مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان

۔ (۱۰۸۳۸)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ حَلَالٌ بَعْدَ مَا رَجَعْنَا مِنْ مَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۵۲)

اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ مکرمہ سے واپسی پر مجھ سے نکاح کیا، جب کہ ہم احرام کی حالت میں نہیں تھے۔

۔ (۱۰۸۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ فِیْ بَعْثٍ مَرَّۃً فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْھَبْ فَاْتِنِیْ بِمَیْمُوْنَۃَ۔)) فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّیْ فِیْ الْبَعْثِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَسْتَ تُحِبُّ مَا اُحِبُّ؟)) قَالَ: بَلٰی،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اذْھَبْ فَاْتِنِیْ بِہَا۔)) فَذَھَبْتُ فَجِئْتُ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۷۲۷)

مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ایک دستے میں میرے نام کا بھی اندراج کیا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر میمونہ کو لے آؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرا نام تو فلاں دستے میں لکھا جا چکا ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں وہ کام پسند نہیں، جو مجھے پسند ہے؟ میںنے عرض کیا: جی بالکل، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم جا کر میمونہ کو میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ میں گیا اور ان کو لے آیا۔

۔ (۱۰۸۴۰)۔ عَنْ أَبِی رَافِعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ مَیْمُوْنَۃَ حَلَالاً وَبَنٰی بِہَا حَلَالاً وَکُنْتُ الرَّسُوْلَ بَیْنَہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳۹)

مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نکاح کیا اور جب ان کے ساتھ خلوت اختیار کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حلال تھے یعنی احرام کی حالت میں نہ تھے اور میں ان دونوں کے درمیان قاصد تھا۔