مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

دختران رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ

۔ (۱۱۳۸۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رُقَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلِ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَہْلَہُ۔)) فَلَمْ یَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْقَبْرَ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۳۱)

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا انتقال ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے آج رات اپنی بیوی سے ہم بستری کی ہو وہ قبر میں داخل نہ ہو۔ پس سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قبر میں داخل نہ ہوئے۔

۔ (۱۱۳۸۱)۔ عَنْ أَبِی أُماَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ کُلْثُوْمٍ بْنَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی الْقَبْرِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی} قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِی أَقَالَ بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَمْ لَا، فَلَمَّا بُنِیَ عَلَیْہَا لَحْدُہَا طَفِقَ یَطْرَحُ اِلَیْہِمُ الْجَبُوْبَ، وَیَقُوْلُ: ((سُدُّوْا خِلَالَ اللَّبِنِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا إِنَّ ہٰذَا لَیْسَ بِشَیْئٍ وَلٰکِنَّہُ یَطِیْبُ بِنَفْسِ الْحَیِّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۰)

سیّدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی} … ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ (سورۂ طہ، ۵۵) سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی تھییا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔

۔ (۱۱۳۸۲)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وُلِدَ لِی اللَّیْلَۃَ غُلَامٌ فَسَمَّیْتُہُ بِاسْمِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ)) قَالَ ثُمَّ دَفَعَہُ إِلَی أُمِّ سَیْفٍ امْرَأَۃِ قَیْنٍ،یُقَالُ لَہُ: أَبُو سَیْفٍ بِالْمَدِینَۃِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیہِ وَانْطَلَقْتُ مَعَہُ فَانْتَہَیْتُ إِلٰی أَبِی سَیْفٍ، وَہُوَ یَنْفُخُ بِکِیرِہِ وَقَدِ امْتَلَأَ الْبَیْتُ دُخَانًا، قَالَ: فَأَسْرَعْتُ الْمَشْیَ بَیْنَیَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَبَا سَیْفٍ! جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَأَمْسَکَ، قَالَ: فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِالصَّبِیِّ فَضَمَّہُ إِلَیْہِ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُہُ بَیْنَیَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَکِیدُ بِنَفْسِہِ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَیْنَا رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((تَدْمَعُ الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا یُرْضِی رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ، وَاللّٰہِ! إِنَّا بِکَ یَا إِبْرَاہِیمُ لَمَحْزُونُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۴۵)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آج رات مجھے بیٹا عطا فرمایا ہے، میں نے اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام پر اس کا نام رکھا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو رضاعت کے لیے مدینہ کے ایک لوہار سیدنا ابو سیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہسیدہ ام سیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حوالے کیا، ایک بار رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو دیکھنے کے لیے چل کر گئے، میں بھی آپ کے ساتھ گیا، جب میں وہاں پہنچا تو ابو سیف اپنی بھٹی میں پھونک مار رہا تھا اور کمرہ دھوئیں سے بھر چکا تھا۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے آگے جلدی چل کر گیا اور میں نے ان سے کہا: ابو سیف! اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے ہیں۔ تو وہ اپنے کام سے رک گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے۔ آپ نے بچے کو بلوا کر اسے سینے سے لگایا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس حال میں دیکھا کہ وہ اپنی جان اللہ کے سپرد کر رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں میںآنسو آگئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آنکھ آنسو بہار رہی ہے، اور دل غمگین ہے، لیکن ہم زبان سے وہی بات کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اے ابراہیم ہم تیری جدائی پر بہت زیادہ غمگین ہیں۔

۔ (۱۱۳۸۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا کَانَ أَرْحَمَ بِالْعِیَالِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِبْرَاہِیمُ مُسْتَرْضَعًا فِی عَوَالِی الْمَدِینَۃِ وَکَانَ یَنْطَلِقُ، وَنَحْنُ مَعَہُ، فَیَدْخُلُ الْبَیْتَ وَإِنَّہُ لَیُدَّخَنُ وَکَانَ ظِئْرُہُ قَیْنًا، فَیَأْخُذُہُ فَیُقَبِّلُہُ ثُمَّ یَرْجِعُ، قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا تُوُفِّیَ إِبْرَاہِیمُ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ إِبْرَاہِیمَ ابْنِی وَإِنَّہُ مَاتَ فِی الثَّدْیِ، فَإِنَّ لَہُ ظِئْرَیْنِیُکْمِلَانِ رَضَاعَہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۲۶)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کے حق میں مہربان کسی کو نہیں پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ کی بالائی بستیوں میں رضاعت کے لیے بھیجے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جاتے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہوتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھر میں داخل ہو جاتے، حالانکہ اس گھر میں دھواں اٹھ رہا ہوتا تھا، کیونکہ ان کا رضاعی والد لوہار تھا، پھر رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اٹھاتے، اسے بوسے دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔ عمرو راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے، چونکہ یہ دودھ پینے کی مدت کے اندر اندر فوت ہوا ہے، اس لیے اس کی جنت میں دو رضاعی مائیںہوں گی، جو اس کی رضاعت کو پورا کریں گی۔

۔ (۱۱۳۸۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَاتَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ سَتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا، فَاَمَرَبِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُدْفَنَ فِی الْبَقِیْعِ، وَقَالَ: ((اِنَّہٗلَہٗمُرْضِعًایُرْضِعُہُ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۴۹)

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ پسر رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سولہ ماہ کی عمر میں انتقال ہوگیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے جنت البقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے جنت میں ایک دایہ دودھ پلائے گی۔

۔ (۱۱۳۸۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَقَدْ تُوُفِّیَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ شَہْرًا فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۳۶)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اٹھارہ ماہ کی عمر میں انتقال ہوا تھا، آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی۔

۔ (۱۱۳۸۶)۔ عَنِ السُّدِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۳۸۳)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ زندہ رہتے تو وہ سچے نبی ہوتے۔

۔ (۱۱۳۸۷)۔ ثَنَا ابْنُ أَبِیْ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِیْ أَوْفٰییَقُوْلُ: لَوْ کَانَ بَعْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَبِیٌّ مَا مَاتَ اِبْنُہُ اِبْرَاہِیْمُ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۱۹)

اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد بھی کوئی نبی آنا ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم علیہ السلام فوت نہ ہوتے۔