عبد خیر ہمدانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے: لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتلائوں کہ اس امت میں نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے؟ پھر انہوںنے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتلائوں جو نبی کے بعد امت میں دوسرے درجہ پر ہے؟ پھر انہوںنے خود ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ اور پھر کہا: اگر میں چاہوں تو تمہیں اس آدمی کے متعلق بتلا سکتا ہوں جو تیسرے درجہ پر ہے۔ عبد خیر کہتے ہیں کہ یہ کہہ کرو ہ خاموش رہے۔ ہم یہی سمجھے کہ وہ اپنے آپ کو مراد لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!، اگر میں نے خود نہ سنا ہو تو میرےیہ کان بہرے ہو جائیں۔
ابو حجیفہ، جنہیں علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، ان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیںیہ نہ بتلائوں کہ اس امت میں نبی کے بعد افضل ترین آدمی کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بتلائیں اور میرا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن انھوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، ان کے بعد سیدناعمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، پھر انہوں نے اس کا نام نہ لیا۔
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فضیلت و مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آگے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نائب کے طور پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے اور تیسرا درجہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ان کے بعد ہم فتنوں میں مبتلا ہوگئے اور اللہ جس سے چاہے گا، درگزر فرمائے گا۔
عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی پہرہ داروں میں سے تھے، وہ منبر کے قریب بیٹھے تھے، انہوںنے مجھے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر آکر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا اور کہا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں۔ پھر کہا: اللہ جہاں چاہتا ہے، خیر وبرکت نازل کر دیتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔
ابن ابی حازم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے علی بن حسین کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کیا مقام تھا؟ انہوںنے کہا: (ان دو ہستیوں کا وہی مقام تھا) جو اس گھڑی میں ان کا حاصل ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آرہا ہے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم نے ان کو مبارکباد دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ ہم نے انہیں مبارک باد دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر اپنا سر کھجور کے چھوٹے درختوں کے نیچے کر لیا اور فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو آنے والا علی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے،اورہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر کسی مشورہ میں تم دونوں کی رائے ایک ہو تو میں تمہاری رائے سے اختلاف نہیں کروں گا۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ابو بکر اور عمر کی اقتداء کرنا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوںنے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ایک دفعہ ایک آدمی بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے بیل نے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہ بات سن کر ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بیل باتیں کرنے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر اور عمرکا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے حملہ کرکے ایک بکری کو اچک لیا، اس نے اس کا پیچھا کرکے اسے جا لیا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، تو بھیڑیئے نے بول کر کہا: ارے تو نے آج تو اسے مجھ سے چھڑا لیا، فتنوں کے دنوں میں جب لوگ مویشیوں کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور اس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا (محافظ) نہ ہوگا، تب ان کو مجھ سے کون بچائے گا؟ لوگوں نے یہ سن کر بھی ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرنے لگا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر کا اور عمر کا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنتی بزرگوں اور نوجوانوںکے سردار ہوں گے، ماسوائے انبیاء و رسل کے۔
عبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوںنے سارے امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوںنے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔