مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض فضائل کا بیان

۔ (۱۱۱۰۸)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِیِّیْنَ وَخَطِیْبَھُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِھِمْ وَلَا فَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷۶)

سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور میں ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔

۔ (۱۱۱۰۹)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَضَّلَنِی رَبِّی عَلَی الْأَنْبِیَائِ عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ، أَوْ قَالَ: عَلَی الْأُمَمِ بِأَرْبَعٍ۔)) قَالَ: ((أُرْسِلْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً، وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ کُلُّہَا لِی وَلِأُمَّتِی مَسْجِدًا وَطَہُورًا، فَأَیْنَمَا أَدْرَکَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِی الصَّلَاۃُ، فَعِنْدَہُ مَسْجِدُہُ وَعِنْدَہُ طَہُورُہٗ،وَنُصِرْتُبِالرُّعْبِمَسِیرَۃَ شَہْرٍ یَقْذِفُہُ فِی قُلُوبِ أَعْدَائِی، وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۸۸)

سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے باقی انبیاء (یا باقی امتوں) پر چار چیزوں میں فضیلت دی ہے، مجھے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ساری روئے زمین میرے لیے اور میری امت کے لیے سجدہ گاہ اور ذریعۂ طہارت بنا دی گئی ہے، جس آدمی کے لیے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے اس کی مسجد اور ذریعۂ طہارت اس کے پاس ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے رعب ودبدبہ کے ذریعہ میری نصرت کی ہے، میں ابھی دشمن سے ایک ماہ کی مسافت پر ہوتا ہوں کہ اللہ میرے دشمنوں کے دلوں میںمیرا دبدبہ ڈال دیتا ہے اور اس نے ہمارے لیے اموالِ غنیمت کو حلال کیا ہے۔

۔ (۱۱۱۱۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ غَالِبٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۸۵)

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: قیامت کے دن محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساری اولادِ آدم کے سردار ہوں گے۔

۔ (۱۱۱۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنَ الْاَنْبِیَائِ نَبِیٌّ اِلَّا وَقَدْ اُعْطِیَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہٗآمَنَعَلَیْہِ الْبَشَرُ، وَاِنَّمَا کَانَ الَّذِیْ اُوْتِیْتُ وَحْیًا اَوْحَاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیَّ، وَاَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ اَکْثَرَھُمْ تَبَعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۷۲)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو اتنے معجزات اور نشانیاں عطا کی گئی ہیں کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ وحی ہے، اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔

۔ (۱۱۱۱۲)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُوْتِیْتُ بِمَقَالِیْدِ الدُّنْیَا عَلٰی فَرَسٍ اَبْلَقَ، عَلَیْہِ قَطِیْفَۃٌ مِنْ سُنْدُسٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۶۷)

سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ( مجھے ایسا منظر دکھایا گیا گویا کہ) ایک خوبصورت گھوڑا ہے، اس پر نفیس قسم کا ریشم ہے، اور اس پر دنیا بھر کے خزانوں کی چابیان رکھی ہوئی ہیں اور وہ مجھے عطا کی گئی ہیں۔

۔ (۱۱۱۱۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی أَحَدِکُمْ یَوْمٌ، لَأَنْ یَرَانِی ثُمَّ لَأَنْ یَرَانِی1، أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَہْلِہِ وَمَالِہِ وَمِثْلِہِمْ مَعَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۱۲۶)

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ضرور ایک ایسا دن آئے گا کہ تم مجھے دیکھنا چاہو گے مگر نہیں دیکھ سکو گے، اس وقت مجھے دیکھنا اور میرا دیدار کرنا اسے اہل و مال سے اور ساتھ اتنے ہی اور سے بھی زیادہ محبوب ہو گا۔

۔ (۱۱۱۱۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ فَاسْأَلُوا اللّٰہَ لِیَ الْوَسِیلَۃَ۔)) قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا الْوَسِیلَۃُ؟ قَالَ: ((أَعْلَی دَرَجَۃٍ فِی الْجَنَّۃِ، لَا یَنَالُہَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ، وَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَنَا ہُوَ۔)) (مسند احمد: ۷۵۸۸)

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو تم اللہ سے میرے لیے مقامِ وسیلہ کی دعا بھی کیا کرو۔ دریافت کیا گیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ایک انتہائی اعلیٰ مقام ہے، جو پوری کائنات میں صرف ایکآدمی کو ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا۔