مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

انصار کے فضائل و مناقب


۔ (۱۱۵۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ النَّاسَ لَیَکْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ یَقِلُّونَ، فَمَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ أَمْرًا یَنْفَعُ فِیہِ أَحَدًا، فَلْیَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۹)

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میںبڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۵۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۲۷، ۳۶۲۸، ۳۸۰۰(انظر: ۲۶۲۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… انصاریوں کی کوتاہی کو محسوس کرنا یا اس وجہ سے ان کی مذمت کرنا یا ان سے دور ہونا، ان سب امور کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔