مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

عمرۂ جعرانہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان


۔ (۱۰۹۲۲)۔ عَنْ مُحَرِّشٍ الْکَعْبِیِّ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ لَیْلًا مِنَ الْجِعْرَانَۃِ حِینَ أَمْسٰی مُعْتَمِرًا، فَدَخَلَ مَکَّۃَ لَیْلًا، فَقَضٰی عُمْرَتَہُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَیْلَتِہِ، فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَۃِ کَبَائِتٍ، حَتّٰی إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی بَطْنِ سَرِفَ حَتّٰی جَامَعَ الطَّرِیقُ طَرِیقَ الْمَدِینَۃِ بِسَرِفَ، قَالَ مُحَرِّشٌ: فَلِذٰلِکَ خَفِیَتْ عُمْرَتُہُ عَلٰی کَثِیرٍ مِنَ النَّاسِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ بَعْدَ قَوْلِہِ کَبَائِتٍ): فَنَظَرْتُ إِلٰی ظَہْرِہِ کَأَنَّہُ سَبِیکَۃُ فِضَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۰۴)

سیدنا محرش کعبی خزاعی سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تو جعرانہ سے رات کے وقت چلے، آپ نے مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کیا اور راتوں رات واپس جعرانہ پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جعرانہ میں اس طرح صبح کی، جیسے وہاں ہی رات بسر کی ہو، حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ سے روانہ ہو کر سرف کے درمیان میں آئے تاآنکہ آپ مدینہ کے راستہ پر پہنچ گئے، محرش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اسی لیے بہت سے لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمرہ کی اطلاع نہیں ہو سکی، میں نے آپ کی پشت مبارک کو دیکھا، وہ یوں نظر آرہی تھی، جیسے چاندی کی پلیٹ ہو۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۹۲۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی: ۵/ ۲۰۰ (انظر: ۱۵۵۱۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:…ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ میں ہی تھے کہ ذو القعدہ کا مہینہ شروع ہو گیا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مال غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرے کا احرام باندھا اور راتوں رات عمرہ کر کے واپس تشریف لائے، اس کو عمرۂ جعرانہ کہا جاتا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ کو روانہ ہو گئے اور ذو القعدہ میں سے تینیا چھ دن باقی تھے کہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔