مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان

۔ (۱۱۴۳۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاضِعًا یَدَیْہِ عَلٰی مَعْرَفَۃِ فَرَسٍ وَہُوَ یُکَلِّمُ رَجُلًا، قُلْتُ: رَأَیْتُکَ وَاضِعًا یَدَیْکَ عَلٰی مَعْرَفَۃِ فَرَسِ دِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ وَأَنْتَ تُکَلِّمُہُ، قَالَ: ((وَرَأَیْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام، وَہُوَ یُقْرِئُکِ السَّلَامَ۔)) قَالَتْ: وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، جَزَاہُ اللّٰہُ خَیْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِیلٍ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِیلُ، قَالَ سُفْیَانُ: الدَّخِیلُ الضَّیْفُ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۶۶)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے دیکھا،میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ان سے باتیں کرتے دیکھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو وہ جبریل علیہ السلام تھے اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے تھے۔ میں نے جواباً کہا:وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اللہ تعالیٰ اس ساتھی اور مہمان کو جزائے خیر دے، وہ بہترین ساتھی او ربہترین مہمان ہے۔ امام احمد کے شیخ امام سفیان بن عینیہ نے الدخیل کا معنی مہمان بیان کیا۔

۔ (۱۱۴۴۰)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَائِشَۃُ! ھٰذَا جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَقْرَأُ عَلَیْکِ السَّلَامَ۔)) فَقُلْتُ: عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، تَرَی مَا لَا نَرٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۶۹)

۔(دوسری سند) ام المؤمنین سیدۂ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا:عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اے اللہ کے رسول! آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔

۔ (۱۱۴۴۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((اِنَّ فَضْلَ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۲۱)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ کی باقی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے، جیسے سارے کھانوں پر ثریدکی فضیلت ہے۔

۔ (۱۱۴۴۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((فَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۴)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ کو باقی تمام عورتوں پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے، جیسے ثرید کو باقی سارے کھانوں پر۔

۔ (۱۱۴۴۳)۔ عَن أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیرٌ،وَلَمْیَکْمُلْ مِنَ النِّسَائِ غَیْرُ مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِیَۃَ امْرَأَۃِ فِرْعَوْنَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۰۴)

سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو باقی تمام عورتوںپر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثریدکو باقی سارے کھانوں پر۔