سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے: تم جب ناراض یا خوش ہوتی ہو تو میں تمہاری ناراضییا خوشی کو جان جاتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیسے جان جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ناراض ہوتی ہو تو یوں کہتی ہو: اے محمد اور جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: اے اللہ کے رسول۔
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: تم جب مجھ سے خوش یا ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم راضی ہوتی ہو تویوں کہتی ہو: محمد کے رب کی قسم۔ اور جب تم ناراض ہو تی ہو تو یوں کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم۔ میں نے عرض کیا: بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ کی قسم میں صرف آپ کا نام ترک کرتی ہوں (دل میں آپ کی محبت اور مقام وہی رہتا ہے)۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دو مرتبہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں، کوئی آدمی تمہیں ایک سفید ریشمی ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے تھا، وہ کہتا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں کہتا تھا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود واپس پھرتی تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ٹھوڑی اپنے کندھوں پر رکھوائی تاکہ میں حبشیوں کے جنگی کرتب دیکھ لوں، یہاں تک کہ انہیں دیکھ دیکھ کر میں ہی تھک کر پیچھے ہٹ گئی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حبشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھانے کے لیے جنگی کھیلوں کا مظاہر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا لیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی،یہاں تک کہ میں نے جی بھر کر یہ منظر دیکھا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیا ن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، وہاں حبشی لوگ نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹ دیا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو رہنے دو، یہ بنو ارفدہ ہیں، (یعنی ایسا کرنا ان کے معمولات میں سے ہے۔)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (عمر! ان کو کھیلنے دو) تاکہ یہودیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں کافی وسعت ہے، بے شک مجھے آسان دین و شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔