مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

سریہ ذات السلاسل کا بیان

۔ (۱۰۸۴۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الْمُہَاجِرِینَ، وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَی الْأَعْرَابِ، فَقَالَ لَہُمَا: تَطَاوَعَا، قَالَ: وَکَانُوا یُؤْمَرُونَ أَنْ یُغِیرُوْا عَلٰی بَکْرٍ، فَانْطَلَقَ عَمْرٌو فَأَغَارَ عَلٰی قُضَاعَۃَ لِأَنَّ بَکْرًا أَخْوَالُہُ، فَانْطَلَقَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ إِلٰی أَبِی عُبَیْدَۃَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسْتَعْمَلَکَ عَلَیْنَا وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدْ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَیْسَ لَکَ مَعَہُ أَمْرٌ، فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَنَا أَنْ نَتَطَاوَعَ فَأَنَا أُطِیعُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنْ عَصَاہُ عَمْرٌو۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸)

عامر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذات السلاسل کے لیے لشکر روانہ کیا، مہاجرین پر سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اور دیہاتیوں پر سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر فرمایا، سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جا کر بنو قضاعہ پر چڑھای کر دی کیونکہ بنو بکر ان کے ماموں تھے۔ سیدنا مغیر ہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جا کر ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو ہم پر امیر مقرر فرمایا ہے، جب کہ عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی قوم کی رعایت کی ہے اور آپ کا تو ان سے کچھ بھی معاملہ نہیں ہے۔ تو سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں جو حکم دیا ہم اس کی اطاعت کریں گے، پس میں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی اطاعت کروں گا، خواہ عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کی بات نہ مانی ہو۔

۔ (۱۰۸۴۶)۔ عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جَیْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: ((عَائِشَۃُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَمِنْ الرِّجَالِ؟ قَالَ: ((أَبُوہَا۔)) إِذًا قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((عُمَرُ۔)) قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۴)

سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ذات السلاسل کی طرف بھیجے گئے لشکر پر امیر مقرر فرماکر روانہ کیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول!آپ کو لوگوں میں سے کونسا آدمی سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے عرض کیا: اور مردوں میں سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا باپ (یعنی سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ )۔ میں نے دریافت کیا: اور ان کے بعد؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید مردوں کانام لیے۔

۔ (۱۰۸۴۷)۔ عن عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ یَقُولُ: بَعَثَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذْ عَلَیْکَ ثِیَابَکَ وَسِلَاحَکَ ثُمَّ ائْتِنِی۔)) فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِیَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَہُ، فَقَالَ: ((إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَبْعَثَکَ عَلٰی جَیْشٍ فَیُسَلِّمَکَ اللّٰہُ وَیُغْنِمَکَ وَأَرْغَبُ لَکَ مِنْ الْمَالِ رَغْبَۃً صَالِحَۃً۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلٰکِنِّی أَسْلَمْتُ رَغْبَۃً فِی الْإِسْلَامِ، وَأَنْ أَکُونَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا عَمْرُو! نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْئِ الصَّالِحِ۔))۔ (مسند احمد: ۱۷۹۱۵)

سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کر رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نظر میری طرف اُٹھا کر جھکالی اور پھر فرمایا: میں تمہیں ایک لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجنا چاہتا ہوں۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور تمہیں غنیمت سے نوازے گا۔ اور میں تمہارے حق میں مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں مال ودولت حاصل کرنے کے لیے تو مسلمان نہیں ہوا۔ میں تو محض اسلام کی رغبت کی وجہ سے مسلمان ہوا ہوں۔ اور میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ رہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا مال ، نیک آدمی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔