سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل بدر کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں سے چھہتر(۷۶) مہاجرین تھے، کفار سترہ رمضان کو جمعہ کے دن ہزیمت سے دو چار ہو ئے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لیں، اب کوئی آپ کی مزاحمت نہیں کر سکے گا ، لیکن عباس جو کہ اس وقت اسیر تھے اور بندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اب ابو سفیان کا پیچھا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کو ایک گروہ پر غلبہ دے دیا ہے۔
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔
سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم نے صف بندی کی تو ہم میں سے بعض جلد بازوں نے جلدی کی اور صف سے آگے نکل گئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ ساتھ رہو۔
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا ،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔
سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کم عمر قرار دے کر ہمیں لڑائی سے واپس بھیج دیا تھا۔
سیدناعبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تو ابو جہل نے کہا: یا اللہ! ہم میں سے جس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا جسے ہم پہنچانتے نہیں تو اسے کل صبح رسوا کر، چنانچہ اس کییہی دعا مسلمانوں کی فتح کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔