مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث

۔ (۳۷/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ عُمَرَ، قَال: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَلْتَوِی مَا یَجِدُ مَا یَمْلَأُ بِہِ بَطْنَہُ مِنَ الدَّقَلِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹)

سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بل دار اور ٹیڑھا ہوتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ردّی اور خشک قسم کی کھجوریں بھی اتنی مقدار میں نہیں ہوتی تھیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیٹ بھر کر کھا سکیں۔

۔ (۳۸/۱۱۳۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبِیتُ اللَّیَالِی الْمُتَتَابِعَۃَ طَاوِیًا، وَأَہْلُہُ لَا یَجِدُونَ عَشَائً، قَال: وَکَانَ عَامَّۃُ خُبْزِہِمْ خُبْزَ الشَّعِیرِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۳)

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آل لگاتار کئی راتیں بھوک کی حالت میں گزارتے تھے، ان کے پاس شام کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور ان کی عام روٹی جو کی ہوتی تھی۔

۔ (۳۹/۱۱۳۲۲)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ، أَخْبَرَنَا رَجُلٌ، وَالرَّجُلُ کَانَ یُسَمَّی فِی کِتَابِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَمْرَو بْنَ عُبَیْدٍ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِیُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَال: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ حَتَّی مَضَی لِوَجْہِہِ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَکَانَ أَبِی رَحِمَہُ اللّٰہُ قَدْ ضَرَبَ عَلَی ہَذَا الْحَدِیثِ فِی کِتَابِہِ، فَسَأَلْتُہُ فَحَدَّثَنِی بِہِ، وَکَتَبَ عَلَیْہِ صَحَّ صَحَّ إِنَّمَا ضَرَبَ أَبِی عَلَی ہَذَا الْحَدِیثِ؛ لِأَنَّہُ لَمْ یَرْضَ الرَّجُلَ الَّذِی حَدَّثَ عَنْہُ یَزِیدُ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۱۱)

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آل سالن اور گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (دنیائے فانی سے) روانہ ہو گئے۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ امام احمد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اپنی کتاب میں اس حدیث پر کراس لگا دیا تھا، جب میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور اس پر صَحّ صَحّ کی علامت لگائی اور انھوں نے کہا: میرے باپ نے اس حدیث پر اس لیے کراس لگا دیا تھا کہ وہ اس راوی کو پسند نہیں کرتے تھے، جس سے یزید بیان کرتا ہے۔

۔ (۴۰/۱۱۳۲۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ، حَدَّثَنَا حَرِیزٌ، حَدَّثَنَا سُلَیْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِیُّ قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیّ: یَقُول: مَا کَانَ یَفْضُلُ عَنْ أَہْلِ بَیْتِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُبْزُ الشَّعِیرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵۲)

سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں سے جو کی روٹی باقی نہیں بچتی تھی، (یعنی کھانے کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ بمشکل ہی گھر والوں کو کفایت کرتی تھی)۔

۔ (۴۱/۱۱۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ قِیلَ لَہُ: ہَلْ رَأَی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّقِیَّ قَبْلَ مَوْتِہِ بِعَیْنِہِ،یَعْنِی الْحُوَّارَی؟ قَال: مَا رَأَی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّقِیَّ بِعَیْنِہِ حَتَّی لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فَقِیلَ لَہ: ہَلْ کَانَ لَکُمْ مَنَاخِلُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَال: مَا کَانَتْ لَنَا مَنَاخِلُِ قِیلَ لَہ: فَکَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِالشَّعِیرِ؟ قَال: نَنْفُخُہُ فَیَطِیرُ مِنْہُ مَا طَارَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۰۲)

سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے وفات سے پہلے سفید آٹا دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی آنکھوں سے سفید آٹا نہیں دیکھا تھا، یہاں تک کہ وفات پا گئے، پھر سیدنا سہل سے یہ پوچھا گیا کہ کیا عہد ِ نبوی میں تمہارے پاس چھاننیاں ہوتی تھیں؟ انھوں نے کہا: ہمارے پاس چھاننیاں نہیں ہوتی تھیں، ان سے کہا گیا: پھر تم لوگ جو کے آٹے کا کیا کرتے تھے (اس میں چھلکا ہوتا ہے)؟ انھوں نے کہا: بس پھونک مار لیتے تھے، سو جو چھلکا اڑ گیا، وہ اڑ گیا، (باقی آٹا گوندھ دیتےتھے)۔