۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا، پھر ان کو اندھیرے میں رکھا اور اپنی مشیت کے مطابق اپنے نور میں سے کچھ حصہ لیا اور اس کو ان پر ڈال دیا، اللہ تعالیٰ کی چاہت کے مطابق وہ نور بعض افراد تک پہنچ گیا اور بعض تک نہ پہنچا، جس شخص کو اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جو اس سے رہ گیا، وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں عبداللہ کہتا ہوں: جو کچھ ہونے والا ہے، اس پر قلم خشک ہوچکا ہے۔
۔ سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ساری زمین سے ایک مٹھی بھری اور اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،یہی وجہ ہے کہ اولادِ آدم زمین کی مٹی کی نوعیت کے مطابق پیدا ہوئے ہیں،یعنی کوئی سفید ہے، کوئی سرخ ہے، کوئی سیاہ ہے اور کسی کی رنگتیں ان کے درمیان درمیان ہیں اور کوئی خبیث ہے، کوئی پاکیزہ مزاج ہے، کوئی نرم ہے، کوئی سخت ہے اور کوئی ان کے درمیان درمیان۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھاکیے گئے لشکر ہیں، جن جن کا وہاں تعارف ہوگیا، وہ مانوس ہوگئے اور جن کی آپس میں شناخت نہ ہو سکی، وہ مختلف ہو گئے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق کی تو فرمایا: جاؤ اور فرشتوں کی بیٹھی ہوئی اُس جماعت کو سلام کہو اور غور سے سنو کہ وہ آپ کو جوابًا کیا کہتے ہیں، کیونکہیہی (جملے) آپ اور آپ کی اولاد کا سلام ہوں گے۔ ( وہ گئے اور) کہا: السلام علیکم۔ انھوں نے جواب میں کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ یعنی ورحمۃ اللہ کے الفاظ زائد کہے۔ جب کوئی بھی آدمی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی صورت (وجسامت) پر داخل ہو گا۔ لیکن (دنیا میں ولادتِ آدم سے) آج تک قد و قامت میں کمی آتی رہی۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی سات ہاتھ تھی۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے وجود کی ہر چیز کو زمین کھا جاتی ہے، ما سوائے عجب الذنب کے، اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا اور اسی سے اس کو دوبارہ ترکیب دیا جائے گا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو جب تک چاہا(ان کے ڈھانچے کو) پڑا رہنے دیا، ابلیس گھوم کر اس کو دیکھنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ توپیٹ والا ہے یایہ اندر سے خالی ہے تو اس نے کہا: یہ ایسی مخلوق ہے،جو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کر سکے گی۔ یعنییہ وجود اپنے آپ کو شہوات سے نہیں روک سکے گا، وسوسوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، نیز غصے پر بھی قابو نہیں پا سکے گا، الا من عصمہ اللہ۔ ابلیس کو کیسے اندازہ ہوا؟ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، معلوم نہیں کہ اُس دور کی صفات اور اس وقت کی مخلوقات کی اہلیتیں اور تجربات کیا کیا تھے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جمعہ کے روز عصر کے بعد پیدا کیا،یہ آخری مخلوق تھی، جس کو جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں پیدا کیا گیا اور آخری گھڑی عصر سے رات تک ہوتی ہے۔