مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان

۔ (۱۱۰۶۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا تَرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دِیْنَارًا، وَلَا دِرْھَمًا، وَلَا شَاۃً، وَلَا بَعِیْرًا، وَلَا اَوْصٰی بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۷۹)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دینار، درہم، بکری اور اونٹ ترکہ میں کچھ نہیں چھوڑا اور نہ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی کسی چیز کے بارے میں کوئی وصیت کی۔

۔ (۱۱۰۷۱)۔ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَیْنَا إِزَارًا غَلِیظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْیَمَنِ، وَکِسَائً مِنَ الَّتِییَدْعُونَ الْمُلَبَّدَۃَ، قَالَ بَہْزٌ: تَدْعُونَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُبِضَ فِی ہٰذَیْنِ الثَّوْبَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۱۱)

سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں گیا، انہوں نے ہمیںیمن میں تیار ہونے والی ایک موٹی سی چادر اور ایک ایسی چادر نکال کر دکھائی جسے تم لوگ مُلَبَّدَۃ کہتے ہو اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دو چادریں زیب تن کئے ہوئے تھے۔

۔ (۱۱۰۷۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِیِّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَدْنَ أَنْ یُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ یَسْأَلْنَہُ مِیْرَاثَہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ لَھُنَّ عَائِشَۃُ: أَوَ لَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۹۰)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پاگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

۔ (۱۱۰۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْتُ بَعْدَ مَئُوْنَۃِ عَامِلِیْ وَنَفَقَۃِ نِسَائِیْ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۳)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم جو انبیاء کی جماعت ہیں،ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا، میں اپنے عاملوں اور بیویوں کے اخراجات کے بعد جو کچھ چھوڑوں، وہ صدقہ ہو گا۔

۔ (۱۱۰۷۴)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَتْ دِرْعُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرْہُونَۃً، مَا وَجَدَ مَا یَفْتَکُّہَا حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۱۶)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک زرہ کسی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک اتنی گنجائش نہیں تھی کہ آپ اسے واپس لے سکتے۔

۔ (۱۱۰۷۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَیَبْلُغُ بِہِ وَقَالَ مَرَّۃً: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِی دِینَارًا وَلَا دِرْہَمًا، مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِی وَمَئُونَۃِ عَامِلِی فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ بَعْدَ قَوْلِہِ: ((وَمَئُونَۃِ عَامِلِی۔)) قَالَ یَعْنِی عَامِلَ اَرْضِہِ۔ (مسند احمد: ۷۳۰۱)

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ورثاء دینار اور درہم تقسیم نہیں کریں گے، میں اپنی ازواج کے نان و نفقہ اور اپنے زرعی رقبہ پر مقرر کردہ عامل کے اخراجات کے بعد جو کچھ چھوڑ جاؤں، وہ صدقہ ہوگا۔

۔ (۱۱۰۷۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ فَاطِمَۃَ وَالْعَبَّاسَ أَتَیَا أَبَا بَکْرٍ یَلْتَمِسَانِ مِیرَاثَہُمَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُمَا حِینَئِذٍیَطْلُبَانِ أَرْضَہُ مِنْ فَدَکَ وَسَہْمَہُ مِنْ خَیْبَرَ، فَقَالَ لَہُمَا أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا نُورَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔)) وَإِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ہٰذَا الْمَالِ، وَإِنِّی وَاللّٰہِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُہُ فِیہِ إِلَّا صَنَعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۹)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فدک والی زمین اور خیبر والے حصہ میں سے اپنا میراث والا حق طلب کیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے فرمایا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتاہے۔ البتہ آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مال میں سے کھاتے رہیں گے، اللہ کی قسم! میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو کام جس طرح کرتے دیکھا، میںبھی ویسے ہی کروں گا۔

۔ (۱۱۰۷۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ: أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْسَلَتْ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِالْمَدِینَۃِ وَفَدَکَ وَمَا بَقِیَ مِنْ خُمُسِ خَیْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔)) إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِی ہٰذَا الْمَالِ، وَإِنِّی وَاللّٰہِ! لَا أُغَیِّرُ شَیْئًا مِنْ صَدَقَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ حَالِہَا الَّتِی کَانَتْ عَلَیْہَا فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَأَعْمَلَنَّ فِیہَا بِمَا عَمِلَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَبٰی أَبُو بَکْرٍ أَنْ یَدْفَعَ إِلٰی فَاطِمَۃَ مِنْہَا شَیْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَۃُ عَلٰی أَبِی بَکْرٍ فِی ذٰلِکَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَرَابَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِی، وَأَمَّا الَّذِی شَجَرَ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ مِنْ ہٰذِہِ الْأَمْوَالِ، فَإِنِّی لَمْ آلُ فِیہَا عَنِ الْحَقِّ، وَلَمْ أَتْرُکْ أَمْرًا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُہُ فِیہَا إِلَّا صَنَعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۵۵)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ دخترِ رسول سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج کر مدینہ منورہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مالِ فے والے حصے، فدک اور خیبر والے خمس کے بقیہ حصہ سے اپنا حصہ طلب کیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے کہ دنیوی طور پر کوئی ہمارا وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ البتہ آل محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں سے کھا سکتے ہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس صدقہ کی جو حالت اور کیفیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں تھی، میںاس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کروں گا اور میں بھی اس میں اسی طرح عمل کروں گا، جیسے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمل کرتے تھے، اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو کچھ دینے سے انکار کر دیا، اس وجہ سے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے دل میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میںکچھ ناراضگی اورغصہ آگیا، تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے اپنے رشتہ داروں کی بہ نسبت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رشتہ داروں کی صلہ رحمی زیادہ محبوب ہے، مگر اس مال کے سلسلہ میں میرے اور آپ کے درمیان جو رنجش آگئی ہے تو حقیقتیہی ہے کہ میں نے اس بارے میں راہِ صواب سے ذرہ بھی انحراف نہیں کیا اور میں نے اس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو عمل کرتے دیکھا ہے میں نے اسے نہیں چھوڑا بلکہ میں نے بھی اسی طرح کیا ہے۔

۔ (۱۱۰۷۸)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: فَغَضِبَتْ فَاطِمَۃُ عَلَیْہَا السَّلَامُ فَہَجَرَتْ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَلَمْ تَزَلْ مُہَاجِرَتَہُ حَتّٰی تُوُفِّیَتْ، قَالَ: وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّۃَ أَشْہُرٍ، قَالَ: وَکَانَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَسْأَلُ أَبَا بَکْرٍ نَصِیبَہَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ خَیْبَرَ وَفَدَکَ وَصَدَقَتِہِ بِالْمَدِینَۃِ، فَأَبٰی أَبُو بَکْرٍ عَلَیْہَا ذٰلِکَ وَقَالَ: لَسْتُ تَارِکًا شَیْئًا، کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْمَلُ بِہِ إِلَّا عَمِلْتُ بِہِ، وَإِنِّی أَخْشٰی إِنْ تَرَکْتُ شَیْئًا مِنْ أَمْرِہِ أَنْ أَزِیغَ، فَأَمَّا صَدَقَتُہُ بِالْمَدِینَۃِ فَدَفَعَہَا عُمَرُ إِلٰی عَلِیٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَہُ عَلَیْہَا عَلِیٌّ، وَأَمَّا خَیْبَرُ وَفَدَکُ فَأَمْسَکَہُمَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَقَالَ: ہُمَا صَدَقَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَتَا لِحُقُوقِہِ الَّتِی تَعْرُوْہُ وَنَوَائِبِہِ، وَأَمْرُہُمَا إِلٰی مَنْ وَلِیَ الْأَمْرَ، قَالَ: فَہُمَا عَلٰی ذٰلِکَ الْیَوْمَ۔ (مسند احمد: ۲۵)

۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہی حدیث سابق روایت کی مانند مروی ہے، البتہ اس میں تفصیل اس طرح ہے:سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ناراض ہو گئیں اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قطع تعلق کر لیا اور یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہی تھیں۔ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خیبر والے اور فدک والے اور مدینہ میں موجود حصے سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتی تھیں۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو حصہ دینے سے انکار کیا اور کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس طرح کیا کرتے تھے، میں بھی اسی طرح کروں گا اور اس میں سے کسی بھی عمل کو ترک نہیں کروں گا، مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے طرز عمل میں سے کچھ بھی چھوڑ دیا تو میں راہ راست سے بھٹک جاؤں گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جو صدقہ یعنی مال مدینہ منورہ میں تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سپرد کر دیا تھا اور اس پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غالب آگئے تھے۔ البتہ خیبر اور فدک والے حصوں کو عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے کنٹرول میں ہی رکھا اور کہا کہ یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے صدقہ ہیں،یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش آنے والی ضروریات اور حقوق کے لیے تھے، ان کا انتظام اور کنٹرول حاکمِ وقت کے پاس رہے گا، وہ اب تک اسی طرح چلے آرہے ہیں۔

۔ (۱۱۰۷۹)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْسَلَتْ فَاطِمَۃُ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ: أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْ أَہْلُہُ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا، بَلْ أَہْلُہُ، قَالَتْ: فَأَیْنَ سَہْمُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ أَبُوبَکْرٍ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِیًّا طُعْمَۃً ثُمَّ قَبَضَہُ جَعَلَہُ لِلَّذِییَقُومُ مِنْ بَعْدِہِ۔)) فَرَأَیْتُ أَنْ أَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، فَقَالَتْ: فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْلَمُ۔ (مسند احمد: ۱۴)

سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج کر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وارث آپ ہیںیا ان کے اہل خانہ ہیں؟ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وارث تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ ہی ہیں ،سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: مال فے میں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا حصہ کہاں ہے؟ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کچھ عطا فرماتا ہے پھر نبی کی وفات ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کا نائب ہی اس چیز کا حق دار ہوتا ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس حصہ کو مسلمانوں کی طرف لوٹا دوں تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ سن کر کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سنا ہے یا نہیں؟

۔ (۱۱۰۸۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ رُفَیْعٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَرَکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا مَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ اللَّوْحَیْنِ، وَدَخَلْنَا عَلٰی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ فَقَالَ: مِثْلَ ذٰلِکَ، قَالَ: وَکَانَ الْمُخْتَارُ یَقُولُ: الْوَحْیُ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹)

عبدالعزیز بن رُفیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور شداد بن معقل ہم دونوں سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف یہ چیز چھوڑ کر گئے ہیں جو ان دو گتوں کے درمیان ہے۔ ( یعنی قرآن کریم) اور ہم محمد بن علی کی خدمت میں گئے تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، عبدالعزیز نے کہا کہ مختار بن ثقفی کہا کرتا تھا کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔