مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان

۔ (۱۰۷۰۸)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ قَالَ: إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُرِینَا مَصَارِعَہُمْ بِالْأَمْسِ، یَقُولُ: ((ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی، وَہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) قَالَ: فَجَعَلُوایُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَا أَخْطَئُوا تِیکَ کَانُوا یُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِہِمْ فَطُرِحُوا فِی بِئْرٍ، فَانْطَلَقَ إِلَیْہِمْ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمُ اللّٰہُ حَقًّا؟ فَإِنِّی وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی اللّٰہُ حَقًّا۔)) قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُکَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَیَّفُوا؟ قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ، وَلٰکِنْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُجِیبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۸۲)

سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اہلِ بدر کے متعلق مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے ہمیں سردارانِ قریش کے گرنے اور پچھڑنے کے مقامات دکھا رہے تھے، اور فرماتے تھے: کل ان شاء اللہ فلاں کافر یہاں قتل ہو کر گرے گا، اور فلاں آدمی قتل ہو کر یہاں گرے گا، ان شاء اللہ۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ واقعی وہ لوگ انہی جگہوں پر گرے۔ میں (عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ ان مقامات سے بالکل اِدھر اُدھر نہیں گرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی لاشوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں گھسیٹ کر کنوئیں میں پھینک دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کفار کی لاشوں کی طرف گئے اور فرمایا: اے فلاں! اے فلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے، میرے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے پورا پالیا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے، لیکن وہ ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔

۔ (۱۰۷۰۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُنَادِی عَلٰی قَلِیبِ بَدْرٍ: ((یَا أَبَا جَہْلِ بْنَ ہِشَامٍ! یَا عُتْبَۃُ بْنَ رَبِیعَۃَ! یَا شَیْبَۃُ بْنَ رَبِیعَۃَ! یَا أُمَیَّۃُ بْنَ خَلَفٍ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا، فَإِنِّی وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا؟)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تُنَادِی قَوْمًا قَدْ جَیَّفُوا، قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ وَلٰکِنَّہُمْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُجِیبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۴۳)

سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب صحابۂ کرام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یوں کلام کرتے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اے امیہ بن خلف! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے پورا پا لیا ہے؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے ہو؟ لیکن وہ جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔

۔ (۱۰۷۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْقَلِیْبِیَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّہُمُ الْآنَ لَیَسْمَعُوْنَ کَلاَمِیْ۔)) قَالَ یَحْیَی: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: غَفَرَاللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اِنَّہُ وَہِلَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! إِنَّہُمْ لَیَعْلَمُوْنَ الْآنَ أَنَّ الَّذِی کُنْتُ أَقُوْلُ لَہُمْ حَقًّا۔)) وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُوْلُ: {إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی} {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ۔} (مسند احمد: ۴۸۶۴)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔

۔ (۱۰۷۱۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: وَحُدِّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِبِضْعَۃٍ وَعِشْرِینَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِیدِ قُرَیْشٍ، فَأُلْقُوا فِی طُوًی مِنْ أَطْوَائِ بَدْرٍ خَبِیثٍ مُخْبِثٍ، قَالَ: وَکَانَ إِذَا ظَہَرَ عَلٰی قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَۃِ ثَلَاثَ لَیَالٍ، قَالَ: فَلَمَّا ظَہَرَ عَلٰی بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَیَالٍ، حَتّٰی إِذَا کَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِہِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِہَا ثُمَّ مَشٰی، وَاتَّبَعَہُ أَصْحَابُہُ قَالُوا: فَمَا نَرَاہُ یَنْطَلِقُ إِلَّا لِیَقْضِیَ حَاجَتَہُ، قَالَ: حَتّٰی قَامَ عَلٰی شَفَۃِ الطُّوٰی، قَالَ: فَجَعَلَ یُنَادِیہِمْ بِأَسْمَائِہِمْ وَأَسْمَائِ آبَائِہِمْ: ((یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! أَسَرَّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟)) قَالَ عُمَرُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِیہَا؟ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: أَحْیَاہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ حَتّٰی سَمِعُوا قَوْلَہُ تَوْبِیخًا وَتَصْغِیرًا وَنِقْمَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۸)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کو بیان کیا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیس سے زائد قریشی سرداروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں بدر کے کنوؤں میں سے ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ وہ کنواں بڑا خبیث اور گندا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم پر فتح پاتے تو وہاں تین رات قیام فرماتے، اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بدر میں فتح یاب ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی تین رات قیام فرمایا، جب تیسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری کو تیار کرنے کا حکم فرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہو ئے، صحابہ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم سب نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے آپ اس کنوئیں کے کنارے پر جا رکے اور ان مقتول کفار قریش کو ان کے ناموں اور ان کے آباء کے ناموں کا ذکر کر کے ان کو پکارا اور یوں فرمایا: اے فلاں بن فلاں! کیا اب تمہیںیہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچا پالیا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا آپ ایسے اجسام سے ہم کلام ہو رہے ہیں، جن میں روحیں ہی نہیں ہیں؟ قتادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ، رسوائی اور اظہار ناراضگی کے لیے ان کفار کو زندہ کر دیا تھا۔

۔ (۱۰۷۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِکَ الرَّہْطِ، فَأُلْقُوا فِی الطُّوٰی عُتْبَۃُ وَأَبُو جَہْلٍ وَأَصْحَابُہُ، وَقَفَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((جَزَاکُمُ اللّٰہُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِیٍّ مَا کَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّکْذِیبِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ تُکَلِّمُ قَوْمًا جَیَّفُوا؟ فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَفْہَمَ لِقَوْلِی مِنْہُمْ أَوْ لَہُمْ أَفْہَمُ لِقَوْلِی مِنْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۸۶)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ بدر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ان مقتول سردارانِ قریش عتبہ، ابوجہل اور ان کے ساتھیوں کے پاس سے گزرے، جنہیں کنوئیں میں پھینک دیا گیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں رک گئے اور فرمایا: تم ایک نبی کی ایسی قوم ہو، جو اس کے شدید مخالف اور بہت زیادہ تکذیب کرنے والے تھے، اللہ نے تمہیں بہت بُرا بدلہ دیا، میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی نسبت میری بات کو زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تمہاری بہ نسبت میری بات کو زیادہ سمجھ رہے ہیں۔

۔ (۱۰۷۱۳)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْقَتْلٰی أَنْ یُطْرَحُوا فِی الْقَلِیبِ، فَطُرِحُوا فِیہِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ فَإِنَّہُ انْتَفَخَ فِی دِرْعِہِ فَمَلَأَہَا، فَذَہَبُوا یُحَرِّکُوہُ فَتَزَایَلَ، فَأَقَرُّوہُ وَأَلْقَوْا عَلَیْہِ مَا غَیَّبَہُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَۃِ، فَلَمَّا أَلْقَاہُمْ فِی الْقَلِیبِ وَقَفَ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَہْلَ الْقَلِیبِ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا، فَإِنِّی قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا۔)) فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُکَلِّمُ قَوْمًا مَوْتٰی؟ قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ: ((لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُہُمْ حَقٌّ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَالنَّاسُ یَقُولُونَ لَقَدْ سَمِعُوا، مَا قُلْتُ لَہُمْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ عَلِمُوا۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۹۳)

سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقتولینِ بدر کو کنوئیں میں پھینک دئیے جانے کا حکم صادر فرمایا، پس ان کو اس میں پھینک دیا گیا۔ البتہ امیہ بن خلف اپنی زرہ کے اندر اس قدر پھول چکا تھا اور اس کے اندر پھنس گیا، جب صحابہ کرام نے اسے کھینچا تو اس کے اعضاء الگ ہو گئے، سو انھوں نے اسے ویسے ہی رہنے دیا اور اس پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا، جب ان مقتولین کو کنوئیں میں ڈالا جا چکا تھا تو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے اوپر جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پا لیاہے؟ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے سچا پالیا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مردوں سے کلام کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے جو وعدہ کیا تھا یعنی ان سے جو کچھ کہا تھا وہ حق تھا۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ لوگ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان مقتولین نے آپ کی باتیں سن لی تھیں، میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا کہ یہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں۔