مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

آپ کے چہرۂ انور اورگیسوئوں کا بیان

۔ (۱۱۱۳۱)۔ عَنْ أَبِیْ اِسْحٰقَ قَالَ: قِیلَ لِلْبَرَائِ: أَکَانَ وَجْہُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیدًا ہٰکَذَا مِثْلَ السَّیْفِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ کَانَ مِثْلَ الْقَمَرِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۷۰)

ابو اسحاق کا بیان ہے کہ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رخ انور تلوار کی مانند لمبا اور چمک دار تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح تابناک اور گول تھا۔

۔ (۱۱۱۳۲)۔ عَنْ سِمَاکٍ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَیَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِہِ وَلِحْیَتِہِ، فَإِذَا ادَّہَنَ وَمَشَطَ لَمْ یَتَبَیَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُہُ تَبَیَّنَ، وَکَانَ کَثِیرَ الشَّعْرِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْہُہُ مِثْلُ السَّیْفِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ کَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ مُسْتَدِیرًا، قَالَ: وَرَأَیْتُ خَاتَمَہُ عِنْدَ کَتِفِہِ مِثْلَ بَیْضَۃِ الْحَمَامَۃِیُشْبِہُ جَسَدَہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۰۹)

سماک سے روایت ہے کہ انہوں نے جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی اور سر کے اگلے حصہ کے بال سفید ہونے لگے تھے، جب آپ تیل لگا کر کنگھی کر لیتے تو ان کی رنگت نمایاں نہ ہوتی تھی، لیکن جب نہ تیل لگایا ہوتا اور نہ کنگھی کی ہوتی تو وہ سفیدبال نمایاں ہو جاتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سراور داڑھی کے بال گھنے تھے۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ کا چہرہ تلوار کی مانند لمبا اور چمک دار تھا؟ لیکن سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، تلوار کی طرح نہیں تھا، بلکہ سورج اور چاند کی طرح روشن اور گول تھا۔ سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مہر نبوت کو آپ کے کندھے کے قریب دیکھا، وہ کبوتری کے انڈے کے برابر باقی جسم کے مشابہ تھی۔

۔ (۱۱۱۳۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ شَعْرُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَنْصَافِ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۴۲)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کانوں کے نصف تک لمبے تھے۔

۔ (۱۱۱۳۴)۔ قَالَ کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَعْرٌ یُصِیْبُ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَضْرِبُ مَنْکِبَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۹۹)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال آپ کے کاندھوں تک لمبے تھے۔

۔ (۱۱۱۳۵)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ شَعْرِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ شَعْرُہُ رَجِلًا، لَیْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ، کَانَ بَیْنَ أُذُنَیْہِ وَعَاتِقِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۰۹)

قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کی بابت دریافت کیاتو انھوں نے کہا: آپ کے بال نہ سخت گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے، بلکہ قدرے خمیدہ تھے، آپ کے بال کندھوں اور کانوں کے درمیان ہوتے تھے۔

۔ (۱۱۱۳۶)۔ عَنْ حُمَیْدٍ: أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا رَأَیْتُ شَعْرًا أَشْبَہَ بِشَعْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ شَعَرِ قَتَادَۃَ، فَفَرِحَ یَوْمَئِذٍ قَتَادَۃُ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۷۱)

حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا:میں نے قتادہ کے بالوں سے بڑھ کر کسی کے بالوں کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کے مشابہ نہیں دیکھا۔اس دن قتادہ بہت زیادہ خوش تھے۔

۔ (۱۱۱۳۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یُجَاوِزُ شَعْرُہٗأُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۷۲)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال طوالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کانوں سے نہیں بڑھتے تھے۔

۔ (۱۱۱۳۸)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَا رَأَیْتُ مِنْ ذِیْ لِمَّۃٍ أَحْسَنَ فِیْ حُلَّۃٍ حَمْرَائَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَہٗشَعْرٌیَضْرِبُ مَنْکِبَیْہِ، بَعِیْدَ مَا بَیْنَ الْمَنْکِبَیْنِ، لَیْسَ بِالْقَصِیْرِ وَلَا بِالطَّوِیْلِ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۷)

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ کسی ایسے آدمی کو جس کے بال کندھوں تک طویل ہوں اور وہ سرخ لباس زیب تن کیے ہوئے ہو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گیسو کندھوں تک ہوتے، کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ تھا، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سینہ کشادہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قد نہ بہت پست تھا، نہ بہت زیادہ طویل ۔

۔ (۱۱۱۳۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ شَعْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دُوْنَ الْجُمَّۃِ وَفَوْقَ الْوَفْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۳)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کندھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے تک ہوتے تھے۔

۔ (۱۱۱۴۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنْتُ اِذَا فَرَقْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاْسَہٗصَدَعْتُفَرْقَہُعَنْیَافُوْخِہِ، وَاَرْسَلْتُ نَاصِیَتَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۸۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیانیعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔

۔ (۱۱۱۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ رِمْثَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْضِبُ بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ، وَکَانَ شَعْرُہٗیَبْلُغُ کَتِفَیْہِ اَوْ مَنْکِبَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۳۶)

سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہندی اور کتم کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔

۔ (۱۱۱۴۲)۔ عَنْ اُمِّ ھَانِیٍّ قَالَتْ: قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ مَرَّۃً وَلَہُ اَرْبَعُ غَدَائِرَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۲۸)

سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار مینڈھیاں تھیں۔