مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان

۔ (۱۱۴۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیُّ النَّاسِ کَانَ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: عَائِشَۃُ، قُلْتُ: فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: أَبُوْھَا۔ (مسند احمد: ۲۶۵۷۴)

عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ انھوں نے کہا: عائشہ سے، میں نے کہا: مردوں میں سے ؟ انھوں نے کہا: اس کے باپ سے۔

۔ (۱۱۴۲۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اِنَّہُ لَیُہَوِّنُ عَلَیَّ أَنِیْ رَأَیْتُ بِیَاضَ کَفِّ عَائِشَۃَ فِی الْجَنَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۹۰)

ام المؤمنین سید عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میرے لیےیہ بات اطمینان بخش ہے کہ میں نے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ہتھیلی کی چمک جنت میں دیکھی ۔

۔ (۱۱۴۲۱)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُہْدِیَتْ لَہُ ہَدِیَّۃٌ فِیہَا قِلَادَۃٌ مِنْ جَزْعٍ، فَقَالَ: ((لَأَدْفَعَنَّہَا إِلٰی أَحَبِّ أَہْلِی إِلَیَّ۔)) فَقَالَتْ النِّسَائُ ذَہَبَتْ بِہَا ابْنَۃُ أَبِی قُحَافَۃَ فَدَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمَامَۃَ بِنْتَ زَیْنَبَ فَعَلَّقَہَا فِی عُنُقِہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲۱۱)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میںیمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اس کو دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹییعنی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔

۔ (۱۱۴۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِۃِ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ: ((ھٰذِہِ قِسْمَتِیْ، (ثُمَّ یَقُوْلُ) اَللّٰھُمَّ ھٰذَا فِعلِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۲۴)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔

۔ (۱۱۴۲۳)۔ عَنْ سُمَیَّۃَ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَدَ عَلٰی صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ فِی شَیْئٍ، فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ: یَا عَائِشَۃُ! أَرْضِی عَنِّی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَکِ یَوْمِی، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَہَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْہُ بِالْمَائِ لِیَفُوحَ رِیحُہُ، فَقَعَدَتْ إِلٰی جَنْبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِلَیْکِیَا عَائِشَۃُ، إِنَّہُ لَیْسَیَوْمَکِ۔)) قَالَتْ: {ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَائُ} وَأَخْبَرَتْہُ بِالْأَمْرِ فَرَضِیَ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نا راض ہوگئے، انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آ کر ان سے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مجھ سے راضی کرا دیں تو میں اپنی ایک باری آپ کو دوں گی۔ انہوںنے کہا: ٹھیک ہے، پس انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا اور اس پر پانی چھڑکا، تاکہ اس کی خوشبو مہک اٹھے، اور پھر جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! پرے ہٹ جائو، آج تمہاری باری نہیں ہے۔ لیکن سیدہ نے جواباً یہ آیت پڑھی: {ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْیَشَائُ} … یہ تو اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا کر دیتا ہے۔ پھر انہوں نے ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے راضی ہوگئے۔

۔ (۱۱۴۲۴)۔ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَا رَسُولَ اللّٰہِ، کُلُّ نِسَائِکَ لَہَا کُنْیَۃٌ غَیْرِی، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتَنِی أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) فَکَانَ یُقَالُ لَہَا: أُمُّ عَبْدِ اللّٰہِ حَتّٰی مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۹۶)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سوا آپ کی تمام ازواج نے کنیت رکھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم ام عبداللہ کنیت رکھ لو۔ پس ان کو ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوئی بچہ جنم دیئے بغیر سیدہ وفات پا گئیں۔