TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11532 - انصار کے فضائل و مناقب - فضائل و مناقب کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 24 in this chapter
انصار کے فضائل و مناقب
۔ (۱۱۵۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ النَّاسَ لَیَکْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ یَقِلُّونَ، فَمَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ أَمْرًا یَنْفَعُ فِیہِ أَحَدًا، فَلْیَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۹)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میںبڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔
11532
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۵۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۲۷، ۳۶۲۸، ۳۸۰۰(انظر: ۲۶۲۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… انصاریوں کی کوتاہی کو محسوس کرنا یا اس وجہ سے ان کی مذمت کرنا یا ان سے دور ہونا، ان سب امور کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔

Related Chapters

234
1
انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
Sunnan Ibn e Maja
2
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
3
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
5
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
6
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
7
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
Mishkat
8
بَاب مَنَاقِب أبي بكر
حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان
Mishkat
9
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
10
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
Musnad Ahmad
11
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
12
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
13
(2) CHAPTER. The virtues ot tne emigrants (i.e., Muhajirun) and their merits.
مہاجرین کے مناقب اور فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
14
Chapter: The Virtues Of Abu Talhah Al-Ansari (RA)
حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل:۔
Sahih Muslim
15
Chapter: The Virtues Of Ubayy Bin Ka'b And A Group Of The Ansar (RA)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انصار کی ایک جماعت کے فضائل:۔
Sahih Muslim
16
Chapter: The Virtues Of The Ansar (RA)
انصار رضوان اللہ عنھم اجمعین کے فضائل
Sahih Muslim
17
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
18
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
19
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
Sunnan Ibn e Maja
20
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
21
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
22
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
23
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
24
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
Sunnan Ibn e Maja
25
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
26
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
27
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
28
علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
29
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
30
سلمان، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
31
بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
32
خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
33
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
34
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
35
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
36
اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
37
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
38
قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب
Sunnan Ibn e Maja
39
علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق
Sunnan Ibn e Maja
40
علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
41
Chapter: What Has Been Mentioned About The Virtue Of The Salat
باب: فضائل نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
43
Chapter: From It: Whoever Does Not Ask Allah, He Gets Angry With Him
باب: فضائل دعا سے متعلق ایک اور باب​
Jam e Tirmazi
44
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
Jam e Tirmazi
49
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
50
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Musnad Ahmad
11549
۔ (۱۱۵۴۹)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِیُّ، وَہُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ تِیبَ عَلَیْہِمْ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَہُ فَقَالَ فِی خُطْبَتِہِ: ((أَمَّا بَعْدُ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَإِنَّکُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِیدُونَ وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِیدُ عَلٰی ہَیْئَتِہَا الَّتِی ہِیَ عَلَیْہَا الْیَوْمَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَیْبَتِی الَّتِی أَوَیْتُ إِلَیْہَا، فَأَکْرِمُوا کَرِیمَہُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۲)
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری،یہ کعب ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ اس کو کسی صحابی نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر تشریف لائے اور اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! اے مہاجرین کی جماعت! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انصار آج اپنی پہلی سی تعداد میںنہیں ہیں،یہ انصار میرے خاص اور راز دان لوگ ہیں، جن کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے معزز شخص کا اکرام کرتے رہنا اور ان میں سے کوتاہی کرنے والے سے درگزر کرنا۔
Musnad Ahmad
136
۔ (۱۳۶)۔عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہٗ، وَلَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ تَعَالٰی، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِیْ، وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَّا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۸۸)
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زیدؓ) سے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص مجھ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔
Musnad Ahmad
636
۔ (۶۳۶)۔عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِی جَدَّتِیْ أَ نَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَاصَلٰوۃَ لِمَنْ لَا وُضُوئَ لَہُ، وَلَا وُضُوئَ لِمَنْ لَّمْ یَذْکُرِاسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَا یُؤْمِنُ بِیْ وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۲۴)
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زیدؓ) سے سنا کہ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے وضوء پر بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھی، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں سکے گا۔
Musnad Ahmad
6176
۔ (۶۱۷۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا الْأَنْصَارَ لِیُقْطِعَ لَھُمُ الْبَحْرَیْنِ، فَقَالُوْا: لَا، حَتّٰی تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا الْمُہَاجِرِیْنَ مِثْلَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۰۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کی زمین ان کو الاٹ کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، (ہم اس وقت تک یہ زمین نہیں لیں گے) جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی طرح کی جاگیر نہیں دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تم میرے بعد اپنے آپ پر ترجیح کو پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات ہو جائے۔
Musnad Ahmad
10654
۔ (۱۰۶۵۴)۔ عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ فِی عُلُوِّ الْمَدِینَۃِ فِی حَیٍّ،یُقَالُ لَہُم: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِیہِمْ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً، ثُمَّ إِنَّہُ أَرْسَلَ إِلٰی مَلَإٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، قَالَ: فَجَائُ وْا مُتَقَلِّدِینَ سُیُوفَہُمْ، قَالَ: فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَاحِلَتِہِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفُہُ، وَمَلَأُ بَنِی النَّجَّارِ حَوْلَہُ، حَتّٰی أَلْقٰی بِفِنَائِ أَبِی أَیُّوبَ، قَالَ: فَکَانَ یُصَلِّی حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ، وَیُصَلِّی فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّہُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلٰی مَلَإٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ فَجَائُ وْا، فَقَالَ: ((یَا بَنِی النَّجَّارِ! ثَامِنُونِی حَائِطَکُمْ ہٰذَا۔)) فَقَالُوا: وَاللّٰہِ! لا نَطْلُبُ ثَمَنَہُ إِلَّا إِلَی اللّٰہِ، قَالَ: وَکَانَ فِیہِ مَا أَقُولُ لَکُمْ کَانَتْ فِیہِ قُبُورُ الْمُشْرِکِینَ، وَکَانَ فِیہِ حَرْثٌ، وَکَانَ فِیہِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقُبُورِ الْمُشْرِکِینَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّیَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، قَالَ: ((فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلٰی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَیْہِ حِجَارَۃً، قَالَ: وَجَعَلُوا یَنْقُلُونَ ذٰلِکَ الصَّخْرَ، وَہُمْ یَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُمْ یَقُولُ: ((اللّٰہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۴۰)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں بنو عمرو بن عوف کے قبیلہ میں چودہ راتیں قیام فرمایا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ماموں قبیلہ بنو نجار کے معززین کے ہاں پیغام بھجوایا، وہ ہتھیار سجا کر آگئے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:وہ منظر گویا اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے ہیں اور بنو نجار کے معززین کی جماعت آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے سامنے اپنا سامان رکھا، اس وقت تک چونکہ مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی اس لئے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہیں نماز ادا فرما لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا اور بنو نجار کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طلب فرمایا، وہ آگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو نجار! تم میرے ساتھ اپنے اس قطعہ ارضی کی قیمت طے کرو۔ لیکن انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ سے لیں گے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس قطعہ میں مشرکین کی قبریں تھیں اور کچھ کھیتیاں(اور کھنڈرات) اور کھجوروں کے کچھ درخت تھے، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو اکھیڑدیا جائے، پس ان کو اکھاڑ دیا گیا اور کھیتوں ( یا کھنڈرات) کے متعلق حکم دیا اور ان کو مسمار کر کے برابر کر دیا گیا اور کھجوروں کے درختوں کو کاٹ دینے کا حکم دیا اور انہیں کاٹ دیا گیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کھجوروں کے تنوں کو مسجد کے قبلہ کے رُخ ایک قطار میں کھڑا کر کے دیوار بنا دی گئی، اور دونوں پہلوں کی دیواروں کی جگہ پتھر چُن دئیے گئے، صحابہ کرام ان پتھروں کو اُٹھا اُٹھا کر لاتے اور یہ شعر پڑھتے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ساتھ یہ کلمات فرما رہے تھے: اَللَّہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ (یااللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرمایا۔)
Musnad Ahmad
11093
۔ (۱۱۰۹۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: لَمَّا أَعْطٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَعْطٰی مِنْ تِلْکَ الْعَطَایَا فِی قُرَیْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ یَکُنْ فِی الْأَنْصَارِ مِنْہَا شَیْئٌ، وَجَدَ ہٰذَا الْحَیُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِی أَنْفُسِہِمْ حَتّٰی کَثُرَتْ فِیہِمُ الْقَالَۃُ حَتّٰی قَالَ قَائِلُہُمْ: لَقِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْمَہُ فَدَخَلَ عَلَیْہِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ ہٰذَا الْحَیَّ قَدْ وَجَدُوْا عَلَیْکَ فِی أَنْفُسِہِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِی ہٰذَا الْفَیْئِ الَّذِی أَصَبْتَ، قَسَمْتَ فِی قَوْمِکَ وَأَعْطَیْتَ عَطَایَا عِظَامًا فِی قَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ یَکُنْ فِی ہٰذَا الْحَیِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَیْئٌ، قَالَ: ((فَأَیْنَ أَنْتَ مِنْ ذٰلِکَ یَا سَعْدُ!)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِی وَمَا أَنَا، قَالَ: ((فَاجْمَعْ لِی قَوْمَکَ فِی ہٰذِہِ الْحَظِیرَۃِ۔)) قَالَ: فَخَرَجَ سَعْدٌ فَجَمَعَ النَّاسَ فِی تِلْکَ الْحَظِیرَۃِ، قَالَ، فَجَائَ رِجَالٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ فَتَرَکَہُمْ فَدَخَلُوا، وَجَائَ آخَرُونَ فَرَدَّہُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاہُ سَعْدٌ فَقَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ لَکَ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَتَاہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ بِالَّذِی ہُوَ لَہُ أَہْلٌ ثُمَّ قَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! مَا قَالَۃٌ بَلَغَتْنِی عَنْکُمْ، وَجِدَۃٌ وَجَدْتُمُوہَا فِی أَنْفُسِکُمْ، أَلَمْ آتِکُمْ ضُلَّالًا فَہَدَاکُمُ اللّٰہُ، وَعَالَۃً فَأَغْنَاکُمُ اللّٰہُ، وَأَعْدَائً فَأَلَّفَ اللّٰہُ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ؟)) قَالُوا: بَلْ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ، قَالَ: ((أَلَا تُجِیبُونَنِییَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ!)) قَالُوْا: وَبِمَاذَا نُجِیبُکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ وَلِلّٰہِ وَلِرَسُولِہِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ، قَالَ: ((أَمَا وَاللّٰہِ! لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَصُدِّقْتُمْ: أَتَیْتَنَا مُکَذَّبًا فَصَدَّقْنَاکَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاکَ، وَطَرِیدًا فَآوَیْنَاکَ، وَعَائِلًا فَأَغْنَیْنَاکَ، أَوَجَدْتُمْ فِی أَنْفُسِکُمْ یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِی لُعَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا؟ تَأَلَّفْتُ بِہَا قَوْمًا لِیُسْلِمُوا وَوَکَلْتُکُمْ إِلٰی إِسْلَامِکُمْ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّاۃِ وَالْبَعِیرِ،وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رِحَالِکُمْ؟ فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَکَ النَّاسُ شِعْبًا وَسَلَکَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَکْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، اللَّہُمَّ ارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَأَبْنَائَ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاء َ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ۔)) قَالَ: فَبَکَی الْقَوْمُ حَتّٰی أَخْضَلُوا لِحَاہُمْ وَقَالُوْا: رَضِینَا بِرَسُولِ اللّٰہِ قِسْمًا وَحَظًّا، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتَفَرَّقْنَا۔ (مسند احمد: ۱۱۷۵۳)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اموالِ غنیمت میں سے قریش اور دیگر عرب قبائل کو بہت کچھ عنایت فرمایا اور ان میں سے انصار کو کچھ بھی نہ ملا تو اس کی وجہ سے انصار کے اس گروہ نے اپنے دلوں میں کچھ انقباض محسوس کیایہاں تک کہ اس سلسلہ میں بہت سی باتیں ہونے لگیںیہاں تک کہ بعض نے تو یہ تک کہہ دیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ان کی قوم کی محبت غالب آگئی ہے۔ سعد بن عبادہ خزرجی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کی خدمت میں آکر عرض کیا اللہ کے رسول آپ نے اس مال غنیمت کی جس انداز سے تقسیم کی ہے لوگوں کے دلوں میں اس کی وجہ سے وسوسے پیدا ہوئے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قوم، قریش اور دیگر عرب قبائل کو تو بڑے بڑے عطیے عنایت فرما دئیے اور انصار کے قبیلہ کو کچھ بھی نہیں ملا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ! ایسی باتیں ہو رہی ہیں تو تم کہاں ہو ؟ انہوں نے عرض کیااللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں تو اپنی ہی قوم کا فرد ہوں۔ لیکن میرے دل میں تو ایسی کوئی بات نہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی قوم ( انصار) کو اس باڑے میں جمع کرو۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے اور اپنی ساری قوم جو جمع کر کے اس باڑے میں لے آئے۔ کچھ مہاجرین آئے تو سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آگئے کچھ اور بھی آنا چاہا تو سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں واپس بھیج دیا، جب سب لوگ جمع ہو گئے تو سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق انصار جمع ہو چکے ہیں۔ تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے اللہ کے شایانِ شان تعریف کی پھر فرمایا، اے انصار کی جماعت ! تمہاری طرف سے یہ کیسی بات مجھ تک پہنچی ہے؟ کیا تم نے اپنے دلوں میں کچھ رنجش محسوس کی ہے ؟ کیایہ حقیقت نہیں کہ میں تمہارے پاس آیا تو تم راہ راست سے بھٹکے ہوئے تھے تو اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز کیا؟ اور تم تنگ درست تھے تو اللہ نے تمہیں مال دار بنا دیا؟ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اللہ نے تمہارے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا ؟ سب انصار نے کہا کہ یہ بالکل صحیح ہے اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بہت فضل اور احسان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اے انصار! کیا تم میری ایک بات نہیں مانو گے؟ وہ بولے اللہ کے رسول! کونسی بات؟ ہم پر تو اللہ اور اس کے رسول کا بہت احسان اور فضل ہے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تمہاری بات ہو گی بھی درست ( کہ تم یوں کہو) کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس ایسی حالت میں آئے جب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ( یعنی رسول کی ) تکذیب کرتے تھے ہم ( انصار) نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ( آپ کی قوم نے) بے یارومددگارچھوڑا ہوا تھا۔ ہم ( انصار) نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی، قوم نے آپ کو اپنے شہر اور وطن سے بے دخل کر دیا تھا ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رہنے کی جگہ دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ( رسول اور مسلمان،مہاجرین) تنگ دست تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مال دار کیا تو اے انصار کیا تم نے دنیوی معمولی متاع کی وجہ سے دلوں میں رنجش پیدا کر لی، میں نے تو ان لوگوں کو یہ مال اس لیے دیا ہے تاکہ وہ اسلام میں پختہ ہو جائیں اور میں نے تمہیںتو تمہارے اسلام کے سپرد کیا، اے انصار! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کر لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اللہ کے رسول کو ساتھ لے کر گھروں کو واپس لوٹو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے اگر ہجرت والی سعادت نہیں ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں اور انصار کسی دوسری گھاٹی میں سے گزریں تو میں بھی اس گھاٹی میں چلوں گا جہاں سے انصار چلیں گے۔ یا اللہ انصار پر، ان کی اولادوں پر اور ان کی اولادوں کی اولادوں پر سب پر رحم فرما۔ ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باتیں سن کر وہ لوگ اس قدر بلک بلک کر رونے لگے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ اور وہ کہنے لگے ہم اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تقسیم اور اپنے حصہ پر راضی ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لے آئے اور ہم بھی چلے آئے۔
Musnad Ahmad
11094
۔ (۱۱۰۹۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْأَنْصَارَ فَقَالَ، ((أَفِیکُمْ أَحَدٌ مِنْ غَیْرِکُمْ۔)) قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْہُمْ۔)) قَالَ حَجَّاجٌ: أَوْ مِنْ أَنْفُسِہِمْ، فَقَالَ: ((إِنَّ قُرَیْشًا حَدِیثُ عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ وَمُصِیبَۃٍ، وَإِنِّی أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَہُمْ وَأَتَأَلَّفَہُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْیَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بُیُوتِکُمْ؟ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَسَلَکَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَکْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۹۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور دریافت فرمایا: کیا تمہارے اندر تمہارے علاوہ کوئی دوسرا فرد تو نہیں ہے؟ انہوں نے بتلایا: جی نہیں، صرف ہمارا ایک بھانجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھانجا تو اسی قوم کا ہی فرد ہوتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش تازہ تازہ کفر چھوڑ کر اور شکست کی مصیبت سے دوچار ہوئے ہیں، میں ان کو کچھ دے دلا کر ان کی تالیف قلبی کرنا چاہتا ہوں، کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ لوگ دنیا کا مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو جاتے ہوئے اللہ کے رسول کو ساتھ لے کر جاؤ، اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار کسی پہاڑی گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو ترجیح دیتے ہوئے اسی میں چلوں گا۔
Musnad Ahmad
11224
۔ (۱۱۲۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی، عَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِی قَدْ ذَہَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَہْدِ، قَالَ: فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلٰی أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْسَ أَحَدٌ یَقْبَلُنَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْطَلَقَ بِنَا إِلٰی أَہْلِہِ فَإِذَا ثَلَاثُ أَعْنُزٍ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ اَرْبَعُ اَعْنُزٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((احْتَلِبُوا ہٰذَا اللَّبَنَ بَیْنَنَا)) قَالَ: فَکُنَّا نَحْتَلِبُ فَیَشْرَبُ کُلُّ إِنْسَانٍ نَصِیبَہُ، وَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَصِیبَہُ، فَیَجِیئُ مِنَ اللَّیْلِ فَیُسَلِّمُ تَسْلِیمًا لَا یُوقِظُ نَائِمًا وَیُسْمِعُ الْیَقْظَانَ، ثُمَّ یَأْتِی الْمَسْجِدَ فَیُصَلِّی، ثُمَّ یَأْتِی شَرَابَہُ فَیَشْرَبُہُ، قَالَ: فَأَتَانِی الشَّیْطَانُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَقَالَ: مُحَمَّدٌ یَأْتِی الْأَنْصَارَ فَیُتْحِفُونَہُ وَیُصِیبُ عِنْدَہُمْ مَا بِہِ حَاجَۃٌ إِلٰی ہٰذِہِ الْجُرْعَۃِ فَاشْرَبْہَا، قَالَ: مَا زَالَ یُزَیِّنُ لِی حَتّٰی شَرِبْتُہَا، فَلَمَّا وَغَلَتْ فِی بَطْنِی وَعَرَفَ أَنَّہُ لَیْسَ إِلَیْہَا سَبِیلٌ، قَالَ: نَدَّمَنِی، فَقَالَ: وَیْحَکَ مَا صَنَعْتَ شَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَیَجِیئُ وَلَا یَرَاہُ فَیَدْعُو عَلَیْکَ فَتَہْلِکَ فَتَذْہَبُ دُنْیَاکَ وَآخِرَتُکَ، قَالَ: وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ مِنْ صُوفٍ کُلَّمَا رَفَعْتُہَا عَلٰی رَأْسِی خَرَجَتْ قَدَمَایَ وَإِذَا أَرْسَلْتُ عَلٰی قَدَمَیَّ خَرَجَ رَأْسِی وَجَعَلَ لَایَجِیئُ لِی نَوْمٌ، قَالَ: وَأَمَّا صَاحِبَایَ فَنَامَا، فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمَ کَمَا کَانَ یُسَلِّمُ، ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ فَصَلّٰی فَأَتٰی شَرَابَہُ فَکَشَفَ عَنْہُ فَلَمْ یَجِدْ فِیہِ شَیْئًا فَرَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ، قَالَ: قُلْتُ: الْآنَ یَدْعُو عَلَیَّ فَأَہْلِکُ، فَقَالَ: ((اَللّّٰہُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِی وَاسْقِ مَنْ سَقَانِی)) قَالَ: فَعَمَدْتُ إِلَی الشَّمْلَۃِ فَشَدَدْتُہَا عَلیَّ فَأَخَذْتُ الشَّفْرَۃَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی الْأَعْنُزِ أَجُسُّہُنَّ أَیُّہُنَّ أَسْمَنُ فَأَذْبَحُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُنَّ حُفَّلٌ کُلُّہُنَّ فَعَمَدْتُ إِلٰی إِنَائٍ لِآلِ مُحَمَّدٍ، مَا کَانُوا یَطْمَعُونَ أَنْ یَحْلِبُوا فِیہِ، وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّۃً أُخْرٰی: أَنْ یَحْتَلِبُوا فِیہِ، فَحَلَبْتُ فِیہِ حَتّٰی عَلَتْہُ الرَّغْوَۃُ، ثُمَّ جِئْتُ بِہِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَمَا شَرِبْتُمْ شَرَابَکُمُ اللَّیْلَۃَیَا مِقْدَادُ؟)) قَالَ: قُلْتُ اشْرَبْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِی، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ اشْرَبْ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِی، فَأَخَذْتُ مَا بَقِیَ فَشَرِبْتُ، فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَوِیَ فَأَصَابَتْنِی دَعْوَتُہُ ضَحِکْتُ حَتّٰی أُلْقِیتُ إِلَی الْأَرْضِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِحْدٰی سَوْآتِکَ یَا مِقْدَادُ! قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ کَانَ مِنْ أَمْرِی کَذَا صَنَعْتُ کَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا کَانَتْ ہٰذِہِ إِلَّا رَحْمَۃً مِنَ اللّٰہِ، أَلَا کُنْتَ آذَنْتَنِی نُوقِظُ صَاحِبَیْکَ ہٰذَیْنِ فَیُصِیبَانِ مِنْہَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِی إِذَا أَصَبْتَہَا وَأَصَبْتُہَا مَعَکَ مَنْ أَصَابَہَا مِنَ النَّاسِ،(وَفِیْ لَفْظٍ: إِذَا أَصَابَتْنِی وَإِیَّاکَ الْبَرَکَۃُ فَمَا أُبَالِی مَنْ أَخْطَأَتْ)۔ (مسند احمد: ۲۴۳۱۳)
سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرے دو ساتھی اس حال میں آئے کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے ہمارے کان اور آنکھیں کام کرنے سے جواب دے چکے تھے (ایک روایت میں ہے کہ ہم شدید بھوک سے دو چار تھے) ہم اپنے آپ کو صحابہ کرام کے سامنے پیش کرنے لگے (تاکہ کوئی ہمیں اپنامہمان بنالے) لیکن کوئی بھی ہمیں بطورِ مہمان لے جانے کے لیے تیار نہ ہوا، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں چلے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے، وہاں تین (اور ایک راویت کے مطابق چار) بکریاں موجود تھیں۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے درمیان تقسیم کرو۔ پس ہم دودھ دوہتے اور ہر آدمی اپنا حصہ نوش کر لیتا اور ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حصہ بچا رکھتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کسی وقت تشریف لاتے تو اس قدر آواز سے سلام کہتے کہ کسی سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور جاگتا آدمی سن لیتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز والی جگہ پر تشریف لاتے، نماز ادا فرماتے، پھر آپ دودھ والی جگہ جا کر دودھ نوش فرماتے۔ سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات شیطان نے میرے دل میں وسوسہ ڈالا کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو انصارکے ساتھ جاتے ہیں، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحائف پیش کرتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں سے کچھ نہ کچھ کھا پی آتے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان چند گھونٹوں کی چنداں حاجت نہیں ہوتی۔میں یہ پی لوں تو اس سے کیا ہو گا؟ وہ بار بار مجھے یہ خیال دلاتا اور اس بات کو میرے لیے خوش نما کرتا رہا، حتی کہ میں وہ دودھ پی گیا۔ جب دودھ میرے پیٹ میں پہنچ گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب اس کے نکلنے کی کوئی بھی صورت نہیں تو شیطان مجھے چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ اور کہہ گیا کہ تجھ پر افسوس ہے۔ یہ تو نے کیا کیا؟ تم محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حصے کا دودھ پی گئے، وہ آکر دودھ نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تم ہلاک ہو جائو گے، تمہاری تو دنیا بھی تباہ اور آخرت بھی برباد ہو جائے گی، میرے اوپر ایک چھوٹی سی ادنی چادر تھی، میں اسے سر پر ڈالتااتو پائوں ننگے ہو جاتے اور اگر پائوں پر ڈالتا تو سر چادر سے باہر نکل آتا،بس میں اسی کشمکش میں رہا اور مجھے نیند نہ آئی، میرے دونوں ساتھی آرام سے سوئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور حسب معمول سلام کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کی جگہ پر نماز ادا کی۔ اس کے بعد آپ دودھ کے پاس گئے۔ ڈھکنا اٹھایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے برتن میں کچھ نہ پایا۔ آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، میں نے سوچا کہ اب آپ مجھ پر بد دعا کریں گے اور میں تباہ و برباد ہو جائوں گا۔ مگر آپ نے فرمایا: اَللّّٰہُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِی وَاسْقِ مَنْ سَقَانِی (یا اللہ! جس نے مجھے کھانا کھلایا تو اسے کھانا عطا فرما اور جس نے مجھے کچھ پلایاتو اسے پلا)۔ سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے چادر کھینچ کر اپنے اوپر کس لی اور چھری سنبھالی اور میں بکریوں کو ٹٹولنے لگا کہ دیکھوں ان میں سے کونسی بکری زیادہ موٹی تازی ہے کہ تاکہ اسے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ذبح کروں۔ میں نے دیکھا تو ان سب کے تھن دودھ سے لبریز تھے، میں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خانوادہ کے ایک ایسے برتن کا قصد کیا، جس میں دودھ دوھنے کی انہیں امید نہ تھی۔1 میں نے اس میں دودھ دوہایہاں تک کہ اس پر جھاگ آگئی، پھر میں وہ دودھ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: مقداد! کیا آج رات آپ لوگوں نے دودھ نوش نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نوش فرمائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دودھ پیا ! یعنی اتنا زیادہ دودھ نہیں ہوتا تھا کہ ان کو امید ہو کہ اس برتن میں بھی دودھ ڈالنے کی ضرورت محسوس ہو گی گویا وہ دودھ والا برتن زائد پڑا رہتا تھا۔ (عبداللہ رفیق) اور پھر مجھے عنایت فرمایا۔ میں نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مزید پئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرما کر برتن مجھے تھما دیا، اس کے بعد جو بچاوہ میں نے پیا، جب مجھے یقین ہوا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوب سیر ہو چکے ہیں اور میں آپ کی دعا کا حق دار بن چکا ہوں۔ میں اس قدر ہنسا کہ ہنستے ہنستے زمین پر لیٹ گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مقداد! یہ تمہاری ایک نا مناسب حرکت ہے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ساتھ تو آج یہ معاملہ پیش آیا اور میں یہ کام کر بیٹھا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی رحمت تھی (اور دوسری روایت کے لفظ ہیں: یہ آسمان سے نازل شدہ برکت تھی) تم نے پہلے مجھے کیوں نہ بتلایا، ہم تمہارے ان دونوں ساتھیوں کو بھی بیدار کر لیتے اور وہ بھی اس سے فیضیاب ہو جاتے۔ مقداد کہتے ہیں:میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے!جب آپ اور آپ کا ساتھ میںاس برکت کو حاصل کر چکا ہوں تو اب مجھے اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کہ کسی اور کو ملی ہے یا نہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ جب آپ کو اور مجھے یہ برکت نصیب ہو چکی ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کون اس سے محروم رہا۔
Musnad Ahmad
11286
۔ (۱۱۲۸۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: کَانَ أَھْلُ بَیْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَھُمْ جَمَلٌ یَسْنُوْنَ عَلَیْہِ، وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتُصْعِبَ عَلَیْہِمْ فَمَنَعَہُمْ ظَہْرَہٗ،وَإِنَّالْأَنْصَارَجَائُوْاإِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: إِنَّہُ کَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِیْ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ اسْتُصْعِبَ عَلَیْنَا وَمَنَعَنَا ظَہْرَہٗ،وَقَدْعَطِشَالزَّرْعُوَالنَّخْلُ،فَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((قُوْمُوْا۔)) فَقَامُوْا، فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِیْ نَاحِیَۃٍ، فَمَشَیالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہٗ،فَقَالْتِالْأَنْصَارُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّہُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْکَلْبِ الْکَلِبِ، وَإِنَّا نَخَافُ عَلَیْکَ صَوْلَتَہٗ،فَقَالَ: ((لَیْسَ عَلَیَّ مِنْہُ بَأْسٌ۔)) فَلَمَّّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ نَحْوَہُ حَتّٰی خَرَّ سَاجِداً بَیْنَیَدَیْہِ، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَا صِیَتِہِ أَذَلَّ مَا کَانَتْ قَطُّ حَتّٰی أَدْخَلَہُ فِی الْعَمَلِ، فَقَالَ لَہٗأَصْحَابُہٗ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ھٰذِہِ بَہِیْمَۃٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَکَ وَنَحْنُ نَعْقِلُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَّسْجُدَ لَکَ، فَقَالَ: ((لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ، وَلَوْ صَلُحَ لِبَشَرٍأَن یَّسْجُدَ لِبَشَرٍلَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا مِنْ عِظَمِ حَقِّہِ عَلَیْہَا، وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ، لَوْ کَانَ مِنْ قَدَمِہِ إِلٰی مَفْرِقِ رَأْسِہِ قُرْحَۃً تَنْبَجِسُ بِالْقَیْحِ وَالصَّدِیْدِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْہُ فَلَحَسَتْہُ مَا أَدَّتْ حَقَّہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۲۶۴۱)
سیدنا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انصاریوں کے ایک گھرانے کا اونٹ تھا، جس پروہ پانی لاد کر لاتے اور فصلوں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ اونٹ سر کش ہو گیا اور اپنی پشت پر کوئی وزن اٹھانے سے انکاری ہو گیا۔ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارا ایک اونٹ تھا ،جس پر ہم فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی لاد کر لایا کرتے تھے، اب وہ ضدی اور سر کش ہو گیا ہے اور اپنی پشت پر کوئی وزن نہیں لادنے دیتا۔ ہماری کھیتیاں اور کھجوروں کے درخت خشک ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایاـ: اٹھو۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باغ میں داخل ہوئے، وہ اونٹ باغ کے ایک کونے میں تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف چل کر گئے، انصار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! وہ باؤلے کتے کی طر ح باؤلا ہو چکا ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر حملہ نہ کردے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی طرف سے کوئی اندیشہ نہیں۔ اونٹ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لپک کرآیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی پیشانی کے بال پکڑے تووہ ازحد مطیع و تابع فرمان ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کام میں لگا دیا، صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بے عقل جانور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سجدہ کرتا ہے ،جبکہ ہم تو عقل مند ہیںاور ہمیں زیادہ حق پہنچتا ہے کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سجدہ کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنا روا نہیں، اگر کسی انسان کے لیے کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میںبیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر شوہر کے بہت حقوق ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شوہر پائوں سے سر کی چوٹی تک پھوڑوں سے بھرا ہوا ہو اور ان میں سے خون اور پیپ رستی ہو، اور بیوی آکر اسے چاٹ چاٹ کر صاف کرے، تب بھیوہ اپنے شوہر کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکتی۔