عراک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ ان دنوں مدینہ منورہ پہنچے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ خیبر میں مصروف تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ان کے ہاں پہنچا تو وہ صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں کٰھٰیٰعٓصٓ (یعنی سورۂ مریم) اور دوسری رکعت میں وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ سورت کی تلاوت کر رہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ فلاں آدمی تباہ ہو گیا، وہ جب اپنے لیے تولتا ہے تو پورا تول لیتا ہے اور جب کسی کے لیے تولتا ہے تو کم کر دیتا ہے،وہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہمیں کچھ زادِ سفر دیا، اور ہم خیبر کے لیے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم خیبر پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں سے ہمارے بارے میں بات کی اور انہوں نے مالِ غنیمت کے اپنے حصوں میں ہمیں بھی شریک کر لیا۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنی قوم کے لوگوں کے ہمراہ فتح خیبر سے تین دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیںمالِ غنیمت میں سے حصہ دیا، خیبر کی غنیمتوں کو صرف اہلِ حدیبیہ میں تقسیم کیا گیا تھا، صرف ہم ہی لوگ تھے جن کو حدیبیہ میں شریک نہ ہونے کے باوجود خیبر کی غنائم سے حصہ ملا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا: یہ پہاڑ ہے، یہ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: یا اللہ! جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم والا قرار دیا تھا، اسی طرح میںبھی مدینہ منورہ کے دو حرّوں کے درمیان والے حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔