مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان


۔ (۱۰۸۸۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَالَ: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ نَصَرَ عَبْدَہُ، وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) قَالَ ہُشَیْمٌ مَرَّۃً أُخْرٰی: ((الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی صَدَقَ وَعْدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، أَلَا إِنَّ کُلَّ مَأْثَرَۃٍ کَانَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ تُعَدُّ وَتُدَّعٰی، وَکُلَّ دَمٍ أَوْ دَعْوٰی مَوْضُوعَۃٌ تَحْتَ قَدَمَیَّ ہَاتَیْنِ إِلَّا سِدَانَۃَ الْبَیْتِ وَسِقَایَۃَ الْحَاجِّ، أَلَا وَإِنَّ قَتِیلَ خَطَإِ الْعَمْدِ، قَالَ ہُشَیْمٌ مَرَّۃً: بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ، دِیَۃٌ مُغَلَّظَۃٌ مِائَۃٌ مِنَ الْإِبِلِ، مِنْہَا أَرْبَعُونَ فِی بُطُونِہَا أَوْلَادُہَا، وَقَالَ مَرَّۃً: أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِیَّۃٍ إِلٰی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہُنَّ خَلِفَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۶۳)

عقبہ بن اوس ،ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کی جماعتوں کو شکست سے دو چار کیا، حدیث کے راوی ہیثم نے ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہیں، جس نے اپنا وعدہ پورا کیااور اپنے بندے کی مدد کی۔ خبردار دورِ جاہلیت کی غرور اور فخر والی تمام باتیں، جو ظلم وتعدی پر مشتمل تھیں اور اُس دور کا ہر خون اور ہر قسم کا دعوی میرے قدموں کے نیچے ہے، یعنی اب ان کی کچھ حیثیت نہیں وہ کا لعدم ہیں۔ البتہ بیت اللہ کی نگرانی اور حجاج کرام کو پانی پلانے کی خدمات وہ حسب سابق بحال ہیں۔ خبردار! قتلِ خطا یعنی کوڑے، عصا اور پتھر وغیرہ لگنے سے جو مر جائے اس میں شدید قسم کا خون بہا ہے، یعنی کل سو اونٹ ہیں، ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہو ں گی۔ اور ہیثم نے ایک دفعہ یوں روایت کیا: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۸۸۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۸/ ۴۱ (انظر: ۱۵۳۸۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:…بیت اللہ کی خدمت، دورِ جاہلیت میں بیت اللہ کی نگرانی بنو عبد الدار اور پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان ذمہ داروں کو ایسے ہی برقرار رکھا۔ دیکھیں حدیث نمبر (۶۵۸۵)