مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اہل بیت اطہار کا ذکر خیر


۔ (۱۱۳۹۲)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَمُرُّ بِبَیْتِ فَاطِمَۃَ سِتَّۃَ أَشْہُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَی الْفَجْرِ فَیَقُولُ: ((الصَّلَاۃَیَا أَہْلَ الْبَیْتِ {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} [الاحزاب: ۳۳]۔ (مسند احمد: ۱۳۷۶۴)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چھ ماہ تک یہ معمول رہا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازفجر کے وقت سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: اے اہل بیت! نماز ادا کرو۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم (اہل بیت) سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کرکے مکمل طور پر پاک صاف کرنا چاہتا ہے۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۱۳۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۱۲۷، وابویعلی: ۳۹۷۹، والطیالسی: ۲۰۵۹ (انظر: ۱۳۷۲۸)