سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کے دس دن گزر چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا،عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے ایک تالاب کے پاس سے گزرے، چونکہ لوگ پیاسے تھے، اس لیے وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہے تھے اور ان کے نفس پانی کو چاہ رہے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پی لیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا (اور اس طرح روزہ توڑ دیا)۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہو گئے اور مدینہ منورہ میں سیدنا ابو رُھم کلثوم بن حصین غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کر گئے، آپ نے دس رمضان کو سفر شروع کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سب صحابہ نے روزہ رکھا ہوا تھا،جب عسفان اور امج کے درمیان کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا، اس کے بعد چل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرالظہران میں جا کر ٹھہرے، دس ہزار مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم سفر تھے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کے نام خط لکھ کر ان کو مطلع کر دیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پر چڑھائی کرنے والے ہیں)۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس عورت کے متعلق اطلاع دے دی گئی جو یہ خط لئے مکہ مکرمہ کی طرف جا رہی تھی۔ آپ نے چند صحابہ کو اس کے پیچھے روانہ کیا۔ اور وہ خط اس کے سر کے بالوں میں سے برآمد کر لیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا حاطب! کیا واقعی تم نے ہییہ کام کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! اللہ کے رسول میں نے یہ کام دھوکہ دہییا نفاق کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ضرور غالب کرے گا اور ان کو کامیابی نصیب ہو گی اصل بات یوں ہے کہ میں باہر سے آکر مکہ مکرمہ میں آباد ہوا تھا۔ میری والدہ انہی کے درمیان مقیم تھی۔ میں اس طرح اہلِ مکہ پر احسان دھرنا چاہتا تھا۔ یہ باتیں سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا میں اس کا سر قلم نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایک بدری کو قتل کر دو گے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف دیکھ کر فرمایا: اب تم جو چاہو عمل کرتے رہو۔