: ((مَالِیْ لَمْ اَرَ مِیْکَائِیْلُ ضَاحِکًا قَطُّ؟)) قَالَ: مَا ضَحِکَ مِیْکَائِیْلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۷۶)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں نے میکائیل کو کبھی بھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ انھوں نے کہا: اس وقت سے میکائیل نہیںہنسے، جب سے جہنم کی آگ کو پیدا کیا گیا۔

۔ (۱۰۲۶۵)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَصْلِحِی لَنَا الْمَجْلِسَ، فَاِنَّہُ یَنْزِلُ مَلَکٌ اِلَی الْاَرْضِ لَمْ یَنْزِلْ اِلَیْھَا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۷۱)

۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: میری بیٹھک کو درست کردے، کیونکہ زمین کی طرف وہ فرشتہ نازل ہونے والا ہے، جو پہلے کبھی نازل نہیں ہوا۔

۔ (۱۰۲۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ الْعَالِیَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ ابْنُ عَمِّ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَا یَنْبَغِیْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی، وَنَسَبَہُ اِلٰی اَبِیْہِ۔)) قَالَ: وَ ذَکَرَ اَنَّہُ اُسْرِیَ بِہٖ،وَاَنَّہُرَاٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، آدَمَ طُـوَالًا، کَاَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، وَ ذَکَرَ اَنَّہُ رَاٰی عِیْسٰی مَرْبُوْعًا اِلَی الْحُمْرَۃِ وَ الْبَیَاضِ، جَعْدًا، وَ ذَکَرَ اَنَّہُ رَاٰی الدَّجَّالَ، وَمَالِکًا خَازِنَ النَّارِ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۹)

۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچا زاد (سیدنا عبد اللہ بن عباس f) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا ذکر کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کا جسم بھرا ہوا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال اور جہنم کے داروغے مالک کو دیکھا۔

۔ (۱۰۲۶۷)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا کَانَ فِیْ اِنْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَ اِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَۃِ نَزَلَ اِلَیْہِ مَلَائِکَۃُ مِنَ السَّمَائِ بِیْضُ الْوُجُوْہِ کَاَنَّ وُجُوْھَھُمُ الشَّمْسُ مَعَھُمْ کَفْنٌ مِنْ اَکْفَانِ الْجَنَّۃِ وَحُنُوْطٌ مِنْ حُنُوْطِ الْجَنَّۃِ، حَتّٰییَجْلِسُوْا مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ یَجِیْئُ مَلَکُ الْمَوْتِ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰییَجْلِسَ عِنْدَ رَاْسِہِ فَیَقُوْلُ : اَیَّتُھَا النَّفْسُ الطَّیِّبَۃُ اخْرُجِیْ اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ، قَالَ: فَتَخْرُجُ تَسِیْلُ کَمَا تَسِیْلُ الْقَطْرَۃُ مِنْ فِیْ السِّقَائِ، فَیَاْخُذُ ھَا فَاِذَا اَخَذَھَا لَمْ یَدَعُوْھَا فِیْیَدِہِ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتّٰییَاْخُذُوْھَا فَیَجْعَلُوْھَا فِیْ ذٰلِکَ الْکَفْنِ وَفِیْ ذٰلِکَ الْحُنُوْطِ وَیَخْرُجُ مِنْھَا کَاَطْیَبِ نَفْخَۃِ مِسْکٍ وُجِدَتْ عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ، قَالَ: فَیَصْعَدُوْنَ بِھَا فَـلَا یَمُرُّوْنَیَعْنِیْ بِھَا عَلٰی مَلَاٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ اِلَّا قَالُوْا : مَا ھٰذَا الرُّوْحُ الطَّیِّبُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِاَحْسَنِ اَسْمَائِہِ الَّتِیْ کَانُوْا یُسَمُّوْنَہُ بِھَا فِیْ الدُّنْیَا حَتّٰییَنْتَھُوْا بِھَا اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فَیَسْتَفْتِحُوْنَ لَہُ فَیُفْتَحُ لَھُمْ، فَیُشَیِّعُہُ مِنْ کُلِّ سَمَائٍ مُقَرَّبُوْھَا اِلَی السَّمَائِ الَّتِیْ تَلِیْھَا حَتّٰییُنْتَھٰی بِھَا اِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اکْتُبُوْا کِتَابَ عَبْدِیْ فِیْ عِلِّیِّیْنَ وَاَعِیْدُوْہُ اِلَی الْاَرْضِ فَاِنِّیْ مِنْھَا خَلَقْتُھُمْ وَفِیْھَا اُعِیْدُ ھُمْ وِ مِنْھَا اُخْرِجُھُمْ تَارَۃً اُخْرٰی، قَالَ: فَتُعَادَ رُوْحُہُ فِیْ جَسَدِہِ فَیَاْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہِ فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَنْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ : رَبِّیَ اللّٰہُ، فَیَقُوْلَانِ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: دِیْنِیَ الْاِسْلَامُ۔)) الحدیث (مسند احمد: ۱۸۷۳۳)

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ جب دنیا سے آخرت کی طرف جانے کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے چہرے سورج کی طرح سفید ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے خوشبو ہوتی ہے، وہ تاحد نگاہ اس آدمی کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت علیہ السلام آتا ہے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے: اے پاکیزہ نفس! نکل اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف، پس اس طرح بہہ کر نکلتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ بہتا ہے، پس وہ اس کو پکڑ لیتا ہے، جب وہ اس کو پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے آنکھ جھپکنے کے بقدر بھی اس کو اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے، وہ خود اس کو پکڑ لیتے ہیں اور اس کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر پائی جانے والی سب سے بہترین کستوری کے جھونکے کی طرح خوشبو آتی ہے، پس وہ فرشتے اس روح کو لے کر چڑھتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کون سی ہے؟ وہ کہتے ہیں: یہ فلاں بن فلاں ہے، وہ اس کو بہترین نام کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جس کے ساتھ وہ دنیا میں اس کو موسوم کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اس کو آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں، پس ان کے لیے دروزہ کھول دیا جاتا ہے، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کو الوداع کرنے کے لیے اگلے آسمان تک اس کے ساتھ چلتے ہیں،یہاں تک کہ اس روح کو ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے کی کتاب کو علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو، کیونکہ میں نے ان کو زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ ان کو نکالوں گا، پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دیجاتی ہے، اس کے پس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا کر کہتے ہیں: تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا ربّ اللہ ہے، وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔

۔ (۱۰۲۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَتَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ النَّھَارِ، قَالَ: وَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ النَّھَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ قَالَ: فَیَسْاَلُھُمْ رَبُّھُمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ اَتَیْنَاھُمْ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ، وَتَرَکْنَاھُمْ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ۔)) قَالَ سُلَیْمَانُ (یَعْنِیْ الْاَعْمَشَ اَحَدَ الرُّوَاۃِ): وَلَا اَعْلَمُہُ اِلَّا قَدْ قَالَ فِیْہِ: ((فَاغْفِرْ لَھُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۰)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نمازِ فجر اور نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نماز ِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پھر جب عصر کی نماز میںجمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے تو پھر بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے، پس تو ان کو جزا کے دن بخش دینا۔

۔ (۱۰۲۶۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْْکُمْ مِنْ اَحَدٍ، اِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِہٖقَرِیْنُہُ مِنَ الْجِنِّ، وَقَرِیْنُہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ۔)) قَالُوْا: وَاِیَّاکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَاِیَّایَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَـلَا یَاْمُرْنِیْ اِلَّا بِحَقٍّ۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۸)

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ جنوں میں سے ایک ساتھی اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر کیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری نصرت کی، پس وہ مجھے صرف حق کا ہی حکم دیتا ہے۔

۔ (۱۰۲۷۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ نَبِیَّ اللّٰہِ یَقُوْلُ : ((اِنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا اَھْبَطَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَی الْاَرْضِ، قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ: اَیْ رَبِّ! {اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ} قَالُوْا: رَبَّنَا نَحْنُ اَطْوَعُ لَکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِلْمَلَائِکَۃِ: ھَلُمُّوْا مَلَکَیْنِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، حَتَّییُھْبَطَ بِھِمَا اِلَی الْاَرْضِ، فَنَنْظُرُ کَیْفَیَعْمَلَانِ، قَالُوْا: رَبَّنَا ھَارُوْتُ وَمَارُوْتُ، فَاُھْبِطَا اِلَی الْاَرْضِ، وَمُثِّلَتْ لَھُمَا الزُّھَرَۃُ بِاِمْرَاَۃٍ مِنْ اَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَائَ تْھُمَا، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ، حَتّٰی تَکَلَّمَا بِھٰذِہِ الْکَلِمَۃِ مِنَ الْاِشْرَاکِ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نُشْرِکُ بِاللّٰہِ اَبَدًا، فَذَھَبَتْ عَنْھُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِیٍّ تَحْمِلُہُ، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ، حَتّٰی تَقْتُلَا ھٰذَا الصَّبِیَّ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نَقْتُلُہُ اَبَدًا، فَذَھَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُہُ، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَشْرَبَا ھٰذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَکِرَا، فَوَقَعَا عَلَیْھَا، وَقَتَلَا الصَّبِیَّ، فَلَمَّا اَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْاَۃُ: وَاللّٰہِ! مَاتَرَکْتُمَا شَیْئًا مِمَّا اَبَیْتُمَا عَلَیَّ اِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِیْنَ سَکَرْتُمَا، فَخُیِّرَا بَیْنَ عَذَابِ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۶۱۷۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا: کیا تو اس زمین میں اس کوآباد کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تعریف کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بیشک میں وہ کچھ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ فرشتوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم بنو آدمی کی بہ نسبت تیری زیادہ اطاعت کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: تم دو فرشتے پیش کرو، تاکہ ان کو زمین پر اتار کر دیکھا جا سکے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، انھوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں، پس ان دو فرشتوں کو زمین کی طرف اتارا گیا اور انسانیت میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شبیہ ان کے سامنے پیش کی گئی، انھوںنے اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں،اللہ کی قسم! یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم شرکیہ بات نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی شرک تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور ایک بچہ لے کر پھر آگئی، انھوں نے پھر اس سے بدکاری کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور شراب کا ایک پیالہ لے کر دوبارہ آ گئی، ان فرشتوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا سوال کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیو گے، پس انھوں نے وہ شراب پی لی، جب اس سے ان کو نشہ آیا تو انھوں نے اس خاتون سے زنا بھی کر لیا اور بچے کو بھی قتل کر دیا، پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم ہے، جس جس چیز کا تم نے انکار کیا تھا، نشے کی حالت میں تم نے ان کا ارتکاب کر لیا، پھر اس جرم کی سزا میں ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا، پس انھوں نے دنیا کا عذاب پسند کر لیا۔

۔ (۱۰۲۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَوْ اَبِیْ سَعیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِیْنَ فِیْ الْاَرْضِ فُضُلًا عَنْ کُتَّابِ النَّاسِ، فَاِذَا وَجَدُوْا قَوْمًا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ تَنَادَوْا: ھَلُمُّوْا اِلٰی بُغْیَتِکُمْ، فَیَجِیْئُوْنَ فَیَحُفُّوْنَ بِھِمْ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: اَیَّ شَیْئٍ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْیَصْنَعُوْنَ؟ فیَقُوْلُوْنَ: تَرَکْنَاھُمْ یَحْمَدُوْنَکَ وَیُمَجِّدُوْنَکَ وَ یَذْکُرُوْنَکَ، فَیَقُوْلُ: ھَلْ رَاَوْنِیْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا، فَیَقُوْلُ : فَکَیْفَ لَوْ رَاَوْنِیْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَوْ رَاَوْکَ لَکَانُوْا اَشَدَّ تَحْمِیْدًا وَتَمْجِیْدًا وَ ذِکْرًا، فَیَقُوْلُ: فَاَیَّ شَیْئٍیَطْلُبُوْنَ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: یَطْلُبُوْنَ الْجَنَّۃَ، فَیَقُوْلُ: وَ ھَلْ رَاَوْھَا؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا، فَیَقُوْلُ: فَکَیْفَ لَوْ رَاَوْھَا؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَوْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ عَلَیْھَا حِرْصًا وَ اَشَدَّ لَھَا طَلَبًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: وَمِنْ اَیِّ شَیْئٍیَتَعَوَّذُوْنَ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: مِنَ النَّارِ، فَیَقُوْلُ: وَ ھَلْ رَاَوْھَا؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا، قَالَ: فیَقُوْلُ: فَکَیْفَ لَوْ رَاَوْھَا؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَوْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ مِنْھَا ھَرَبًا وَاَشَدَّ مِنْھَا خَوْفًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اِنِّیْ اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَھُمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: فَاِنَّ فِیْھِمْ فُلَانًا الْخَطَّائَ لَمْ یُرِدْھُمْ، اِنّمَا جَائَ لِحَاجَۃٍ، فیَقُوْلُ: ھُمُ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۸)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے زمین میں چلنے پھرنے والے فرشتے ہوتے ہیں، جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: آؤ اپنے مقصود کی طرف، پس وہ آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمانِ دنیا تک گھیر لیتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑکر آئے؟ وہ کہتے ہیں: ہم ان کو اس حال میں چھوڑ کر آئے کہ وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیسا ہو گا؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو کثرت سے تیری تعریف اور بزرگی بیان کریں گے اور زیادہ ذکر کریں گے، وہ کہتا ہے: اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کس چیز کا سوال کرتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی وہ جنت کا سوال کرتے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں دیکھا، وہ کہتا ہے: اگر وہ دیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ دیکھ لیں تو ان کی حرص بڑھ جائے گی اور وہ اس کازیادہ مطالبہ کریں گے، وہ کہتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی آگ سے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے آگ کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ اس کودیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ آگ کودیکھ لیں تو وہ اس سے دور بھاگنے میں اور اس سے ڈرنے میںزیادہ ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے: بیشک میں تم کوگواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے، وہ کہتے ہیں: ان میں فلاں آدمی تو خطاکار تھا، اس کاارادہ ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا، وہ تو اپنے کسی کام کی غرض سے آیا تھا، وہ کہتا ہے: یہ (ایک جگہ پر بیٹھنے والے) وہ لوگ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہو سکتا۔