مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان


۔ (۱۰۷۶۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُہَاجِرُونَ یَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِی غَدَاۃٍ بَارِدَۃٍ، قَالَ أَنَسٌ: وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ خَدَمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ إِنَّمَا الْخَیْرُ خَیْرُ الْآخِرَہْ،فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) قَالَ: فَأَجَابُوہُ: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا،عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا، وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۵۸)

۔( دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر نکلے تو مہاجرین سخت سرد صبح کو خندق کھود رہے تھے، ان کے خادم نہیں تھے، (بلکہ وہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، اے اللہ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ صحابہ کرام نے جواباً کہا: ہم وہ لوگ ہیں، جنہوں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے، اور ہم میدان سے نہیں بھاگیں گے، اور ہم نہیں بھاگیں گے اور ہم نہیں بھاگیں گے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۷۶۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول