سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس کافر قتل کیے تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ حنین کے دن سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک کافر کی گردن پر وار کر کے اس کی گردن کاٹی ہے، وہ مقتول ایک زرہ پہنے ہوئے تھا، میں وہ نہیں اتار سکا، آپ ذرا دیکھیں کہ کس آدمی نے وہ زرہ اتار لی ہے، ( وہ تو میرا حق تھا)۔ایک آدمی نے کہا: وہ زرہ میرے پاس ہے، لیکن اے اللہ کے رسول! اس زرہ کے متعلق آپ اسے راضی کریں اور یہ میرے پاس ہی رہنے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتےیا خاموش رہتے۔ اس آدمی کییہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے ایک شیر سے یہ زرہ لے کر تمہیں دے دیں۔ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئیے اور فرمایا: عمر نے ٹھیک کہا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اس روز سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں خنجر تھا، ان کے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارے پاس یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کا پیٹ چیر ڈالوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ام سلیم کی بات سن رہے ہیں ؟ اتنے میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بولیں: اللہ کے رسول! آپ پیچھے رہ جانے والے ان طلقاء کو قتل کر دیں، جو آپ کے ساتھ شکست کھا گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی اور کیا خوب مدد کی۔