عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ انھوں نے کہا: عائشہ سے، میں نے کہا: مردوں میں سے ؟ انھوں نے کہا: اس کے باپ سے۔
ام المؤمنین سید عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لیےیہ بات اطمینان بخش ہے کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہتھیلی کی چمک جنت میں دیکھی ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میںیمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اس کو دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹییعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے نا راض ہوگئے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر ان سے کہا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے راضی کرا دیں تو میں اپنی ایک باری آپ کو دوں گی۔ انہوںنے کہا: ٹھیک ہے، پس انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا اور اس پر پانی چھڑکا، تاکہ اس کی خوشبو مہک اٹھے، اور پھر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! پرے ہٹ جائو، آج تمہاری باری نہیں ہے۔ لیکن سیدہ نے جواباً یہ آیت پڑھی: {ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْیَشَائُ} … یہ تو اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا کر دیتا ہے۔ پھر انہوں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہوگئے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سوا آپ کی تمام ازواج نے کنیت رکھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ام عبداللہ کنیت رکھ لو۔ پس ان کو ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوئی بچہ جنم دیئے بغیر سیدہ وفات پا گئیں۔