۔ (۱۰۸۷۷)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ دَخَلَ ہُوَ وَرَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الْبَیْتَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ الْبَابَ، وَالْبَیْتُ إِذْ ذَاکَ عَلٰی سِتَّۃِ أَعْمِدَۃٍ فَمَضٰی حَتّٰی أَتَی الْأُسْطُوَانَتَیْنِ اللَّتَیْنِ تَلِیَانِ الْبَابَ بَابَ الْکَعْبَۃِ، فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَسَأَلَہُ وَاسْتَغْفَرَہُ، ثُمَّ قَامَ حَتّٰی أَتٰی مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْکَعْبَۃِ فَوَضَعَ وَجْہَہُ وَجَسَدَہُ عَلَی الْکَعْبَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَسَأَلَہُ وَاسْتَغْفَرَہُ، ثُمَّ انْصَرَفَ حَتّٰی أَتٰی کُلَّ رُکْنٍ مِنْ أَرْکَانِ الْبَیْتِ فَاسْتَقْبَلَہُ بِالتَّکْبِیرِ وَالتَّہْلِیلِ وَالتَّسْبِیحِ وَالثَّنَائِ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَالِاسْتِغْفَارِ وَالْمَسْأَلَۃِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَارِجًا مِنَ الْبَیْتِ مُسْتَقْبِلَ وَجْہِ الْکَعْبَۃِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((ہٰذِہِ الْقِبْلَۃُ ہٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔))، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۷۳)
سیدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کر دیا، ان دنوں بیت اللہ کی عمارت چھ ستونوں پر قائم تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوکر آگے بڑھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے قریب والے دو ستونوں کے درمیان پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی، دعائیں کی اور استغفار کیا، پھر اُٹھ کر کعبہ کی سامنے والی دیوار کے قریب آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور اپنا جسد اطہر کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سینہ، جسم اور دونوں ہاتھ کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگا دئیے اور اسی حال میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی، دعائیں اور استغفار کیا۔ پھر واپس ہو کر بیت اللہ کے ہر گوشے میں گئے اور وہاں اللہ تعالیٰ کی تکبیر، تہلیل، تسبیح اور حمد و ثناء بیان کی، استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ سے سوال کیے، پھر باہر آکر کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کیں اور پھر واپس ہوئے اور دو تین بار فرمایا: یہی قبلہ ہے۔ یہی قبلہ ہے۔
Takhreej
(۱۰۸۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۸، ومسلم: ۱۳۳۰ (انظر: ۲۱۸۳۰)
Explanation
فوائد:…اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کعبہ کی دیواروں پر چہرہ، جسم اور ہاتھ لگانا مسنون عمل ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں دیوار کے ساتھ چہرہ یا جسم لگانے کا ذکر نہیں ہے البتہ زیر مطالعہ حدیث سے کعبہ کے
اندر دیوار کے ساتھ چہرہ اور جسم لگانا ثابت ہو رہا ہے اور امام نسائی نے بھی اپنی سنن میں اس کے متعلق باب قائم کیا ہے باب وضع الوجہ و الصدر وعلیٰ ماستقبل من دبر الکعبۃ۔ (نسائی: ۲۹۱۸) (عبداللہ رفیق)
10877
Sahih