مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

غزوۂ حنین میں جو مشرکین اوطاس کی طرف فرار ہو گئے تھے، ان کو گرفتار کرنے کے لیے ابو عامر اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم کا بیان


۔ (۱۰۹۱۰)۔ عَن أَبِی وَائِلٍ عَن أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ عُبَیْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَکْثَرِ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَقُتِلَ عُبَیْدٌیَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَی قَاتِلَ عُبَیْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: وَإِنِّی لَأَرْجُوْ أَنْ لَا یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ قَاتِلِ عُبَیْدٍ وَبَیْنَ أَبِی مُوسَی فِی النَّارِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۲۹)

سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کو قیامت کے دن اکثر لوگوں پر مرتبہ کے لحاظ سے فوقیت عطا کرنا۔ یہ سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ او طاس کے دن شہید ہو گئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبید کے قاتل (ابن درید) کو قتل کر دیاتھا،ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل اور میرے والد کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۹۱۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۹۶۹۳)