سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں تھے، اچانک ایک بدّو نے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلند آواز سے پکارا اور کہا: اے محمد! ہم نے اس سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، اپنی آواز کو پست رکھ، تجھے اس طرح آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنی آواز کو پست نہیں کروں گا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کے انداز کے مطابق ہی جواب دیا، سفیان راوی نے کہا: جیسے اس نے بات کی تھی، اسی طرح کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا، پھر اس نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کا خیال ہے، جو کچھ لوگوں سے محبت تو کرتا ہے، لیکن وہ ان کو ملا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اسی آدمی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس کو محبت ہو گی۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے تھے، جبکہ وہ اس میں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے آ کر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو خبر دی کہ یہ نبی ٔ کریم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، پس وہ آئیں اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ بستر پر چمڑے کے ایک ٹکڑے پر نچڑ رہا ہے، انھوں نے اپنا بیوٹی باکس کھولا اور اس پسینے کو چوس کر اس کو اپنی شیشیوں میں نچوڑنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرا گئے اور پوچھا: او ام سلیم! کیا کر رہی ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے بچوں کے لیے اس کی برکت کی امید رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے درست کیا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا تو میری ماں ایک شیشی لے کر آئیں اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ جمع کرنے لگیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور فرمایا: ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کو پسینہ ہے، ہم اس کو اپنی خوشبو میں مِکس کریں گے، جبکہ یہ پسینہ تو سب سے پاکیزہ اور اچھی خوشبو ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ کیا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بال مونڈے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سر مبارک کے ایک جانب کے بال پکڑے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس لے آئے، وہ ان کو اپنی خوشبو میں ملایا کرتی تھیں۔
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی میں اپنا سر مبارک منڈوائے تو سر کی دائیں جانب کے بال لیے اور مجھے پکڑا کر فرمایا: انس! یہ بال ام سلیم کے پاس لے جاؤ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص کر کے ام سلیم کو یہ بال بھیجے ہیں تو وہ سر کی دوسری جانب کے بالوں کی رغبت کرنے لگے، کچھ بال کسی نے لیے اور کچھ کسی نے۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث عبیدہ سلمانی کو بیان کی تو انھوں نے کہا: اگر میرے پاس ان میں سے ایک بال بھی ہوتا تو وہ مجھے اس سارے سونے اور چاندی سے محبوب ہوتا، جو زمینکے اوپر والی سطح اور اس کے اندر پایا جاتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مونڈ رہا تھا، صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لے رکھا تھا، وہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو بال بھی گرے، اس کو کوئی نہ کوئی آدمی پکڑ لے۔
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ قربان گاہ میں نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک قریشی آدمی کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانیاں کر رہے تھے، لیکن نہ قربانی ان کو ملی اور نہ ان کے انصاری ساتھی کو، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اپنا سر منڈوایا تو وہ بال ان کو دیئے اور انھوں نے وہ بال مردوں میں تقسیم کر دیئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناخن تراشے تو وہ ان کے ساتھی کو دیئے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ سے رنگے ہوئے تھے۔