سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں،اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو ان کے بعد ہوں گے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو (تابعین) کے بعد ہوں گے، (ان سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں)، اس کے بعد جھوٹ اس قدر عام ہو جائے گا کہ ایک آدمی گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دینے لگے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت میںداخل ہونا چاہتا ہے وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کا التزام کرے، کیونکہ شیطان ہر اس آدمی کے ساتھ رہتا ہے جو اکیلا ہو اور وہ شیطان دو آدمیوں سے ذرا دور ہو جاتا ہے، تم میں سے کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے، کیونکہ ایسے دو افراد کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس آدمی کو نیکی کرکے خوشی اور گناہ کرکے ناخوشی ہو وہ مومن ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ما بین کچھ تلخ کلامی سی ہوگئی، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ جب اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے ہی میرے صحابہ کو کچھ نہ کہا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ یا کئی پہاڑوں کے برابر سونا بھی خرچ کردو تم ان کے اعمال یعنی درجوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعر ی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم کچھ انتظار کر لیں اور آپ کی معیت میں عشاء کی نماز ادا کرکے جائیں۔ چنانچہ ہم انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم یہیں ٹھہرے رہے ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! بس ہم نے سوچا کہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ کی معیت میں ادا کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر آسمان کیطرف سر اٹھایا کرتے تھے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ستارے آسمان کے امین (نگران و محافظ)ہیں،جبیہ تارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، یعنی آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ میں بھی اپنے صحابہ کے لیے اسی طرح امین ہوں، جب میں دنیا سے چلا جائوں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے اور آزمائشیں آجائیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ بھی میری امت کے لیے امین اور محافظ ہیں، جب میرے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر ان فتنوں کا دور شروع ہو جائے گا، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے بعد انہیں سب وشتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، پس جس نے ان سے محبت کی، تو دراصل اس نے میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو درحقیقت اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے دراصل مجھے ایذاء پہنچائی، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو دکھ پہنچایا تو اللہ عنقریب اس کا مؤاخذہ کرے گا۔
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا: ہم صحابہ افضل ہیںیا ہم سے بعد میں آنے والے لوگ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بعد والوں میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ تمہارے ایک مد یا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو اس نے قلب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انسانوں کے قلوب میں بہتر پایا، اس لیے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور ان کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا۔ پھر اس نے اس دل کے انتخاب کے بعدباقی بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی اوراصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلوب کو تمام انسانوں کے قلوب سے بہتر پایا، اس لیے اس نے انہیں اپنے نبی کے وزراء ( اورساتھی) بنا دیا،جو اس کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔ پس مسلمان جس بات کو بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بہتر ہی ہوتی ہے اور مسلمان جس بات کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہی ہوتی ہے۔ 1