مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

کعبہ کے ساتھ چمٹنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ کعبہ کے اندر داخل ہونے والا آدمی کیا کچھ پڑھے اور کرے؟

۔ (۱۰۸۷۷)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ دَخَلَ ہُوَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ الْبَابَ، وَالْبَیْتُ إِذْ ذَاکَ عَلٰی سِتَّۃِ أَعْمِدَۃٍ فَمَضٰی حَتّٰی أَتَی الْأُسْطُوَانَتَیْنِ اللَّتَیْنِ تَلِیَانِ الْبَابَ بَابَ الْکَعْبَۃِ، فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَسَأَلَہُ وَاسْتَغْفَرَہُ، ثُمَّ قَامَ حَتّٰی أَتٰی مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْکَعْبَۃِ فَوَضَعَ وَجْہَہُ وَجَسَدَہُ عَلَی الْکَعْبَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَسَأَلَہُ وَاسْتَغْفَرَہُ، ثُمَّ انْصَرَفَ حَتّٰی أَتٰی کُلَّ رُکْنٍ مِنْ أَرْکَانِ الْبَیْتِ فَاسْتَقْبَلَہُ بِالتَّکْبِیرِ وَالتَّہْلِیلِ وَالتَّسْبِیحِ وَالثَّنَائِ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَالِاسْتِغْفَارِ وَالْمَسْأَلَۃِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَارِجًا مِنَ الْبَیْتِ مُسْتَقْبِلَ وَجْہِ الْکَعْبَۃِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((ہٰذِہِ الْقِبْلَۃُ ہٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔))، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۷۳)

سیدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کر دیا، ان دنوں بیت اللہ کی عمارت چھ ستونوں پر قائم تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر داخل ہوکر آگے بڑھے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے قریب والے دو ستونوں کے درمیان پہنچ گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی، دعائیں کی اور استغفار کیا، پھر اُٹھ کر کعبہ کی سامنے والی دیوار کے قریب آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور اپنا جسد اطہر کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سینہ، جسم اور دونوں ہاتھ کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگا دئیے اور اسی حال میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی، دعائیں اور استغفار کیا۔ پھر واپس ہو کر بیت اللہ کے ہر گوشے میں گئے اور وہاں اللہ تعالیٰ کی تکبیر، تہلیل، تسبیح اور حمد و ثناء بیان کی، استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ سے سوال کیے، پھر باہر آکر کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کیں اور پھر واپس ہوئے اور دو تین بار فرمایا: یہی قبلہ ہے۔ یہی قبلہ ہے۔

۔ (۱۰۸۷۸)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَفْوَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُلْتَزِمًا الْبَیْتَ مَا بَیْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ، وَرَأَیْتُ النَّاسَ مُلْتَزِمِیْنَ الْبَیْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۳۷)

سیدنا عبدالرحمن بن صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجراسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان والی جگہ پر بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے دیکھا اور میں نے دوسرے لوگوں کو بھی دیکھا کہ وہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔

۔ (۱۰۸۷۹)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ، قُلْتُ: لَأَلْبَسَنَّ ثِیَابِی، وَکَانَ دَارِی عَلَی الطَّرِیقِ، فَلَأَنْظُرَنَّ مَا یَصْنَعُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْطَلَقْتُ فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ مِنَ الْکَعْبَۃِ وَأَصْحَابُہُ، قَدِ اسْتَلَمُوا الْبَیْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَی الْحَطِیمِ، وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَہُمْ عَلَی الْبَیْتِ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسْطَہُمْ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ؟ قَالَ: صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۳۸)

سیدنا عبدالرحمن بن صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو میں نے کہا کہ میں لباس پہن لوں، میرا گھر راستہ ہی میں تھا، اور میں جا کر دیکھوں کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آج کیا کچھ کرتے ہیں؟ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ سے باہر آچکے تھے اور صحابہ کرام باب کعبہ سے حطیم تک کعبہ کے ساتھ لپٹے اور چمٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ کے ساتھ لگا رکھے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی انہی کے درمیان تھے، میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کام سر انجام دیا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔