TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان

Chapter 2 of گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 17 · 3 Hadith
۔ (۱۰۴۲۹)۔ عَنْ اَبِیْ نَمْلَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا حَدَّثَکُمْ اَھْلُ الْکِتَابِ فَـلَا تُصَدِّقُوْھُمْ، وَ لَا تُکَذِّبُوْھُمْ، وَ قُوْلُوْا: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہٖوَرُسُلِہِ،فَاِنْ کَانَ حَقًّا لَمْ تُکَذِّبُوْھُمْ، وَ اِنْ کَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۵۷)
۔ سیدنا ابو نملہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم سے بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب، بلکہ کہو: ہم اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، پس اگر ان کی بات حق ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ باطل ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
Takhreej
(۱۰۴۲۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۶۴۴ (انظر: ۱۷۲۲۵)
Explanation
فوائد:… چونکہ تورات اور انجیل میں تحریف ہو چکی ہے اور یہودو نصاری کے مذہبی ادب میں کوئی ایسا ضابطہ باقی نہیں رہا، جس کے ذریعےیہ معلوم کیا جا سکے کہ ان آسمانی کتابوں کا فلاں حصہ حقیقت کے مطابق ہے اور فلاں حصہ مخالف، تحقیق کے وقت اصل متن (ٹیکسٹ) کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کتابوں کی زبان ہی سرے سے مفقود ہو گئی ہے، اس لیے بنی اسرائیل کی روایات سن لینے پر اکتفا کرنا چاہیے، نہ ان کی تصدیق کی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ جھوٹ ہوں اور نہ ان کی تکذیب کی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ صحیح ہوں۔ ہاں اسلام میں تورات اور انجیل کی جس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ وہ حقیقت کے مطابق ہے یا وہ تحریف شدہ ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔
10429
Sahih
۔ (۱۰۴۳۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْاَلُوْا اَھْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَیْئٍ فَاِنَّھُمْ لَنْ یَھْدُوْکُمْ وَ قَدْ ضَلُّوْا، فَاِنَّکُمْ اِمَّا اَنْ تُصَدِّقُوْا بِبَاطِلٍ اَوْ تُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ، فَاِنَّہُ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ مَا حَلَّ لَہُ اِلَّا اَنْ یَتَّبِعَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۸۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، وہ تو خود گمراہ ہو چکے ہیں، اس طرح تم یا تو باطل کی تصدیق کرو گے یا حق کی تکذیب، پس بیشک شان یہ ہے کہ اگر موسی علیہ السلام بھی تمہارے ما بین زندہ ہو جائیں تو ان کے لیے کوئی چیز حلال نہیں ہو گی، مگر یہ کہ وہ میری پیروی کریں۔
Takhreej
(۱۰۴۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف مجالد بن سعید، أخرجہ البزار: ۱۲۴، وابویعلی: ۲۱۳۵، والبیھقی: ۲/ ۱۰ (انظر: ۱۴۶۳۱)
10430
Zaeef
۔ (۱۰۴۳۱)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُنَا عَامَّۃَ لَیْلِہِ عَنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ حَتّٰییُصْبِحَ) لَا یَقُوْمُ اِلَّا اِلَی عُظْمِ صَلَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۶۳)
۔ عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں رات کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کے بارے میں(روایات) بیان کرتے رہتے، صرف فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۴۳۱) تخریج: حدیث صحیح لکن من حدیث عبد اللہ بن عمرو، أخرجہ البزار: ۳۵۹۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۵۱۰ (انظر: ۱۹۹۲۱)
Explanation
فوائد:… بنواسرائیل کی تاریخ میں کئی سبق آموز واقعات کا تذکرہ ملتا ہے، جیسا کہ ایک مثال ذیل میں دی گئی ہے، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مستحق بھی بنتے رہے اور اس کے عذابوں کے حقدار بھی ٹھہرتے رہے، ان کے بعض احکام امت ِ مسلمہ کے حق میں باقی ہیں اور بعض ختم ہو چکے ہیں۔ جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((حَدِّثُوْا عَنْ بَنِی إِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّہُ کَانَتْ فِیْھِمُ الْأَعَاجِیْبُ۔)) ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُ، قَالَ: ((خَرَجَتْ طَائِفَۃٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیْلَ حَتّٰی أَتَوْا مَقْبَرَۃً لَّھُمْ مِنْ مَقَابِرِھِمْ، فَقَالُوْا: لَوْصَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ، وَدَعَوْنَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَن یُخْرِجَ لَنَا رَجُلاً مِمَّنْ قَدْ مَاتَ نَسْأَلُہُ عَنِ الْمَوْتِ، قَالَ: فَفَعَلُوْا، فَبَیْنَمَا ھُمْ کَذٰلِکَ إِذْ أَطْلَعَ رَجُلٌ رَأْسَہُ مِنْ قَبْرٍ مِْنْ تِلْکَ الْمَقَابِرِ، خِلَاسِیٌّ،بَیْنَ عَیْنَیْہِ أَثَرُ السُّجُوْدِ فَقَالَ: یَاھٰؤُلَائِ مَاأَرَدتُّمْ إِلَیَّ؟ فَقَدْ مُتُّ مُنْذُ مِئَۃِ سَنَۃٍ، فَمَا سَکَنَتْ عَنِّی حَرَارَۃُ الْمَوْتِ حَتّٰی کَانَ الآنَ، فَادْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لِییُعِیْدُنِی کَمَا کُنْتُ۔)) … بنی اسرائیل سے (ان کی روایات) بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ان میں کچھ انوکھے امور بھی پائے جاتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ نکلا، وہ اپنے ایک قبرستان کے پاس سے گزرا، وہ کہنے لگے: اگر ہم دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے کسی مردہ کو (زندہ کر کے اسے اس کی قبر) سے نکالے، تاکہ ہم اس سے موت کے بارے میں دریافت کر سکیں۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، وہ اس طرح کر رہے تھے کہ ایک گندمی رنگ کے آدمی نے قبر سے اپنا سر نکالا، اس کی پیشانی پر سجدوں کا نشان تھا، اس نے کہا: اوئے!تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں آج سے سو سال پہلے مرا تھا، لیکن ابھی تک موت کی حرارت ختم نہیں ہوئی، اب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اسی حالت میں لوٹا دے، جس میں میں تھا۔ (ابن ابی شیبۃ: ۹/ ۶۲، مسند بزار: ۱/۱۰۸/۱۹۲، صحیحہ: ۲۹۲۶) اس حدیث کا اصل موضوع فکر آخرت ہے، کہ سوسال تک موت کی حرارت ختم نہیں ہوئی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بنواسرائیل سے ان کی روایات لی جا سکتی ہے، لیکن نہ ان کی تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب۔
10431
Sahih

Chapters

17
01
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
7 Hadith
02
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
3 Hadith
03
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
04
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
1 Hadith
05
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
3 Hadith
06
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
2 Hadith
07
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
1 Hadith
08
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
1 Hadith
09
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
3 Hadith
10
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
1 Hadith
11
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
2 Hadith
12
حاتم طائی کا ذکر
1 Hadith
13
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
1 Hadith
14
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
1 Hadith
15
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
2 Hadith
16
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
1 Hadith
17
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
1 Hadith
No chapter matched that.