مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان

۔ (۱۰۳۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَا بَنُوْ اِسْرَائِیْلُ، لَمْ یَخْنَزِ الْلَحْمُ، وَلَمْ یَخْبُثِ الطَّعَامُ، وَ لَوْ لَا حَوَّائُ لَمْ تَخُنْ اُنْثٰی زَوْجَھَا۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۹)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت بدبودار نہ ہوتا اور کھانے میں فساد نہ آتا اور اگر سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نہ ہوتیں تو کوئی خاتون اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔

۔ (۱۰۳۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشَّفَاعَۃِ، قَالَ: وَیَطُوْلُیَوْمُ الْقِیَامَۃِ عَلَی النَّاسِ، فَیَقُوْلُ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ اِنْطَلِقُوْا بِنَا اِلَی اَبِیْ الْبَشَرِ فَلْیَشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا عَزَّوَجَلَّ فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَاْتُوْنَ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَیَقُوْلُ: یَا آدَمُ! اَنْتَ الَّذِیْ خَلَقَکَ اللّٰہُ بِیَدِہِ وَاَسْکَنَکَ جَنَّتَہُ وَاَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَہُ اشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَقُوْلُ : اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ، اِنِّیْ قَدْ اُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّۃِ بِخَطِیْئَتِیْ، وَ اِنَّہُ لَا یُھِمُّنِی الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِی۔)) اَلْحَدِیْثَ (مسند احمد: ۲۵۴۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، یہ سفارش والی طویل حدیث ہے، اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں پر زمانہ طویل ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: چلو، ابو البشر کی طرف چلتے ہیں، تاکہ وہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کریں اور وہ ہمارا حساب کتاب شروع کرے، پس وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے: اے آدم! آپ وہ ہستی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو جنت میںٹھہرایا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کروایا، پس آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے سفارش تو کر دیں، تا کہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، پس وہ جواب دیں گے: میں اس سفارش کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری خطا کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔

۔ (۱۰۳۰۹)۔ وَمِمَّا رُوِیَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشَّفَاعَۃِ اَیْضًا، قَالَ: ((فَیَقُوْلُ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ: اِنَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ، وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، وَاَنَّہُ نَھَانِیْ عَنِ الشَّجَرَۃِ فَعَصَیْتُہُ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۱)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں،یہ شفاعت سے متعلقہ طویل حدیث ہیں، اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنے غصے میں آئے گا، اور اس نے مجھے ایک درخت سے منع کیا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کر دی تھی، ہائے میری جان، میری جان، میری جان۔

۔ (۱۰۳۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ، اَنَّ اَبَا ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! فَاَیُّ الْاَنْبِیَائِ کَانَ اَوَّلُ؟ قَالَ: ((آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! اَوَ نَبِیٌّ کَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ،نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ، خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہِ، ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِ رُوْحَہُ ثُمَّ قَالَ لَہُ: یَاآدَمُ قُبُلًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۴)

۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! انبیاء میں سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ نبی تھے، ان سے کلام کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی اور ان کو آمنے سامنے کہا: اے آدم۔

۔ (۱۰۳۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُیَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ، وَفِیْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا، (زَادَ فِیْ اُخْرٰی) وَاَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْاَرْضِ، وَ فِیْہِ تَوَفَّیَ اللّٰہُ آدَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵۳)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے ، اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن میں ان کو اس سے نکالا گیا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا اور اس دن کو ان کو وفات دی۔