مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ دل لگی اور ان کو خوش کرنے کا تذکرہ

۔ (۱۱۴۱۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنْتُ اَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَیَجِیْئُ صَوَاحِبِیْ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ فاِذَا رَأَیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْقَمَعْنَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُدْخِلُہُنَّ عَلَیَّ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۲)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔

۔ (۱۱۴۱۱)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ لَہَا: ((إِنِّی أَعْرِفُ غَضَبَکِ إِذَا غَضِبْتِ، وَرِضَاکِ إِذَا رَضِیتِ)) قَالَتْ: وَکَیْفَ تَعْرِفُ ذٰلِکَ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ: یَا مُحَمَّدُ، وَإِذَا رَضِیتِ قُلْتِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۱۳)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے: تم جب ناراض یا خوش ہوتی ہو تو میں تمہاری ناراضییا خوشی کو جان جاتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیسے جان جاتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم ناراض ہوتی ہو تو یوں کہتی ہو: اے محمد اور جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: اے اللہ کے رسول۔

۔ (۱۱۴۱۲)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنِّی لَأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً، وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ ذَاکَ؟ قَالَ: ((إِذَا کُنْتِ عَنِّی رَاضِیَۃً فَإِنَّکِ تَقُولِینَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَضْبٰی تَقُولِینَ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَام)) قُلْتُ: أَجَلْ وَاللّٰہِ، مَا أَہْجُرُ إِلَّا اسْمَکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۲۲)

۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: تم جب مجھ سے خوش یا ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم راضی ہوتی ہو تویوں کہتی ہو: محمد کے رب کی قسم۔ اور جب تم ناراض ہو تی ہو تو یوں کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم۔ میں نے عرض کیا: بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ کی قسم میں صرف آپ کا نام ترک کرتی ہوں (دل میں آپ کی محبت اور مقام وہی رہتا ہے)۔

۔ (۱۱۴۱۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أُرِیتُکِ فِی الْمَنَامِ مَرَّتَیْنِ وَرَجُلٌ یَحْمِلُکِ فِی سَرَقَۃٍ مِنْ حَرِیرٍ فَیَقُولُ: ہٰذِہِ امْرَأَتُکَ، فَأَقُولُ إِنْ یَکُ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُمْضِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۴۳)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دو مرتبہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں، کوئی آدمی تمہیں ایک سفید ریشمی ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے تھا، وہ کہتا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں کہتا تھا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا ۔

۔ (۱۱۴۱۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَابِ حُجْرَتِیْ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُوْنَ بِحِرَابِہِمْ یَسْتُرُنِیْ بِرِدَائِہِ لِکَیْ أَنْظُرَ اِلٰی لَعِبِہِمْ ثَمَّ یَقُوْمُ حَتّٰی أَکُوْنَ اَنَا الَّتِیْ أَنْصَرِفُ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۰)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود واپس پھرتی تھی۔

۔ (۱۱۴۱۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: وَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَقْنِی عَلٰی مَنْکِبَیْہِ لِأَنْظُرَ إِلٰی زَفْنِ الْحَبَشَۃِ حَتَّی کُنْتُ الَّتِی مَلِلْتُ فَانْصَرَفْتُ عَنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۶۶)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری ٹھوڑی اپنے کندھوں پر رکھوائی تاکہ میں حبشیوں کے جنگی کرتب دیکھ لوں، یہاں تک کہ انہیں دیکھ دیکھ کر میں ہی تھک کر پیچھے ہٹ گئی۔

۔ (۱۱۴۱۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ: اَنَّ الْحَبَشَۃَ لَعِبُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَانِیْ، فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْکِبِہِ حَتّٰی شَبِعْتُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ حبشیوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دکھانے کے لیے جنگی کھیلوں کا مظاہر پیش کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا لیا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی،یہاں تک کہ میں نے جی بھر کر یہ منظر دیکھا۔

۔ (۱۱۴۱۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُونَ فَزَجَرَہُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((دَعْہُمْ یَا عُمَرُ، فَإِنَّہُمْ بَنُو أَرْفِدَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۸۰)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیا ن ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، وہاں حبشی لوگ نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو ڈانٹ دیا۔لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو رہنے دو، یہ بنو ارفدہ ہیں، (یعنی ایسا کرنا ان کے معمولات میں سے ہے۔)

۔ (۱۱۴۱۸)۔ أَنَا ابْنُ أَبِی الزَّنَّادِ: عَنْ اَبِی الزَّنَّادِ قَالَ: قَالَ لِی عُرْوَۃُ: إِنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ لَتَعْلَمُ یَہُودُ أَنَّ فِی دِینِنَا فُسْحَۃً: ((إِنِّی أُرْسِلْتُ بِحَنِیفِیَّۃٍ سَمْحَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۸۹)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ اس روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (عمر! ان کو کھیلنے دو) تاکہ یہودیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں کافی وسعت ہے، بے شک مجھے آسان دین و شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔