سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک صحابی امہات المؤمنین کے اونٹوں کو ہانکا کرتا تھا، اس کو انجشہ کہا جاتا تھا، ایک بار اس نے اونٹوں کو تیز تیز چلانا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: انجشہ! ان آبگینوں کو آرام آرام سے لے کر چلو۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے اور ایک حدی خوان حدی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں والے اونٹوں کو چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے، اس سے اس نے (مزید حدی کے ذریعے) ان کو تیزی کے ساتھ چلانا شروع کر دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: انجشہ! تجھ پر افسوس ہے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج کے پاس آئے۔ تو ایک شتر بان (حدی خوان) ان کے اونٹوں کو ہانکے جا رہا تھا۔ اس کا نام انجشہ تھا۔ آپ نے فرمایا، انجشہ! تمہارا بھلا ہو۔ تم ان آبگینوں کو ذرا آرام سے لے چلو۔ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسا لفظ بولا کہ اگر تم میں سے کوئی اور آدمییہ لفظ بولتا تو تم اسے معیوب گردانتے۔ یعنی آپ نے اس سے کہا کہ ان آبگینوں کو آرام سے لے چلو۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہمسایہ فارس کا رہنے والا تھا، وہ بہترین قسم کا شور با بناتا تھا۔ (دوسری روایت کے لفظ ہیں کہ اس کا تیار کردہ شورباانتہائی مزیدار ہوتا تھا۔) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آپ کو وہ بلانے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ (یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا ) بھی؟ (یعنی ان کو بھی ساتھ لاؤں) ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: کیایہ عائشہ بھی؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اور یہ عائشہ؟ اب کی بار اس نے کہا: جی ہاں، اس کے بعد آپ دونوں خوشی خوشی اس کے گھر گئے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ تم ازواج کے معاملے نے مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں فکر مند کر رکھا ہے اور تمہاری باتوں کو وہی لوگ برداشت کر سکیں گے جو صبر کرنے والے ہوں گے۔
۔(دوسری سند) ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر جھک کر انتہائی شفقت سے فرمایا: میں اپنے بعد جو امور چھوڑ کر جائوں گا، تم میری بیویوں کا معاملہ میرے نزدیک ان سب سے زیادہ اہم ہے۔ اللہ کی قسم! تمہارے اوپر جو لوگ شفقت کریں گے، وہ صبر اور صدق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے۔