مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا عبدالعزی بن خطل کے قتل کا حکم دینا، خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو اور دیگر چند اشخاص کو قتل کرنے کا حکم دینا

۔ (۱۰۸۸۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلٰی رَاْسِہِ الْمِغْفَرُ،فَلَمَّا نَزَعَہٗجَائَرَجُلٌ،وَقَالَ: اِبْنُخَطَلٍمُتَعَلَّقٌبِاسْتَارِالْکَعْبَۃِ، فَقَالَ: ((اُقْتُلُوْہٗ۔)) قَالَمَالِکٌ: وَلَمْیَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ (مسند احمد: ۱۲۹۶۲)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔

۔ (۱۰۸۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((اَلنَّاسُ آمِنُوْنَ غَیْرَ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ خَطَلٍ۔))۔ (مسند احمد: ۲۰۰۴۱)

ابوبرزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا کہ عبدالعزی بن خطل کے علاوہ باقی سب لوگوں کو امن دیا جاتا ہے۔

۔ (۱۰۸۸۲)۔ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَخِی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ أَبِیہِ مُطِیعٍ، وَکَانَ اسْمُہُ الْعَاصُ، فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُطِیعًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَمَرَ بِقَتْلِ ہٰؤُلَائِ الرَّہْطِ بِمَکَّۃَ،یَقُولُ: ((لَا تُغْزٰی مَکَّۃُ بَعْدَ ہٰذَا الْعَامِ أَبَدًا، وَلَا یُقْتَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ بَعْدَ الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَمْ یُدْرِکِ الْاِسْلَامُ اَحَدًا مِنْ عُصَاۃِ قُرَیْشٍ غَیْرَ مُطِیْعٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۸۴)

عامر شعبی سے مروی ہے کہ وہ بنو عدی بن کعب کے ایک فرد عبداللہ بن مطیع بن اسود سے اور وہ اپنے والد سیدنا مطیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں، سیدنا مطیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سابقہ نام عاص تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں جب ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد کبھی بھی مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائے گی اور اس سال کے بعد کبھی کوئی قریشی اس طرح ( یعنی کفر اور ارتداد کی وجہ سے ) قتل نہ ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: اور اسلام نے قریش کے عاص نامی لوگوں میں سے کسی کو نہیں پایا، ما سوائے سیدنا مطیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے۔

۔ (۱۰۸۸۳)۔ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ، مَوْلَی فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ، عَنْ فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَتْ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ، أَجَرْتُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَحْمَائِی، فَأَدْخَلْتُہُمَا بَیْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَیْہِمَا بَابًا، فَجَائَ ابْنُ أُمِّی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَیْہِمَا بِالسَّیْفِ، قَالَتْ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ أَجِدْہُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَۃَ فَکَانَتْ أَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ زَوْجِہَا، قَالَتْ: فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((یَا أُمَّ ہَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۴۵)

سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔