TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10910 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
غزوۂ حنین میں جو مشرکین اوطاس کی طرف فرار ہو گئے تھے، ان کو گرفتار کرنے کے لیے ابو عامر اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم کا بیان
۔ (۱۰۹۱۰)۔ عَن أَبِی وَائِلٍ عَن أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ عُبَیْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَکْثَرِ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَقُتِلَ عُبَیْدٌیَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَی قَاتِلَ عُبَیْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: وَإِنِّی لَأَرْجُوْ أَنْ لَا یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ قَاتِلِ عُبَیْدٍ وَبَیْنَ أَبِی مُوسَی فِی النَّارِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۲۹)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کو قیامت کے دن اکثر لوگوں پر مرتبہ کے لحاظ سے فوقیت عطا کرنا۔ یہ سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ او طاس کے دن شہید ہو گئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبید کے قاتل (ابن درید) کو قتل کر دیاتھا،ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل اور میرے والد کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔
10910
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۹۱۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۹۶۹۳)

Related Chapters

51
1
اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے
Musnad Ahmad
2
سیدنا ابو عامر عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
3
(56) CHAPTER. The Ghazwa of Autas.
غزوہ اوطاس کا بیان
Sahih Bukhari
4
Chapter: The Virtues Of The Two Ash'aris; Abu Musa And Abu 'Amir (RA)
حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل
Sahih Muslim
5
Chapter: What Has Been Related About Imprisoning For An Accusation
باب: کسی تہمت و الزام میں گرفتار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Regarding Burning And Destroying
باب: دوران جنگ کفار و مشرکین کے گھر جلانے اور ویران کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Using The Containers Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے برتن استعمال کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Food Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: About The Gifts Of The Idolaters Being Disliked
باب: کفار و مشرکین سے ہدیہ تحفہ قبول کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Live Among The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے درمیان رہنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Eating From Utensils Of The Disbelievers
باب: کفار و مشرکین کے برتنوں میں کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: Regarding The Letters To The Idolaters
باب: کفار و مشرکین سے خط و کتابت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About How One Is To Write To The People Of Shirk
باب: کفار و مشرکین کو کس انداز سے خط لکھا جائے؟
Jam e Tirmazi
14
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
15
نجد کی جانب سیدنا محمد بن مسلمہ کی مہم، ثمامہ بن اثال کی گرفتاری اور اس کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
16
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
Musnad Ahmad
17
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
Musnad Ahmad
18
سیدنا ابو مالک عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
19
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: (And remain always) turning in repentance to Him (only), and be afraid and dutiful to Him; and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and be not of Al-Mushrikun (the disbelievers in the Oneness of Allah, polytheists.idolaters). (V.30:31)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والے ( ہو جاؤ ) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ ۔ “ ( سورۃ الروم )
Sahih Bukhari
20
(13) CHAPTER. If Al-Mushrikun [polytheists, pagans, idolaters, and disbelievers in the Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad ] intercede the Muslims to invoke Allah for rain during drought.
اس بارے میں کہ اگر قحط میں مشرکین مسلمانوں سے دعا کی درخواست کریں ؟
Sahih Bukhari
21
(92) CHAPTER. What is said regarding the (dead) children of Al-Mushrikun.
مشرکین کی نابالغ اولاد کا بیان
Sahih Bukhari
22
(11) CHAPTER. Partnership with a Dhimmi (A Jew or a Christian under the protection of a Muslim Government and Al-Mushirkun (polytheist, idolaters, pagans) in share-cropping.
مسلمان کا مشرکین اور ذمیوں کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کرنا
Sahih Bukhari
23
(28) CHAPTER. The acceptance of presents from Al-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کا ہدیہ قبول کرلینا
Sahih Bukhari
24
(7) CHAPTER. To make peace with Al-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
25
(98) CHAPTER. To invoke Allah to defeat and shake AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا
Sahih Bukhari
26
(100) CHAPTER. To invoke Allah to bestow guidance upon Al- Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans) in order to attract them.
مشرکین کا دل ملانے کے لیے ان کی ہدایت کی دعا کرنا
Sahih Bukhari
27
(172) CHAPTER. The ransom of AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین سے فدیہ لینا
Sahih Bukhari
28
(187) CHAPTER. If Al-Mushrikun take the property of a Muslim as war booty and later on the Muslim gets it back (on overcoming them), (does the owner have the right to get it back or should it be included in the war booty gained by the Muslims)?
کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر ) مسلمانوں کے غلبہ کے بعد ( وہ مال اس مسلمان کو مل گیا
Sahih Bukhari
29
(27) CHAPTER. The demand of Al-Mushrikun to the Prophet (p.b.u.h) to show them a miracle. The Prophet (p.b.u.h) showed them the splitting of the moon.
مشرکین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا ۔
Sahih Bukhari
30
(29) CHAPTER. (The troubles which) the Mushrikun of Makkah caused the Prophet and his Companions to suffer.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہکرام رضیاللہعنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامناکیا ان کا بیان
Sahih Bukhari
31
(39) CHAPTER. The oath taken by the Mushrikun against the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کا عہد و پیمان کرنا
Sahih Bukhari
32
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
Sahih Bukhari
33
(10) CHAPTER. Whoever slaughtered the sacrifices on behalf of others.
جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی ۔ ایک صاحب نے حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی حضرت ابوموسیٰاشعری رضیاللہعنہ نے اپنی لڑکیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں ۔
Sahih Bukhari
34
(58) CHAPTER. To invoke Allah against Al-Mushrikun.
مشرکین کے لئے بددعا کرنا
Sahih Bukhari
35
(59) CHAPTER. Invocation in favour of Al-Mushrikun.
مشرکین کی ہدایت کے لئے دعا کرنا
Sahih Bukhari
36
CHAPTER: Regarding Calling Idolators To Islam.
باب: کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Calling The Idolaters (To Accept Islam).
باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: What The Idolates Are To Be Fought For.
باب: کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Regarding Slavs Of The Idolaters Who Join the Muslims And Accept Islam.
باب: کفار و مشرکین کے غلام مسلمانوں سے آ ملیں اور مسلمان ہو جائیں تو کیا کیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Regarding The Imam Accepting Gifts From Idolaters.
باب: امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Performing The Funeral Prayer For A Muslim Who Dies In The Land Of Shirk.
باب: جو مسلمان مشرکین کے علاقے میں فوت ہو جائے ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: A man who does something less than intercourse with a woman, and repents before he is arrested by the imam..
باب: آدمی عورت سے جماع کے علاوہ سارے کام کر لے پھر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: The Offspring Of Polytheists.
باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
45
کفار و مشرکین کی ہانڈیوں (برتنوں) میں کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
46
جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
47
باب: کفار و مشرکین کی موت سے لوگوں راحت ملتی ہے۔
Sunnan Nisai
48
باب: آخرت میں کفار و مشرکین کی اولاد کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: کفار و مشرکین کے لیے مغفرت طلب کرنا منع ہے۔
Sunnan Nisai
50
باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

115
Musnad Ahmad
11959
۔ (۱۱۹۵۹)۔ عَن أَبِی وَائِلٍ، عَن أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ عُبَیْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَکْثَرِ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَقُتِلَ عُبَیْدٌ یَوْمَ أَوْطَاسٍ، وَقَتَلَ أَبُو مُوسَی قَاتِلَ عُبَیْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُووَائِلٍ: وَإِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بَیْنَ قَاتِلِ عُبَیْدٍ وَبَیْنَ أَبِی مُوسَی فِی النَّارِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۲۹)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یااللہ! اپنے بندے عبید ابو عامر کو قیامت کے دن اکثر لوگوں سے بلند مرتبہ پر فائز فرمانا۔ سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ اوطاس میں شہید ہوئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل کو قتل کرکے جہنم رسید کیا تھا۔ راویٔ حدیث عاصم کہتے ہیں: میرے شیخ ابو وائل نے بیان کیا: مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل اور سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔
Musnad Ahmad
41
۔ (۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَا یَلْقَی اللّٰہَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِہِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۲۸)
سیدنا ابو عمرہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو آدمی بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ملے گا، تو قیامت کے دن اس سے آگ کو دور کر دیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
208
۔ (۲۰۸)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عُبَادَۃَ (یَعْنِی بْنَ الصَّامِتِؓ) وَھُوَ مَرِیْضٌ أَتَخَایَلُ فِیْہِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ! أَوْصِنِیْ وَاجْتَہِدْ لِیْ فَقَالَ: أَجْلِسُوْنِیْ، قَالَ: یَا بُنَیَّ! اِنَّکَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ وَلَمْ تَبْلُغْ حَقِیْقَۃَ الْعِلْمِ بِاللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ، قَالَ: قُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ! فَکَیْفَ لِیْ أَنْ أَعْلَمَ مَا خَیْرُ الْقَدْرِ وَ شَرُّہُ؟ قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ وَمَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ، یَا بُنَیَّ! اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی الْقَلْمُ، ثُمَّ قَالَ: اکْتُبْ! فَجَرَی فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ بِمَا ہُوَ کَائِنٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) یَا بُنَیَّ! اِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَی ذٰلِکَ دَخَلْتَ النَّارَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۰۸۱)
ولید بن عبادہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ بیمار تھے اور میرا خیال تھا کہ اس بیماری میں ان کی موت واقع ہو جائے گی، پس میں نے کہا: ابا جان! کوئی وصیت کر دو اور میرے لیے کوشش کرو۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، پھر انھوں نے کہا: میرے پیارے بیٹے! تو اس وقت تک نہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی حقیقت کو پہنچ سکتا ہے، جب تک تو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیںلائے گا۔ میں نے کہا: ابا جان! میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ اچھی اور بری تقدیر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جان لے کہ جو چیز تجھ سے تجاوز کر جانے والی ہے، وہ تجھے لاحق نہیں ہو سکتی اور جو چیز تجھے لاحق ہونے والی ہے، وہ تجھ سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا، وہ قلم ہے، پھر اس نے اسے کہا: تو لکھ، پس وہ چل پڑی اور قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے امور لکھ دیئے۔ اے میرے بیٹے! اگر تو اس عقیدے کے بغیر مر گیا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
273
۔ (۲۷۳)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہُ أُلْجِمَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَلْجَمَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالیں گے۔
Musnad Ahmad
1293
۔ (۱۲۹۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ حَیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۷)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور اس کو اس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ …تو اس کے لیے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی۔
Musnad Ahmad
2643
۔ (۲۶۴۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَصْحَابِہِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوْا فَأْتَمُّوا بِیْ، وَلْیَأْتَمَّ بِکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ، لَا یَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۲)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخوہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔
Musnad Ahmad
3003
۔ (۳۰۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ لِطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَالِی أَرَاکَ شَعِثْتَ وَاغْبَرَرْتُ مُنْذُ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَعَلَّکَ سَائَکَ یَا طَلْحَۃُ! إِمَارَۃُ ابْنِ عَمِّکَ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللّٰہُ، إِنِّی لَاَجْدَرُکُمْ أَنْ لَّا أَفْعَلَ ذَالِکَ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّیْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَا یَقُوْلُہَا أَحَدٌ عِنْدَ حَضْرَۃِ الْمَوْتِ إِلَّا وَجَدَ رُوْحُہُ لَہَا رَوْحًا، حَیْنَ یَخْرُجُ مِنْ جَسَدِہِ، وَکَانَتْ لَہُ نُوْرًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَلَمْ اَسَاَلْ َرَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلَمْ یُخْبِرْنِیْ بِہَا، فذَاکَ الَّذِی دَخَلَنِی، قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَأَنَا أْعْلَمُہَا، قَالَ: فَلِلَّہِ الْحَمْدُ فَمَا ہِیَ؟ قَالَ: ہِیَ الْکَلِمَۃُ الَّتِی قَالَہَا لِعَمِّہِ (لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)) قَالَ طَلْحَۃُ :صَدَقْتَ۔ (مسند احمد: ۱۸۷)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیّدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھ رہے تھے: کیا بات ہے کہ جس دن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا ہے آپ پراگندہ پراگندہ اور غبار آلود سے ہو کر رہتے ہیں۔ کہیں آپ کو اپنے چچیرے بھائی (ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کا امیر بننا ناگوار تو نہیں گزرا؟ سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی پناہ!میں تو تم سے بھی زیادہ لائق ہوں کہ اس طرح نہ کروں، (مجھے یہ بات کیوں ناگوار گزرے)۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں، جوشخص وفات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے تو اس کی روح جسم سے نکلتے ہی رحمت و راحت پا لیتی ہے، نیز وہ کلمہ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث ہو گا۔ مگر افسوس کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کلمہ کے متعلق نہ پوچھ سکا کہ وہ کونسا ہے اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کے بارے میں بیان کیا۔اس چیز نے مجھے غمزدہ کر رکھا ہے۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں وہ کلمہ جانتا ہوں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کا شکر، وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) پر پیش کیا تھا، یعنی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ انھوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
Musnad Ahmad
3099
۔ (۳۰۹۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۷)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔
Musnad Ahmad
3105
۔ (۳۱۰۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ فِی قَتْلٰی أُحُدٍ: ((لَا تُغَسِّلُوْہُمْ فَإِنَّ کُلَّ جُرْحٍ أَوْ کُلَّ دَمٍ یَفُوْحُ مِسْکًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ (مسند احمد: ۱۴۲۳۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا: انہیں غسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ہر زخم یا ہر خون سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔