مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امر کا بیان کہ جمادات اور حیوانات کا گفتگو کرنا اور کھجور کے تنے کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی میں رونابھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ہے

۔ (۱۱۲۷۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّی لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَکَّۃَ کَانَ یُسَلِّمُ عَلَیَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیَالِیَ بُعِثْتُ) اِنِّی لَأَعِرُفُہُ الْآنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۱۳)

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں، وہ بعثت سے پہلے یا بعثت والی راتوں کو مجھ کو سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔

۔ (۱۱۲۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قاَلَ: عَدَا الذِّئْبُ عَلٰی شَاۃٍ فَأَخَذَھَا فَطَلَبَہُ الرَّاعِیْ فَانْتَزَعَھَا مِنْہُ فَأَقْعَی الذِّئْبُ عَلٰی ذَنَبِہِ قَالَ: أَلَا تَتْقِی اللّٰہَ! تَنْزِعُ عَنِّیْ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ اِلَیَّ؟ فَقَالَ: یَا عَجَبِیْ! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلٰی ذَنَبِہِ یُکَلِّمُنِیْ کَلَامَ الْإِنْسِ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَثْرِبَیُخْبِرُ النَّاسَ بِاَنْبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِیْیَسُوْقُ غَنَمَہُ حَتّٰی دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ فَزَوَاھَا اِلٰی زَاوِیَۃِ مِنْ زَوَایَاھَا، ثُمَّّ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، ثُمَّّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِیْ: ((أَخْبِرْھُمْ)) فَأَخْبَرَھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُکَلِّمَ السِّبَاعُ الْاِنْسَ، وَیُکَلِّمَ الرَجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَیُخْبِرُُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۱۴)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کی خبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنے بکریوں کو ہانکنا شروع کیا،یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خبر دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔

۔ (۱۱۲۷۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: بَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِیْ غُنَیمَۃٍ لَہُ یَھُشُّ عَلَیْھَا فِیْ بَیْدَائِ ذِی الْحُلَیْفَۃِ اِذْ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ فَجَھْجَأَہُ الرَجُلُ فَرَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتَّی اسْتَنْقَذَ مِنْہُ شَاتَہُ، ثُمَّّ اِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتّٰی أَقْعٰی مُسَتَذْفِرًا بِذَنَبِہِ مُقَابِلَ الرَّجُلِ، فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِیْ حَمْزَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۶)

۔(دوسری سند) بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی ذو الحلیفہ میں بیداء مقام پر اپنی بکریوں پر درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھا، اچانک ایک بھیڑ ئیے نے حملہ کیا اور ایک بکری لے گیا، لیکن اس بندے نے اس کو ڈانٹا، چلّایا اور اس کو پتھر مارا اور اس سے اپنی بکری چھڑا لی، پھر وہ بھیڑیا اپنی دم کو ٹانگوں کے درمیان کر کے اس آدمی کے سامنے بیٹھ گیا، ……۔ آگے وہی روایت ذکر کی۔

۔ (۱۱۲۸۰)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَیْخٌ أَدْرَکَ الْجَاھِلِیَّۃَ وَنَحْنُ فِیْ غَزْوَۃِ رُوْدِسَ یُقَالُ لَہُ:اِبْنُ عَبْسٍ، قَالَ: کُنْتُ أَسُوْقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَۃً، قَالَ: فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِھَا یَا آلَ ذَرِیْحٍٍ، قَوْلٌ فَصِیْحٌ، رَجُلٌ یَصِیْحُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ فَوَجَدْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ بِمَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۱۵)

مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹ سے یہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔